مسواک کی افادیت جدید سائنس کی روشنی میں


اسلام جہاں مسلمانوں کو روحانی پاکیزگی کا حکم دیتا ہے ،وہاں اس کی تعلیمات مسلمانوں کے جسم ولباس کی تطہیر کا بھی درس دیتی ہیں۔ اگر اسلام کے طہارت کے طریقوں پر غور کیا جائے تو اس کا معیار سائنس کے طریقوں سے بھی اعلیٰ وارفع نظر آئے۔ نماز سے پہلے مسواک اور وضو کا حکم دیا گیا ۔ یہ روحانی وجسمانی فوائد پر حاوی ہے،اسی وجہ سے خود مسواک کوروحانی عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔

ایک مسلمان نمازِ پنجگانہ میں ایک دن میں 15 مرتبہ منہ کو صاف کرتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان نمازی آدمی کامنہ اندر سے بالکل صاف رہتا ہے ۔ نمازی  نے  نماز میں بزرگ وبرتر خالق ومالک کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس کی حمدوثناء بیان کرنا ہوتی ہے لہذا منہ کا صاف وپاک ہونا از حد ضروری ولازمی ہے۔منہ صاف نہ ہو تو بدبو آتی ہے ،ساتھ والے نمازی بھی متنفر او ربیزار ہوتے ہیں  نیز گند ے منہ سے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء اورعبادت کا انسان کے دل ودماغ پر اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی نماز میں خشوع وخضوع حاصل ہوتا ہے ۔ اگر مسواک اورپانی سے منہ کو اچھی طرح صاف کیا جائے تو منہ میں ایسی شعاعیں بن جاتی ہیں جن کے باعث تلاوتِ قرآن اور حمد وتسبیح میں حلاوت و سرور پیدا ہوتا ہے۔منہ کی صفائی کے لیے مسواک کرتے رہنے سے دانت مضبوط اور چمکدار ہو جاتے ہیں۔دانتوں کے متعدد امراض کا خطرہ نہیں رہتا ،جبڑے مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ آدمی کی قوتِ ذائقہ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور آدمی گلے وغیرہ کی بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔

مسواک کی اہمیت احادیث  ِرسول اللہ  ﷺ کی روشنی میں

 رسول اللہ ﷺ نے مسواک کرنے کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کی مسواک کرنا طریقِ ابنیاء علیہم السلام کی پیروی ہے اور ان کی ہدایت کا گویہ طالب رہنا ہے ۔ مسواک کرنے والے سے فرشتے مصافحہ کرتے ہیں  اور عظمت ونور کی وجہ سے اس کے آگے پیچھے رہتے ہیں ۔مسواک سے دانت صاف وچمکدار رہتے ہیں ۔ مسواک کرنے والے کے گھر سے مسجد تک فرشتے اس کے ساتھ ساتھ جاتے ہیں ۔تما م فرشتے اور حاملانِ عرش مسواک کرنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔
مسواک کرنے والے کے لیے بہشت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں تاکہ وہ جس دروازے سے چاہے بغیر حساب وکتاب کے داخل ہوجائے ۔ قیامت تک جس قدر لوگ دائرہِ اسلام میں داخل ہوں گے مسواک کرنے والے کو ان کی تعداد کے موافق قیامت کے دن نیکیاں ملیں گی۔مسواک کرنے والے پر دوزخ کے دروازےبند ہوجاتے ہیں ۔تمام ابنیاء ومرسلین علیہم السلام مسواک کرنے والے کے لیے مغفر ت کی دعا کرتے ہیں ۔مسواک کرنے والے کی قوتِ حافظہ بڑھتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسواک کرنے والے کے دل میں حکمت ودانائی کی باتیں القا فرما دیتا ہے ۔مسواک کرنے والے پر کھانے کے وقت سخت سے سخت گوشت بھی نرم ہوجاتا ہے ۔ مسواک کرنے سے دانتوں کے درد کی شکائت جاتی رہے گی ۔ مسواک کرنے والے کی قبر مسواک کی برکت سے وسیع کردی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وبرکت مسواک کرنے والے کے گھر میں نازل ہوتی ہے ۔ مسواک کرنے والے کی ہر حاجت پوری ہوگی ۔

ہر ایک دانت اور انگلیوں کے پوروں کے عدد پر پانچ پانچ نیکیاں مسواک کرنے والے کے اعمال نامہ میں مسواک کو مَس کرنے کی وجہ سے لکھی جاتی ہیں ۔ مرنے کے وقت موت کا فرشتہ روح قبض کرنے کے لیے مسواک کرنے والے کے پاس اچھی صورت میں آتا ہے جس طرح انبیاء مرسلین علیہم السلام کے پا س آتا ہے ۔ ملک الموت مسواک کرنے والے کی روح کو ایسی حالت میں لے جائے گا کہ وہ پاک وصاف ہو گی۔دنیا سے اُ ٹھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ مسواک کرنے والے کو جنت کی سر بمہر شرابِ طہور سے سیراب فرمائے گا۔ مرنے کے بعد مسواک کرنے والے کی قبر میں دنیا کے برابر وسعت پیداکردی جائے گی ۔زمین کے کیڑے مکوڑے اور موذی جانور مسواک کرنے والے کو تکلیف نہ دیں گے۔

قیامت کے دن مسواک کرنے والے کو انبیاء علیہم السلام کی طرح لباس پہنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مسواک کرنے والے کی انبیاء علیہم السلام کی طرح عزت ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ مسواک کرنے والے کو نبیوں اور شہیدوں کےساتھ جنت میں داخل فرمائے گا۔ میزان عمل میں مسواک کرنے والے کی نیکیوں کا پلہ بھاری رہے گا۔ مسواک کرنے والے کو حضرت اسماعیل ؑ کی ہمسائیگی میں جنت کا محل عطا ہوگا۔مسواک کرنے والا میری (رسول اللہ ﷺ)کی شفاعت سے بہرہ یاب ہوگا  اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسواک کرنے والا دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوگا۔جبرائیل امین ؑ نے مسواک کی اتنی فضیلت بیان کی اور اس کے استعمال کی اتنی تاکید کی گویا کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں مسواک مجھ پر اور میر ی امت پر فرض نہ ہو جائے۔ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت مشقت میں پڑ جائے گی تو میں ان  کو ہر نماز کے بعد مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ مسواک کرکے دورکعت نماز پڑھنا بغیر مسواک کئے ستر رکعتیں پڑھنے سے افضل ہے ۔ وغیرہ وغیرہ

مسواک سے متعلق مندرجہ بالا ارشادات پر آپ نے خوب غور کیا ہوگا کہ کس قدر ترغیب وتاکید کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے مسواک کا ذکر فرمایا اور اس کے استعمال پر کس قدر پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔آج کل برش اور پیسٹ کا استعمال نئی تہذیب کی اختراع ہے ۔یہ پیسٹ اور برش سادہ مسواک جیسے فوائد سے عاری ہے  بلکہ نقصانات کی حامل ہے ۔ اس نئی تہذیب کی چمک دمک سے مرعوب لوگ سستی ،آسان ،مفید اور فطری چیز مسواک کو ترک کرکے متعدد امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ لوگ دانتوں ،مسوڑھوں  اور گلے کی بیماریوں کا شکار ہو کر جسم کے دیگر حصوں میں مختلف امراض کا سبب خود اپنے عمل سے بنتے ہیں ۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت کی کماحقہ پیروی کی جاتی تو دنیا میں دانتوں کی بیماریاں اورڈینٹل سرجنز وجود ہی میں نہ آتے اور نہ ہی لوگ ان امراض کا شکار ہوکر تکلیف اٹھاتے ۔

مسواک کے طبی و سائنسی فوائد


رسول اللہ ﷺ نے مسواک کے استعمال پر اتنی تاکید اس لیے فرمائی کیونکہ اس میں کئی طبی اور سائنسی فوائد موجود ہیں ۔ اب قارئین مسواک کے طبی اور سائنسی فوائد ملاحظہ فرمائیں۔

مسواک قاتلِ جراثیم ہے ۔یہ منہ سے تعفن کو دور کرتی ہے ۔ اس کے استعمال سے منہ کے اندر جراثیم مرکر ختم ہوجاتے ہیں  اور اس طرح مسواک کرنے والا شخص منہ کی بیماریوں سے بچا رہتا ہے ۔ جدید تحقیق کے مطابق کچھ ایسے جراثیم بھی ہوتے ہیں جو مروجہ برش اور پیسٹ سے دور نہیں ہوتے بلکہ ان کو صر ف مسواک سے ہی دور کیا جاسکتا ہے ۔

طب اور میڈیکل سائنس نے ثابت کر دکھایا ہے کہ مسواک سے دماغ کو قوت حاصل ہوتی ہے  اور اس سے دماغ کی صحت برقرا ر رہتی ہے ۔ دماغ مسواک کرنے سے تیز ہوتا ہے اور طویل عرصہ تک تندرست رہ سکتا ہے ۔ اگر مسواک سے دانتوں کو صاف نہ کیا جائے تو دانت گندے ہوجاتے ہیں ۔ جس کی جبڑوں اور مسوڑھوں میں پیپ بن جاتی ہے جو دماغی امراض کا سبب بنتی ہے ۔ نفسیاتی بیماریاں بھی اسی سے لاحق ہوتی ہیں۔

انسان کھانا کھاتا ہے ،پانی پیتا ہے  اور کئی ایک دیگر اشیاء بھی کھاتا رہتا ہے ۔ جس سے کھانے کے چھوٹے چھوٹے ذرے دانتوں کے درمیان پھنستے رہتے ہیں  جو معمول کے مطابق صرف کلی کرنے سے خارج نہیں ہوتے جس کی وجہ سے دانتوں میں تعفن پیدا ہوجاتا ہے جو کئی بیماریوں کا موجب بنتا ہے۔ظاہراً بھی اگر آدمی کے دانت گندے ہوں تو بو آنےلگتی ہے ۔تعفن زدہ دانتوں کی وجہ سے مسوڑھے بھی متعفن ہوجاتے ہیں ۔ مسوڑھوں میں پیپ پڑھ جاتی ہے ۔جسے کے ساتھ گلے پر بھی اثر پڑتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کھانسی ،نزلہ ،زکام اور بخار وغیرہ کی آ مد ہو جاتی ہے ۔ یوں دانت مسواک سے صاف نہ کرنے کے باعث انسانی زندگی بربادہو کر رہ جاتی ہے ۔ زندگی تو صحت اور تندرستی سے ہے اگر آدمی تندرست ہی نہ رہے تو کیا زندگی ؟پس مسواک کے بغیر چارہ نہیں اور بغیر مسواک کسی بھی پیپ،تعفن اور غیر مرئی جراثیم کو دور نہیں کیا جاسکتا۔

جن مریضوں کا گلا خرا ب ہوتا ہے وہ ٹانسلز کے مریض ہوتے ہیں ۔ ایسے مریض باقاعدہ مسواک کے استعمال سے تندرست ہو سکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کسی مریض کے گلے کے غدود بڑ ھ گئے ہوں تو وہ شربتِ شہتوت اور باقاعدہ مسواک کرکرکے آرا م حاصل کرسکتا ہے ۔بعض مرتبہ منہ کے اندر گرمی ،تیزابیت اور غیرمرئی جراثیم کی وجہ سے چھالے ہو جاتے ہیں ۔ان چھالوں میں سے ایسی قسم کے چھالے بھی ہیں جو کبھی نکل آتے ہیں اورکبھی چھپ جاتے ہیں ۔ یہ نہایت تکلیف دہ اور نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ان کے جراثیم منہ میں پھیل کرپورے منہ کو پانی لپیٹ میں لےلیتے ہین جن کی وجہ  سے کھانا تناول کرنامشکل وناممکن ہوجاتا ہےاور مریض بھوک کی وجہ سے کمزور پڑ جاتا ہے ۔اگر روزنہ بلاناغہ تازہ مسواک  کی جائے، اس کے لعاب کواچھی طرح مَلا جائے تو مرض پیداہی نہ ہوگا ااور اگرکبھی سستی کی وجہ سے ہوگیا تو مسواک کے باقاعدہ استعمال سے مریض تندرست ہو جائےگا۔

 بعض ایسے مریض ہوتے ہیں جو کانوں کے ورم،پیپ اور درد میں مبتلا ہوتے ہیں ،مہنگے سے مہنگا علاج کرانے کے باوجود انہیں اس تکلیف سے نجات  نہیں ملتی ۔ جب اچھی طرح ایسے مریضوں کی تشخیص کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مسوڑھوں میں پیپ پڑھ گئی ہے اور سارا منہ تعفن سے بھرپور ہے ۔جب مسوڑھوں کا علاج کیا جاتا ہے اور باقاعدہ سے تازہ مسواک  کی جاتی ہے تو ساتھ ہی کان بھی بالکل صحت مند ہوجاتےہیں ۔ اسی طرح آنکھوں کی بیماریوں اور نظر کے امراض میں دانتوں کی عدم صفائی کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے ۔کمزور بینائی کے مریضوں میں متعدد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کے مرض کے دیگر اسباب کے علاوہ دانتوں کے بارے میں ان کی غفلت سب سے بڑا سبب ہوتی ہے ۔ماہرین کے تجربات سے یہ بات تحقیق شدہ ہے کہ تقریباً 80 فیصد امراض کی وجہ معدہ اور دانتوں کے نقائص اور بیماریاں ہوتی ہیں ۔ بالخصوص آج کل ہر تیسرا شخص معدے کے امراض میں مبتلا ہے ۔

دائمی نزلہ اور زکام کے ایسے  مریض جن کی بلغم رُک چکی ہو جب وہ مسواک کرتے ہیں تو وہ بلغم اندر سے خارج ہو نا شروع ہوجاتی ہے  اور یوں مریض کا دماغ ہلکا ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ پیتھالوجسٹ حضرات کے تجربے اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دائمی نزلہ کے لیے مسواک تریاق سے کم نہیں ۔ یہاں تک کہ مسواک کے مستقل اور باقاعدہ استعمال سے ناک  اور گلےکے آپریشن کے مواقع بہت کم ہوجاتے ہیں۔

ایک شخص کے منہ سے بو آیا کرتی تھی ۔اس بیچارے نے  متعدد اچھی اچھی قسم کی ٹوتھ پیسٹ اور منجن استعمال کیے ،اس  کے علاوہ متعدد ڈاکٹروں سے مختلف  ادویات بھی استعمال کیں مگر کوئی فاعدہ نہ ہوا ۔ کسی ڈینٹل سپیشلسٹ  کے مشورے سے اس نے پیلو کی مسواک استعمال کی ۔ وہ باقاعدہ مسواک استعمال کرتا اور پرانے ریشوں کو کاٹ کر روزانہ نئے سرے سے مسواک کرتا رہا  تو تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اسے تندرستی عطا فرما دی ۔

گورونانک کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں مسواک رکھا کرتا تھا، دانتوں کو اس سے صاف کرتا اور کہا کرتا تھا:

"یایہ لکڑی لے لو اور یا پھر بیماری لے لو"

ایک شخص کے گلے ،گردن میں درد ہوتا تھا اور ساتھ ہی گردن میں سوجن بھی تھی ۔ اس کے ساتھ آواز میں بھی کمی آگئی اور ذہنی یاداشت بھی متاثر ہوگئی نیز سر بھی چکرانے لگا۔ یہ آدمی برین سپیشلسٹ اور جنرل فزیشن سپیشلسٹ وغیرہ کے زیرِ علاج رہا مگر سب بے سود ثابت ہوئے ۔ کسی کے مشورے سے وہ باقاعدہ مسواک کرنے لگا ۔ اس طرح کہ مسواک کے دوٹکڑے کرکے پانی میں اُبالتا اور پانی سے غرارے کرتا ۔ علاوہ ازیں جہاں سُوجن تھی وہاں کچھ دوائی بھی لیپ کی گئی ۔ یہ علاج بڑا مفید ثابت ہوا ۔ اس کی تحقیق کی گئی تو اس کے تھائی رائیڈ گلینڈ متاثر تھے جس کا اثر سارے جسم پر ہوا تھا۔ اس مسواک والے علاج سے  اس کی یہ بیماری دور ہو گئی  اور وہ شفائے کاملہ  سے ہمکنار ہو گیا۔

حکیم ایس ایم اقبال لکھتے ہیں:

" ایک مریض کے دل کی جھلیوں میں پیپ تھی ۔ وہ علاج کرا تا رہا مگر کوئی فاعدہ نہ ہوا ۔ بالآخر دل کا آپریشن کیا گیا اور پیپ نکال دی گئی ۔ بدقسمتی سے پیپ پھر بھر گئی ۔ ہر طرف سے  مایوس ہو کر وہ مریض میرے پاس آیا تو میں نے اس کا معائنہ کرتے ہوئے معلوم کیا کہ اس کے  مسوڑھے خراب ہیں  اور ان میں بھی پیپ ہے اور یہی  پیپ دل کو متاثر کرتی ہے ۔ اس تشخیص کو ڈاکٹر وں نے بھی تسلیم کرلیا۔ دل کا آپریشن کرنے کی بجائے اس کے دانتوں اور مسوڑھوں کا علاج کیا گیا اور اسے پیلو کی مسواک استعمال کرنے کو کہا گیا  جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطافرمادی۔"

تحقیق وتجربات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جو ٹوتھ برش ایک دفعہ استعمال ہو جائے اس میں جراثیم کی تہہ جم جانے کے باعث دوبارہ استعمال کرنے سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔پانی سے صاف کرنے کے باوجود وہ جراثیم صاف نہیں ہوتے اور اپنی نشوونما برقرار رکھتے ہیں ۔ مزید برآں برش کے استعمال سے دانتوں کے اوپر والی چمکیلی اور سفید تہہ اترجاتی ہے ۔بایں سبب دانتوں کے درمیان خلا ہوجاتا ہے اور دانت مسوڑھوں کی جگہ چھوڑتے جاتے ہیں  ۔ لہذا غذا کے جو ذرات دانتوں کے خلا میں اَڑے رہتے ہیں وہ دانتوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں  اوربالآخر سارے جسم میں بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں ۔اس لیے ان مصیبتوں سے بچنے کے لیے سنتِ مصفیٰ ﷺ پر عمل کیجئے یعنی مسواک صبح وشا م متواتر استعمال کیجئے اور تندرستی قائم رکھیئے۔

مسواک کے لیے ہر اس درخت کی شاخ مناسب ہوتی ہے  جس کے ریشے نرم ہوں کہ دانتوں میں خلا نہ بنائیں اور مسوڑھوں کو نقصان نہ پہنچائیں ۔ بہترین اور اعلیٰ مسواک پیلو،نیم اور کیکر کے درختوں اور کنیر کے پودے سے حاصل ہوتی ہے۔پیلو کا مسواک تحفہ کے طور پر دینا سنتِ رسول اللہ ﷺ ہے۔چناچہ حضرت ابو خیرہ صباحی ؓ فرماتے ہیں کہ میں اس وفد میں شامل تھا جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ ﷺ نے ہمیں پیلو کے درخت کی لکڑیاں مسواک کرنے کےلیے توشہ میں دیں ۔(مجمع الزوائد،جلد2،صفحہ 268)

پیلو کا مسواک نرم ریشوں والا ہوتا ہے ۔ اس میں کیلشیم اور فاسفورس ہوتی ہے  ۔ اکثر کلرزدہ اور ویران وبیابان مقامات پر ہوتا ہے ۔ جدید سائنسی اور طبی تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ مختلف اشیاء جو دماغ کی خوراک و معاون ہیں ،ان میں ایک فاسفورس بھی ہے ۔ پیلو کی مسواک میں موجود فاسفورس لعاب اور مساموں کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے جس کے ذریعے دماغ کو قوت حاصل ہوتی ہے ۔

نیم کے درخت کا مسواک بھی نہایت مفید ہے ۔ اس میں دانتوں کی مجموعی بیماریوں کا علاج ہے ۔یہ درخت  عام پایا جاتاہے ۔ اس کے بعد پھر کیکر کے مسواک کا درجہ ہے ۔ اس سے دانت بڑی اچھی طرح صاف کیے جاسکتےہیں  اور یہ دانتو ں کو تعفن اور پیپ سے بچائے رکھتا ہے ۔ یاد رہے کہ ممکن حد تک مسواک تازہ ہونی چاہیے اگر پہلے استعمال شدہ مسواک استعمال کرنا ہو تواس کے پہلے استعمال شدہ ریشے کاٹ دیں اور دانتوں سے نئے سرے سے چبا کر ریشے بنائیں ۔

کنیر دوقسم کا ہوتا ہے ۔ سفید پھولوں والا  اور سرخ پھولوں والا۔ یہ پودا اکثر پارکوں اور باغات وغیرہ میں ہوتا ہے ۔ اس کی مسواک استعمال کرنے سے دانتوں کی تمام تکالیف پائیوریا وغیرہ ختم ہوجاتی ہیں  اور لاعلاج مریض بھی تندرست ہوجاتے ہیں ۔ یہ مسواک کڑوی ہوتی ہے مگر اس کی یہی کڑواہٹ دانتوں کے لیے ازحد مفید ہے ۔ اطباء نے اس میں موجود اجزاء کے باعث دانتوں کی چمک ،مضبوطی  اور پائیوریا جیسے امراض کے لیے اسے اکسیر اعظم قرار دیا۔

خالق ِکائنات نے انسان کو پیدا فرمایا تو ساتھ اس کے استعمال کے لیے وہ اشیاء بھی پیدا فرمائیں  جو اس کی صحت وتندرستی کو قائم رکھنے کا باعث ہیں اوراپنے خاص بندوں یعنی ابنیاء ورسل علیہم السلام کو بھیج کر بنی نوع انسان کو ایسی اشیا ء کا استعمال بھی بتا دیا۔ انہی اشیاء میں مسواک بھی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعے نبی نوع انسان تک پہنچائی ، اس کے فوائد بیان فرمائے اور اس کو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور کثیر بیماریوں کی شفاء کا درجہ دیا۔

(جناب شیخ احمد دیدات کی کتاب " اسلامی نظامِ زندگی ،قرآن عصری سائنس کی روشنی میں "سے تلخیص )

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

6 comments so far,Add yours

  1. جس طرح غیر مسنون طریقوں کی تر ویج میں مسلمان

    اشتہاری مہم میں سر گرم ہو تے ہیں ۔مسنون طریق

    زندگی کی طرف تو جہ دے کر تجارت کو فروغ دیں تو


    دونوں جہاں کے ثمرات حاصل کر سکتے ہیں،

    جواب دیںحذف کریں
  2. asalam alykum
    sahi bukhari k hadeth hai k makhi k aik per mai shifa hai or dosre per mai bimari

    kya is bat ko modern science manti hai
    christian missionaries is hadeth per bht tanqeed kerte hai

    جواب دیںحذف کریں
  3. محترم میں کافی عرصے سے نیٹ پر ریسرچ کررہا ہوں کہ اس حوالے سے سائنس کی تحقیق مل جائے ۔ مگر افسوس کہ ابھی تک مجھے کوئی ایسی تحقیق نہیں ملی ۔ البتہ مکتبہ دارلسسلام والوں نے ایک کتاب اسلام کی سچائی اور سائنس کے اعترافات میں اس بات کا زکر کیاہے مگر اس میں بھی حوالہ کسی مصر کے عالم کا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ سائنس نے اس حدیث کی تصدیق کر دی ہے ۔ مگر کوئی حوالہ نہیں دیا کہ کس سائنسدان نے اایسا کہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس بات کو اپنی ویب سائٹ پر پیش نہیں کیا۔ جب بھی کوئی مستند حوالہ ملا اس کو پیش کروں گا۔ ان شاء اللہ ۔ بحرحال آپ ااطمینان رکھیں ،ہمارے نبی کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی ۔ اگر ابھی تک سائنسدان اس بات کومعلوم نہیں کرسکے تو بعید نہیں کہ وہ مستقبل میں اس بات کو جان جائیں ۔ اس لیے سائنسی تحقیق ایک جاری عمل ہے ، یہ ختم نہیں ہوگیا ہے ۔ اس لیے کسی کو اس حدیث پر تنقید کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ وگرنہ ایک دن ان کو پچھتانہ پڑے گا۔ ان شاء اللہ.

    جواب دیںحذف کریں
  4. Tariq Mehmod Ajk27 مئی، 2012 6:37 PM

    ALLAH apko jaza e kher dy ameen

    جواب دیںحذف کریں
  5. Tariq Mehmod Ajk27 مئی، 2012 6:37 PM

    MashALLAh tariq Iqbal sb apki kawsh buhat achi hai

    جواب دیںحذف کریں
  6. http://islamqa.info/en/ref/115282/siwaak
    is ka bht acha jwab yaha mujod hai
    medical benefits per

    جواب دیںحذف کریں