سوشل میڈیا کی بہترین کارکردگی پر اوریا مقبول جان کا کالم 

 بساط الٹ چکی ہے


وہ جو کل تک خود کو ابلاغ کا خدا سمجھتے تھے ،انہیں اندازہ نہیں کہ اب ایک چھوٹے سے کمرے میں بوسیدہ سے کمپیوٹر پر بیٹھا نوجوان آپ کی کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی میڈیا ایمپائر کا مقابلہ کررہا ہے بلکہ اب تو جیت ا س کا مقدر ہونےلگی ہے ۔یہی وی نوجوان ہے جس نے مجبور کردیا کہ ٹی وی چینلز اور اخباروں والے دبائے ہوئے سچ کو ظاہر کریں ۔
اس سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ جن کو ہے ان کے منہ سے روز جھاگ نکلتی ہے اور وہ غصے سے کھولتے پھر رہے ہیں ۔وہ جنہیں اس بات کا زعم تھا کہ ہم ہواؤں کا رخ بدل سکتے ہیں ،ان کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں ۔ اس لیے کہ اب سوات کے کوڑوں والی کیسٹ چلا کر بدنام کرنے والوں کے مقابلے میں اینکروں والی کیسٹ بھی چلتی ہے اور پھر کسی کو ہمت نہیں ہوتی اپنے حق میں میڈیا استعمال کرنے کی ۔یہ مسٔلہ عالمی میڈیا کا ہی نہیں ہم سب کا ہے ۔

گزشتہ دس سال تک میڈیا کےذریعے لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے والوں کی حالت دیکھنے والی ہے ۔کیسے چیختے پھرتے ہیں " ہمیں بھارت اور امریکہ کا ایجنٹ کہا جاتا ہے " تم نے ساٹھ سال لوگوں کو ایجنٹ کہنے اور الزام لگانے کا ٹھیکہ لیا ہوا تھا ۔جس کو چاہا جو مرضی بنا دیا ۔ا ب تیر واپس آیا ہے تو چیخیں نکل گئیں ۔ مدتوں تم نے لوگوں کے عیب اچھالے ،تصویریں چھاپیں ،اب اپنی تصویروں پر سیخ پا کیوں ہوتے ہو۔ کسے معلوم ہے یہ سب کیوں ہورہا ہے ۔ یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ ہمارے پاس قلم تھا ،زبان تھی،ہم نے اس سے انصاف نہیں کیا۔ انصاف سے نہ رکھا اور نہ بولے ۔ہمارے ذاتی تعصب ہمارے انصاف کو کھا گئے ۔ہم نے لوگوں کو غدار کہنے کی فیکٹریاں لگائیں ۔لوگوں کو ملک دشمنی کے سرٹیکفیٹ دئیے ۔ جیسی کالک چاہی کسی کے چہرے پر مل دی ۔ ہمارا کنڑول تھا ،لیکن اب  کنٹرول ہر اس شخص کےپاس ہے جو چھوٹے سے کمرے میں بوسیدہ سےکمپیوٹر پر بیٹھا  ہے اور جو بساط الٹ سکتا ہے اوراس نے بساط الٹ کر رکھ دی ہے ۔



Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours