انسان کا مادہ تخلیق ،قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں


انسان کا مادہ تخلیق ایک مخصوص قسم کا تخمی پانی (Seminal Fluid) ہے۔ قرآن مجید کی ایک سورہ میں اس کو ماءِ دافق یعنی  اچھلتا ہوا پانی کہا گیا ہے ۔ سورۃ الطارق  میں ارشاد ہوتا ہے:

فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ﴿٥﴾ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ ﴿٦﴾ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ ﴿٧

"انسان غور کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ،اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیاہے جو ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے نکلتا ہے "

انسان کے مادہ تخلیق یعنی منی کو ماءِ دافق کہنے کی وجہ محض اس کے اخراجی عمل کی ظاہری مشابہت نہیں ہے بلکہ اس سے اعصابی نظام کے ایک اندرونی میکنزم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

جدید طبی معلومات کے مطابق منی کا اخراج ایک عصبی نظام کے تحت عمل میں آتا ہے ۔انثیین (Testicle)کو کنٹرول کرنے
والے اعصاب (Nerves) حرام مغز کے صلبی حصے (Lumbar Region)سے نکلتے ہیں ۔چنانچہ بوقتِ جماع یا کسی بھی شہوانی خیال کے تحت جب دماغ سے برقی رو صلبی حصے کے مرکز اعصاب کو پہنچتی ہے تو اس کی تحریک (Trigger Action)سے کیسہ منی  (Seminal Vesicle)سکڑتا ہے اور منی دفق کی صورت میں خارج ہوتی ہے ۔قرآن مجید نے ماء دافق کے الفاظ نظا م اعصاب کے اسی حرکی عمل کی طرف اشارہ کیا ہے ۔کسی مائع شے کا دافق (اچھلنا)بغیر کسی دباؤ کے ممکن نہیں ہے۔

مذکورہ قرآنی آیت میں دوسری اہم بات یہ کہی گئی ہے کہ ماء ِدافق ریڑھ اور پسلی کے درمیان (بین الصلب و الترائب ) سے نکلتا ہے ۔قرآن مجید کایہ بیان جدید علم تشریح(Anatomy)  کے بیان سے ظاہری مطابقت نہیں رکھتا ۔جدید تشریح کے مطابق ماء ِدافق ،انثیین میں بنتا ہے اور چھوٹی چھوٹی رگو ں کے ذریعہ ایک بڑی خم دار نلی میں آتا ہے ،جسے خصیہ فوقانی  (Epididymis) کہتے ہیں  اور وہاں سے ایک بڑی نلی ،مجرٰٰ ی ناقل (Deferent Duct)کے  ذریعہ کیسہ منی میں آتا ہے ،جہاں سے وہ مجرٰی دافع (Ejaculatory Duct) کے ذریعہ خارج ہوتا ہے۔

قرآن مجید اور جدید علم تشریح کے مذکورہ بالا بیانات میں جو شدید اختلاف نظر آتا ہے اس کی اصل وجہ انثیین (Testicle)کا موجودہ مقا م ہے ۔ انثیین کا اصلی مقام اس کے علاوہ ہے ۔جدید علم تشریح کے مطابق انثیین ،جنینی زندگی کے بالکل ابتدائی ایام میں جوف ِ شکم کے پچھلے حصے میں ہوتے ہیں  ،لیکن ساتویں قمری مہینے میں باریطون (Peritoneum) کےکیسہ مہبلی (Vaginal Sac)کے ساتھ نیچے اترتے ہیں اور دسویں قمری مہینے کے اختتام پر یہ فوطے میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔

جوفِ شکم سے فوطے میں انثیین کا یہ انتقال بعض ہارمون کے زیر اثر ہوتا ہے ۔خیال کیا جاتا ہے کہ انثیین اندرون ِ شکم درجہ حرارت برداشت نہ کرنے کی وجہ سے ہی فوطے میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔مزید برآں جرثومو ں کی تولید کے لیے کم درجہ حرارت کا ماحول بھی ضروری ہے ۔

اس طبی تشریح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انثیین کا اصلی مقام فوطے کی بجائے ٹھیک وہ جگہ ہے جسے قرآن نے   (بین الصلب و الترائب ) کہا ہے ۔خود انثیین کی موجودہ حالت اور اس کی متفرق ساختیں (Structure) بھی اس بات کی کھلی شہادت دیتی ہیں ۔چناچہ جب انثیین جوفِ شکم سے فوطے میں منتقل ہوئے تو اپنے ساتھ اپنی تمام ساختوں کے بھی کھینچ لے گئے ۔یہی ساختیں باہم مل کر معالیق الخصیہ (Spermatic Card)بناتی ہیں ۔ان میں شرائین (Arteries) وریدیں (Veins)،عروق لمفاویہ(Lymphatic Vessels) اور مجرٰی ناقل (Deferent Duct)شامل ہیں ۔  ان تما م ساختوں کا منبع و مدخل آج بھی اس امر کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے  کہ انثیین ،جوفِ شکم کا ہی حصہ ہیں ۔یہ ساختیں جوفِ شکم کےا س حصے کا تعین  بھی کردیتی ہیں جو انثیین کی اصلی جگہ ہے ۔ہم نیچے انثیین سے متعلق تمام ساختوں کے منبع ومدخل کو جدیدعلم ِ تشریح کی روشنی میں اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ قرآنی بیان کی صداقت پایہ ثبوت کو پہنچ جائے۔

 شریان (Arteries):۔ جو شریان ،انثیین کو خون سپلائی کرتی ہے ،اس کانام شریان انثیین (Testicular Artery)ہے۔ یہ تعداد میں دو ہوتی ہیں اور طہ (Aorta)کے بالکل سامنے شریانِ گردہ کے ذرا نیچے سے نکلتی ہیں۔

وریدیں (Veins):۔ جو وریدیں ،انثیین سے خون واپس لے جاتی ہیں ان کانام " اوردہ انثیینی " (Testicular Veins)ہے ۔یہ انثیین کی پشت سے برآمد ہوتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی وریدوں سے مل کر ایک جال بنا لیتی ہیں اور معالیق الخصیہ کے ساتھ ساتھ دیوارِ شکم سے گزر کر مختلف شاخوں میں تقسیم ہونے کے بعد بالآخر واحد ورید کی شکل میں وریدِگردہ کے کچھ نیچے ،اجوف نازل (Inferior Venacava)میں جا کرکھل جاتی ہیں۔

عروق لمفاویہ(Lymphatic Vessels):۔ یہ انثیین کی عروق ِ لمفاویہ دو گچھوں کی شکل میں شروع ہوتی ہیں اور متعدد ٹرنک بنا کر معالیق الخصیہ سے گذرتی ہوئی جانبی اور طی عقدہ لمفاویہ(Lateral Aortic Lymph Nodes) میں جا کر ختم ہوجاتی ہیں ۔یہ عقدہ لمفاویہ شکمی اور طہ کے دونوں جانب اعصاب شرکیہ کی بڑی شاخ(Sympathetic Trunk)  اور عضلہ صلبیہ کبیرہ (Psoas-Major)کے وسطی کنارے کے سامنے ہوتا ہے ۔

اعصاب (Nerves):۔ انثیین کو عصبی سپلائی دینے والے اعصاب دوطرح کے ہوتے ہیں ۔

  1. تناسلی  عصب فخذی(Genito Femoral Nerve):۔ جو اول ودوم اعصاب قطنیہ(First & Second Lumbar Nerve) سے نکلتا ہے ۔اسی کی ایک شاخ ،تناسلی شاخ (Genital Branch)بھی ہے  جو انثیین کو عصبی سپلائی دیتی ہے ۔

  2. اعصاب ِشرکیہ کا ضفیرہ انثیینی(Testicular Plexus of Sympathetic Nerves) : یہ شریان انثیینی کے ساتھ ساتھ انثیین تک جاتا ہے ۔ اس کا بالائی حصہ ضفیرہ اور طی کلوی(Renal & Aortic Plexus) کی شاخوں سے اور زیریں حصہ بالائی وزیرین ضفیرہ خثلیہ(Superior and Inferior Hypo gastric Plexus) سے ترکیب پاتا ہے ۔

انثیین سے متعلق مذکورہ ساختوں کا مخرج ومدخل صاف بتاتا ہے کہ انثیین کی اصلی جگہ جوفِ شکم کے پچھلے حصے میں گردےکے بالکل قریب  ہی واقع ہے ۔ یہ ٹھیک ٹھیک وہی جگہ ہے جسے قرآن(بین الصلب و الترائب ) کہتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ انثیین کی اصلی جگہ کی طرف(بین الصلب و الترائب ) کا جملہ جس خوبصورتی کے ساتھ اشارہ کررہا ہے وہ اعجازِ بیان کا منتہائے کمال ہے ۔

سوچئے ،کیا آج سے تقریباً دو ہزار سا ل پہلے کےکسی انسان کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ نہ صرف انثیین کی اصلی جگہ بلکہ اس کو کنٹرول کرنے والے عصبی نظام سے بھی واقف ہو؟یہ بات حد درجہ حیرت انگیز ہے اور یہ حیرت انگیزی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو ایک ایسے شخص نے بیان کیا ہے جو بادیہ عرب کا ایک امی تھا ۔ماءِ دافق کےسلسلے میں جو حیرت انگیز انکشاف اس نبی اُمی ﷺ نے کیا ہے اس کے متعلق ماضی کے  تمام نامور اطباء و حکماء بھی اندھیرے میں تھے۔ حکیم غلام جیلانی لکھتےہیں:

"متقدمین اطباء کو چونکہ جنین کے مدارج مختلفہ کی حقیقت معلوم نہ تھی ۔پس جب انہوں نے دیکھا کہ ایک قطرہ منی سے حمل قرار پاتا ہے  تو اس سے جنین کے تمام اعضاء بدن یعنی سارا جسم بنتا ہے ۔ اس لئے انہوں نے قیاس لگایا کہ منی ہر عضوِ بدن سے آتی ہے تب ہی تو اس میں یہ خاصہ ہےکہ اس سے تمام اعضاء ِجسم بنتے ہیں "

اپنے وقت کا عظیم طبیب اورحکیم بقراط بھی اس ماء ِدافق کی حقیقت سے ناواقف تھا۔حکیم غلام جیلانی لکھتے ہیں :

"اطباء قدیم نے لکھا ہے کہ منی چوتھے ہضم کا فضلہ ہے یعنی جب غذا ،اعضاء میں تقسیم ہوجاتی ہے تو جو اجذائے  غذائیہ جزوبدن ہونے سے باقی بچ رہتے ہیں  یعنی فاضل یا زائد ہوتے ہیں  ان سے مادہ منی بنتا ہے اور یہ منی وہ رطوبت غربیہ ہے جو جلد منعقد ہو کر صورت ِ اعضاء قبول کرتی ہے اور جملہ اعضاء مثل عظام،غضاریف،اعصاب ،اوتار،اربطہ ،شرائین،اوردہ اور اغشیہ بناتی ہے ۔اور بقول بقراط خمیر مایہ یا جزوِاعظم منی کا دماغ سے بذریعہ ان دورگوں  کے جو کان کے نیچے سے نخاع کے ساتھ ملی ہوئی اترتی ہیں ،نازل ہوتا ہے ا ور ہر عضور ئیس اور غیر رئیس کے شعبے ان رگوں میں آ کر مل جاتے ہیں  اور یہ سب انثیین میں پہنچتے ہیں  ۔ وہا ں پر خدا کی قدرتِ کاملہ و صنعت بالغہ سے انتظام جاری ہے کہ یہ مادہ مستعد(جو ابھی سرخی مائل ہوتا ہے ) رنگ محل سے متاثر ہو کر سفید ہو جاتا ہے  جیسا کہ پستان میں خون اپنی رنگت چھوڑ کر سفید دودھ ہو جاتا ہے "

آپ اس اقتباس سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ ماضی کے مایہ ناز اطباء و حکماء ،انثیین اور منی کی اصل حقیقت سے کس درجہ بے خبر تھے ۔یہ صورتِ حا ل اس بات کا ایک نہایت ہی محکم ثبوت ہے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ وہ ایک ایسی حکیم وعلیم ہستی کا کلام ہے جس نے انسان کی ایک ایک ساخت بنایا ہے  اور جو اس کے ہر ظاہر و پوشیدہ امر کو بخوبی جانتا ہے ۔


ماخذ:


قرآن اور سائنس ۔ترتیب وتدوین  از پروفیسر عبدالعلی اور ڈاکٹر ظفر الاسلام صفحہ165 تا170

تجلیات حق(وجود خدا کا اثبات ،قرآن اور سائنس کی روشنی میں  از الطاف احمد اعظمی صفحہ 342

گریز اناٹمی ، صفحہ 1261،1554

حکیم غلام جیلانی برق،بحر الجواہر ،لاہور1923،صفحہ 853 تا 855



Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours