سائنس اور باری تعالیٰ کی کبریائی


تحریر:  سمارا

قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ‌ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَ‌بِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ‌ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَ‌بِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا

فرما دیجئے اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی ہوجائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کی مثل اور (سمندر یا روشنائی) مدد کے لئے لے آئیں۔ (الکہف:109)

وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن شَجَرَ‌ةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ‌ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ‌ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں (سب) قلم ہوں اور سمندر (روشنائی ہو) اس کے بعد اور سات سمندر اسے بڑھاتے چلے جائیں تو اﷲ کے کلمات (تب بھی) ختم نہیں ہوں گے۔ بیشک اﷲ غالب ہے حکمت والا ہے۔ (لقمان: 27)

ان دونوں آیات میں ایک ہی موضوع بیان کیا گیا ہے اور وہ موضوع ذات باری تعالیٰ کی عظمت اور شان ہے۔ مزکورہ بالا قرآنی آیات میں خالق کائنات کی کبریائی ایک مثال سے واضح کی گئی ہے کہ اگر روئے زمین کے سمندروں کی سیاہی بنا کے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے اظہار، اس کی حکمتیں اور اس کی باتیں لکھنی شروع کی جائیں تو یہ سیاہی ختم ہو جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ پھر ایسے ہی مزید سمندر لائے جائیں اور پھر اور لائے جائیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ اللہ
کی قدرتیں، اس کی حکمتیں، اس کی دلیلیں ختم ہو جائیں۔ اس بات پر مزید زور دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر دنیا بھر کے درختوں کے قلم بنا لئے جائیں لیکن اللہ کی حکمتیں اور باتیں لکھتے لکھتے یہ قلم بھی ختم ہو جائیں گے لیکن باری تعالیٰ کی شان احاطہ تحریر میں نہیں لائی جا سکے گی۔
تفسیر ابن کثیر کے مطابق تمام انسانوں کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں اتنا بھی نہیں ہے جتنا سمندر کے مقابلے میں قطرہ۔ تمام درختوں کی قلمیں گھس گھس کر ختم ہو جائیں تمام سمندروں کی سیاہیاں نبڑ جائیں لیکن کلمات الٰہی ویسے ہی رہ جائیں گے جیسے تھے۔ کلمات الٰہی ان گنت ہیں، بےشمار ہیں۔ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت سے ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائب ختم ہوں، نہ اس کی حکمت کی انتہا، نہ اس کی صفت اور نہ اس کے علم کا آخر ہوگا۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ۔

قرآن کا فرمان برحق ہے، ذرا تصور کیجیے کہ تمام دنیا کے درختوں کے قلموں کی تعداد کس قدر ہوگی۔ اور یہ سمندر جو ابد سے ازل تک کے انسانوں کی ضروریات کو کافی ہے کی سیاہی کی مقدار کس قدر ہوگی۔ اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ کسی بھی پرنٹر کے اسٹینڈر Cartridge میں صرف سولہ ملی لیٹر سیاہی ہوتی ہےاور اس سے دو سو سے زیادہ صفحات چھاپے جا سکتے ہیں۔ سولہ ملی لیٹر سیاہی مقدار میں کتنی ہوگی؟ اس کے لئے بس اتنا بتانا کافی ہوگا کہ یہ کھانا کھانے والے ایک چمچے میں سما جا ئے گی۔ گویا جب ایک چمچہ سیاہی سے دو سو سے زائد صفحات لکھے جا سکتے ہوں توپھر دنیا بھر کے سمندروں کی سیاہی سے کتنے ہی صفحات لکھے جا سکیں گے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنے سارے صفحات جن کو گننا بھی محال ہو پر لکھنے کے معلومات اور باتیں کہاں سے آئیں گی۔ ۔۔۔؟

ڈاکٹر ذاکر نائک کے مطابق قرآن سائنس کی نہیں بلکہ نشانیوں کی کتاب ہے۔ اس میں جا بہ جا اشارے دئے گئے ہیں اور انسان کو غور و فکر کرنے کی دعوت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کردہ کائنات کے مظاہر کا کئی جگہ ذکر کیا ہے۔ ایک ایک سطر میں معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ قرآن پاک میں انسان کی پیدائش کے مراحل بیان کرنے سے لے کر کائنات میں تیرتے اجسام تک کا ذکر ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے مطابق ہم آج جس دور میں جی رہے ہیں اسے علمی سیلاب کا دور کہا جاتا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد معلومات کا وہ سیلاب آیا ہے جس کے آگے انسان بےبس نظر آتا ہے۔ موجودہ دور سائنسی ترقی کا دور ہے۔ حیران کن ایجادات ، دریافات اور معلومات دن بدن سامنے آتی جا رہی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے لندن میں ایک سیمینار ہوا جس کا عنوان تھا Information overload اس میں مختلف علمی شعبوں کے ماہرین نے مقالے پڑھے۔ اس سیمینار میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا میں اب تک جتنے سائنسدان کسی بھی زمانے میں پیدا ہوئے ان کی مجموعی تعداد سے زیادہ سائنسدان آج زندہ ہیں اور وہ سائنس کی معلومات میں دو ہزار صفحات فی منٹ کے حساب سے اضافہ کر رہے ہیں۔ آج قریباً تیس کروڑ صفحات کے برابر تحریری مواد ہر روز انٹر نیٹ پر جاری ہو رہا ہے۔

ان تحقیقات کے نتیجے میں انسان کی معلومات کے ذخیرے میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس موجودہ دور کے انسان کا علم، ماضی کے انسان سے بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ آج کرہ ارض پہ بسنے والے حشرات الارض اور جرثوموں سے لے کر بڑے بڑے ڈائنو سارز کی تاریخ، رہن سہن، شکار کرنے کے طریقے وغیرہ کے بارے میں معلومات ڈھونڈی اور جمع کی جا رہی ہیں۔ دنیا میں موجود ہزار ہا قسم کے درخت، جڑی بوٹیاں، زمینی و سمندری نباتات کو نا صرف تلاش کیا جا رہا ہے بلکہ ان سے فوائد حاصل کرنے کے طریقے بھی کھوجے جا رہے ہیں۔ انسانی جسم کے نظام کو سمجھا جا رہا ہے۔ جینز کی دریافت کے بعد سے تحقیق کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ ڈی این اے میں انسانی جسم کا مکمل بلیوپرنٹ موجود ہوتا ہے اس کو پڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم سائنس کے مطابق یہ نقطہ آغاز ہے۔ ڈی این اے پر لکھے گئے کوڈ کو مکمل طور پر پڑھنے اور سمجھنے کے لئے ابھی بڑی محنت اور لمبی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد شاید انسانی جسم اور اس کے افعال کو مکمل طور پر سمجھنے کا دعویٰ کیا جا سکے۔ اسی طرح سمندروں، صحراؤں، اور دیگر علاقوں میں پائے جانے والے نباتات، حیوانات اور جمادات پر اگرچہ بہت کام ہوا ہے بہت سی اقسام دریافت کی گئی ہیں، کئی فوائد ڈھونڈے گئے ہیں لیکن یہ سلسلہ بھی ہنوز نامکمل ہے اور اس کو مکمل کرنے کے لئے ایک لمبا عرصہ اور تحقیق درکار ہے۔

اسی بات کو سمجھنے کے لئے کائنات کے سب سے چھوٹے ذرے کی تلاش کا معاملہ لیجئے۔ کچھ عرصہ قبل تک سمجھا جاتا تھا کہ انسان جس کائنات میں سانس لے رہا ہے وہ مادے سے بنی ہوئی ہے اور اس کائنات کا سب سے چھوٹا حصہ ہے ایٹم۔ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ کائنات کا سب سے چھوٹا حصہ ایٹم نہیں ہے بلکہ ایٹم بذات خود الیکٹران، پروٹان، نیوٹران اور اسی طرح کے سو سے زیادہ ذرات پر مشتمل ہے۔ سائنسی کھوج کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہا۔ نتیجتاً نئی تحقیق سامنے آئی جس سے یہ معلوم ہوا کہ الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان بھی مادے کے سب سے چھوٹے ذرات نہیں ہیں۔ ان سے چھوٹے جز بھی موجود ہیں ان کو “کوارک” کہا جاتا ہے۔ یہ کوارکس الیکٹرون، پروٹون، نیوٹرون اور دیگر چھوٹے ذرات کو بناتے ہیں۔ اسی موضوع پر ہونے والی ریسرچ سے اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوارک سے بھی اربوں گنا چھوٹا مادہ موجود ہے اور اس کو “اسٹرنگز” کا نام دیا گیا ہے۔ گویا یہ معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں ہے جتنا آغاز میں نظر آتا تھا۔ عین ممکن ہے کہ آئندہ ہونے والی تحقیق سے اسٹرنگز سے چھوٹا بھی کچھ دریافت کر لیا جائے۔ الغرض سائنسی تحقیق اتنی ترقی کے باوجود ابھی تک نامکمل ہے۔

سائنسی مثالوں کو پیش کرنے کے بعد یہ جاننا دلچسپ محسوس ہوتا ہے کہ اس تحقیق کو لکھنے اور محفوظ کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ آج الیکٹرانکس میں ترقی کی وجہ سے ڈیٹا کی بڑی مقدار ایک انتہائی چھوٹی جگہ میں محفوظ کی جا سکتی ہے۔ کمپیوٹر میں انفارمیشن جمع کرنے کی پیمائش روایتی طور پر کلو بائٹس پھر میگا بائٹس اور اب عموماً گیگا بائٹس میں کی جاتی رہی ہے۔ اس کے بعد ٹیرا بائٹس، پیٹا بائٹس اور اب ایکسا بائٹس آ گیا ہے اور ایک ایکسا بائٹ ایک بلین گیگا بائٹس کے برابر ہے۔سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2007 تک دنیا میں سٹور ہونے والا ڈیٹا 295 ایکسا بائٹ ہے جو اوسطاً بارہ ملین ہارڈ ڈرائیو کے مساوی ہے۔ تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی معلومات سی ڈیز پر جمع کی جائے تو سی ڈیز کا انبار چاند سے بھی اوپر پہنچ جائے گا۔ جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ہلبرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ہم یہ تمام اطلاعات لے کر انہیں کتابوں میں جمع کریں تو ان کتابوں کا انبار امریکہ یا چین کے برابر کے رقبے میں پھیل جائے گا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابھی انسانی معلومات کا دائرہ صرف روئے زمین کے مظاہر تک محدود ہے۔ انسان نے بمشکل زمین سے باہر نکل کر چاند پر قدم رکھا ہے۔ لیکن سی ڈیز کے ڈھیر کا چاند تک پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے مریخ اور زحل جیسے ستاروں پہ جانے کی ابھی صرف باتیں ہو رہی ہیں۔ باقی تمام کائنات تو بہت دور کی بات ہے۔ بالفاظ دیگر موجودہ علم کا زیادہ تر حصہ صرف زمینی معلومات پر مشتمل ہے، دھیان رہے کہ اس دو ہزار صفحات فی منٹ کے حساب سے مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے، یعنی معلومات میں اضافے کا عمل ساقط نہیں ہوا بلکہ جاری ہے اور سی ڈیز کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ۔۔ لیکن اگر صرف یہ زمینی معلومات ہی چین کے رقبے کے برابر ہو سکتی ہیں تو اندازہ لگائے کہ کیا پوری کائنات کا علم “زمین” میں سما سکے گا؟؟؟۔ یاد رہے کہ کائنات میں سو ارب کہکشائیں موجود ہیں۔ ہر ایک کہکشاں میں لاکھوں سے لے کر کھربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہو سکتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کائنات میں 300 سیکٹیلین (دس کے ساتھ 23 صفر) ستارے موجود ہیں۔ کیا کل کائنات کے علم کو احاطہ تحریر میں لانے کے لئے زمین پہ موجود وسائل کافی ہوں گے۔۔؟؟؟

غور کیجئے کہ یہ تمام ستارے، کہکشائیں، بلیک ہولز، نیوٹرون اسٹارز اور اب تو متوازی کائناتوں کے تصورات بھی آ چکے ہیں، کس کی تخلیق ہیں۔؟ کس نے انہیں پیدا کیا، کس نے انہیں کائنات میں ان کی جگہوں پر ٹانگا، کس نے ان کی گردش اور پھیلاؤ کے اصول و قوانین بنائے، ان کو روشن کرنے کے لئے کس نے ایندھن مہیا کیا۔؟ سائنس کہتی ہے کہ ستاروں پر ایندھن کے جلنے میں فیوژن کا عمل ہوتا ہے۔ وہ کون ہے جس نے فیوژن کا عمل پیدا کیا۔؟ آج سائنسدان کتابوں پہ کتابیں لکھ رہے ہیں، تحقیقی مقالہ جات شائع ہو رہے ہیں، انہی اصولوں کو دریافت کرنے، سمجھنے اور بیان کرنے کے لئے۔۔۔ لیکن یہ اصول، یہ باتیں یہ تخلیقات دراصل اللہ تعالیٰ کی خدائی کے کرشمے ہیں۔ ۔ سائنس کیا ہے؟۔۔۔۔ اللہ کی تخلیقات کے مطالعے کا نام سائنس ہے۔ اللہ کی تخلیقات میں کارفرما اصول و ضوابط، اور قوانین کو مسلسل غور و فکر کے زریعے جان لینا سائنس ہے۔ انسان سائنسی علوم کا خالق نہیں،دریافت کرنے والا ہے۔ سائنس اللہ کی تخلیق ہے۔ سائنس خدا نہیں مخلوق ہے، لامحدود نہیں محدود ہے۔ فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، آسٹرولوجی، جغرافیہ، تاریخ غرض جس علم کا بھی نام لیں۔ اصلاً تو ہر حرف، اللہ کی تخلیقات، اس کے بنائے ہوئے قوانین سب اللہ کی باتیں ہیں۔ اور ابھی دنیا بھر میں پھیلی اربوں کتابیں صرف اور صرف دنیا اور اس کے علوم کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن پر ہم نے آج غور کرنا شروع کیا ہے، جاننا اور کھوجنا شروع کیا ہے لیکن یہ ہمیشہ سے موجود ہیں۔ یہ اس وقت بھی موجود تھیں جب قرآن کا نزول ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کرنے کے لئے فرمایا تھا کہ اگر سمندروں کے برابر بھی سیاہی آ جائے تب بھی اللہ کی باتیں اور کلمات لکھے نہیں جا سکتے۔ وہ علم جو انسان کی دسترس سے بعید، بہت بعید ہے، وہ اتنا زیادہ ہے کہ سمندروں کی روشنائی اور تمام درختوں کے قلم بن جائیں تو بھی احاطہ تحریر میں لانے کے لئے ناکافی ہوں گے۔ اللہ کے مقابل ہم کیا اور ہمارا علم کیا۔ جتنے قلم اس زمین کے درختوں سے بن سکتے ہیں اور جتنی روشنائی زمین کے موجودہ سمندر اور ویسے ہی سات مزید سمندر فراہم کر سکتے ہیں، ان سے اللہ کی قدرت و حکمت اور اس کی تخلیق کے سارے کرشمے تو درکنار، شاید موجودات عالم کی مکمل فہرست بھی نہیں لکھی جا سکتی۔ تنہا اس زمین میں جتنی موجودات پائی جاتی ہیں انہی کا شمار مشکل ہے کجا کہ اس اتھاہ کائنات کی ساری موجودات ضبط تحریر میں لائی جا سکیں۔۔

اس تمام گفتگو کے بعد ذہن میں یہ بھی خیال آتا ہے کہ کیا سائنس کے راستے پہ چلتے ہوئے کبھی ایسا ممکن ہوگا کہ کائنات کے تمام اسرار کو سمجھ لیا جائے۔؟ اللہ تعالیٰ کی تمام قدرتوں کو جان اور پرکھ لیا جائے۔؟ تمام سوالات کے جواب حاصل کر لیا جائے۔؟ کیا انسانی عقل کبھی ان سارے سوالوں کے جواب ڈھونڈ پائے گی؟؟؟۔۔۔ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان ساری باتوں کا جواب ہے “نہیں” کیونکہ ہمارے پاس اتنی سیاہی نہیں ہے کہ ہم اتنی معلومات کو احاطہ تحریر میں لا سکیں۔ لیکن یہاں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ انسان کو اگرچہ صلاحیتیں دی گئی ہیں لیکن اتنے وسائل نہیں دئے گئے کہ وہ پوری کائنات کے اسرار کو جان سکے۔ تو جب محدودات کا علم اکھٹا کرنے اور جاننے میں اتنی دشواریاں ہیں تو پھر لامحدود کی ذات اور صفات کا احاطہ کیسے کیا جائے گا۔ اس کے لئے اگر مستقل وسائل بھی ہوں تو بھی انسان ان کو بیان نہیں کر سکتا۔

واللہ اعلم۔

حوالہ جات


قرآن پاک
تفسیر ابن کثیر
تفہیم القرآن از مولانا مودودی
اینڈ آف ٹائم از ڈاکٹر شاہد مسعود
قرآن کی روشنی از عامرہ احسان
بی بی سی
وکی پیڈیا

یہ مضمون اس بلاگ سے لیا گیا ہے ۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

2 comments so far,Add yours