پاکستاینوں کی بے حسی اور غفلت پرلکھا،اوریا مقبول جان کایہ کالم ضرورپڑھیے ، کیا ہمیں واضح علامتوں کا انتظا ر ہے


حیرت کی بات ہے کہ اس ملک میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ لوگوں کے سامنے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ جس ملک میں رہتے ہیں ،اس کا سفر ڈھلوان کی سمت تیزی سے رواں دواں ہے ۔ ڈرائیور کی مہارت پر انہیں بالکل بھروسہ نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ بس کھائی کی جانب اسی کی غلطیوں سے لڑھکی ہے لیکن کمال کی بات ہے کہ کسی کے منہ پر نہ
کلمہ طیبہ کا ورد ہے ،نہ گناہوں سے معافی اور او ر استغفار سے بھری التجائیں ہیں ،اگر چیخ وپکار بھی ہے تو وہ  اول تو محدود ہے یا پھر اپنے اپنے دکھ کی بات کرتے ہیں ۔
کتنے ہیں جو بولنے والوں کو یہ کہہ کر چپ کراتے ہیں کہ خاموش بیٹھو، ڈرائیور  کو پانچ سال کے لئے نوکری پر رکھا ہے اس سے پہلے اسے کوئی نہیں نکالے گا خوا ہ وہ بس کو تباہ وبرباد کیوں نہ کردے ۔ہم کس قدر بے حس ہیں ۔ اگر ہماری ذاتی بس ،کار، یا رکشا ہی کیوں نہ ہوتا ،ہم نے کسی ڈرائیور کو ایک ماہ کے لئے ہی کیوں نہ رکھا ہوتا، ہم اسے پہلی ہی غلطی پر کان پکڑ کرنوکری سے نکال دیتے لیکن آفرین ہے اٹھارہ کروڑ عوام پر جنہیں اس بات کا احساس تک نہ نہیں

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours