بلندی پر سانس لینے میں  دُشواری جدید سائنس اور قرآن مجید کی روشنی میں


آکسیجن فضا میں 21 فیصد بلحاظ حجم اور پانی میں 88.8 فیصد بلحاظ وزن پائی جاتی ہے ۔ یہ ایک بے رنگ ،بے بو گیس گیس ہوتی ہے یہ پانی میں معمولی حل پذیر گیس ہے ۔پانی میں تھوڑی سی مقدار میں آکسیجن حل ہونے سے پانی کے جاندار مچھلیاں وغیرہ اور تمام سمندری جاندار پانی میں سانس لیتے ہیں ۔ آرگینک کمپاؤنڈ مثلاً گلوکوز،سٹارچ،سیلولوز،چکنائیوں اورپروٹین میں آکسیجن ہوتی ہے ۔ پودے فوٹو سنتھیسز کے عمل میں گلوکوز کے ساتھ ساتھ آکسیجن بھی پیدا کرتے ہیں ۔  سانس لیتے ہوئے ہوا سے آکسیجن ہمارے پھیپھڑوں میں جاتی ہے اور خون میں حل ہو کر ہیموگلوبن کے ذریعے جسم کے تمام زندہ خلیوں میں جاتی ہے جہاں یہ گلوکوز سے مل کر انرجی پیدا کرتی ہے اور جو کاربن ڈائی آکسائڈ (CO2)   اس عمل میں پیدا ہوتی ہے پھیپھڑوں کے ذریعے باہر فضا میں خارج ہوتی ہے ۔
1772ء میں کارل شيلے نے پوٹاشيم نائٹریٹ (KNO3) کو گرم کر کے آكسيجن گیس تیار کی، لیکن ان کا یہ کام  1777ء میں شائع ہوا۔ 1774ء میں جوزف پرسٹلے نے مرکیورک آکسائڈ (HgO) کو گرم کر کے آكسيجن گیس کو تیار کیا۔ اےنٹوني لےووجير نے اس گیس کی خصوصیات کو بیان کیا اور اس کا نام آكسيجن رکھا، جس کا مطلب ہے "تیزاب پیدا کرنے یا بنانے والا"۔
سانس جانداروں کے لیے اس قدر ضروری ہے کہ اگر دماغ کو چند منٹ آکسیجن نہ ملے تو یہ فقظ ایک مشت خاک سے زیادہ کچھ نہیں رہتا ۔ بدن کا تمام نظام ریت کے محل کی طرح زمین بوس ہو جائے گا۔سانس جسم میں آکسیجن دینے کا واحد ذریعہ ہے ۔ ضرورت کےمطابق سانسوں کا زیرو بم آکسیجن کی مقدار گھٹاتا بڑھاتا ہے ۔ پھر خون اس آکسیجن کو دل کے پمپ ہاوس سے بدن کے ہر ہر عضو کو پہنچاتا ہے ۔ سانس جسم سے گندے مادوں کو کاربن ڈائی آکسائڈ کی صورت اخراج کا کام بھی کرتی ہے ۔  اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ سانس کتنی اہم ہے ۔ اگر یہ ڈوری ٹوٹ جائے تو رُوح کا جسم سے سے رشتہ یوں ٹوٹ جاتا ہے جیسے کبھی شناسائی ہی نہ تھی۔
جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہو ا، لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص بلندی کی طرف جائے گا اسے زیادہ تازہ ہوا ،زیادہ فرحت اور زیادہ خوشی حاصل ہوگی ،لیکن جدید دور میں جب انسان نے ہوائی جہاز ایجاد کیا اور وہ تیس چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے لگاتو اسے پتہ چلاکہ بلندی پر جاتے ہوئے نسبتاً کم آکسیجن مہیا ہوتی ہے اور سانس لینے میں بہت دشواری پیش آتی ہے ۔اس شدید گھٹن سے بچنے کے لیے ہوائی جہازوں میں مصنوعی آکسیجن لے جانے کا انتظام کیا جاتا ہے ۔
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اس قدر بلندی پر جانے کا تصور تھا نہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈکا ، لیکن قرآن مجید میں سورۃ الانعام کی  یہ آیت ہمیں حیرت میں ڈال دیتی ہے :
فَمَن يُرِ‌دِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَ‌حْ صَدْرَ‌هُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِ‌دْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَ‌هُ ضَيِّقًا حَرَ‌جًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّـهُ الرِّ‌جْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿125﴾
"پس (یہ حقیقت ہے کہ ) اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے او ر جسے گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ تنگ اور گھُٹا ہوا کر دیتا ہے
گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے (بلندی کو جارہا ہے )"۔
371309
بلندی پر چڑھتے ہوئے سینہ تنگ ہونے کی مثال اعجازِ قرآنی کی معرکة الآراءمثال شمار ہوتی ہے۔ اس لئے کہ طب جدید کی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ بلندی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دَم گھٹنے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ آج سے سوا چودہ سو سال پہلے اس سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے
ماخذ:۔
1۔http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%DA%A9%D8%B3%DB%8C%D8%AC%D9%86
2۔قرآن سائنس اور ٹیکنالوجی از شفیع حیدر دانش صدیق
3۔اسلا کی سچائی اور سائنس کے اعترافات از محسن فارانی
4۔آئینہ جنرل سائنس از چوہدری بہار علی
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours