پہاڑوں کی نقل وحرکت اور قرآن مجید


قرآ ن مجید میں اللہ تعالیٰ قیامت کے روز پہاڑوں کا بادلوں کی طرح اڑنے کا ذکر درج ذیل آیت کریمہ میں کرتے ہیں جس سے ان کی حرکت کا اشارہ ملتاہے:

(وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَةً وَّھِیَ تَمُرُّ السَّحَابِ ط  )

''آج تو پہاڑوں کو دیکھتاہے اورسمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں'مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح

اُڑ رہے ہوں گے ''   [1]

جد ید سائنس نے حا ل ہی میں معلوم کیا ہے کہ پہاڑ جامد اور بے حرکت نہیں ہیں جیسا کہ دکھائی دیتے ہیں۔پہاڑوں کی یہ حرکت زمین کے اس قشر(Crust) کی حرکت کا نتیجہ ہے جس پر وہ کھڑا ہے۔ یہ قشر ارض اس حفاظتی تہہ(Mantle) پر
''تیر''رہا ہے جو اس کی بہ نسبت کثیف تر ہے۔ 20ویں صدی کے اوائل میں ایک جرمن سائنس دان الفریڈ ویجنر(Alfred Wegener)نے تاریخ میں پہلی بار انکشاف کیا کہ شروع میں دنیا کے تمام براعظم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے لیکن بعد میں مختلف اطراف میں سرکتے سرکتے بالکل ہی جداہوگئے۔

ماہر ین علم الارض کو اس کی وفات کے تقریباً پچاس سال بعد 1960ء کے عشرے میں اس کی بات کے صحیح ہونے پر یقین اس وقت آیا جب پلیٹ ٹیکٹونکس کی تھیوری کی دریافت ہوٕئی۔ ویجنر نے 1912ء میں ایک مضمون لکھا  جس میں اس نے لکھا کہ 50کروڑ سال پہلے پورا خطہ ٔ زمین ایک عظیم تودے ''پنجیا''(Pangaea) کی صورت میں قطب جنوبی میں موجود تھا اور 18کروڑ برس پہلے یہ تودہ دو حصوں میں تقسیم ہو جانے کے بعد دو مختلف سمتوں میں حرکت کرنے لگا، ان میں سے ایک بڑا گوندوانا (Gondwana)تھا جس میں افریقہ ، آسٹریلیا 'اینٹارکٹیکااور انڈیا شامل تھے۔ دوسرا تودہ لاریشیا(Laurasia)تھا جو یورپ ،شمالی امریکہ اور ایشیا ماسوائے انڈیا پر مشتمل تھا۔ اس علیحدگی کے 15کروڑ سال بعدگوندوانا اورلاریشیا چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو گئے جو ''پنجیا '' کے ٹوٹنے کے بعد صفحہ ٔ ہستی پر مسلسل حرکت میں رہے۔ ان کی یہ حرکت چند سینٹی میٹر فی سال کی شرح سے تھی۔ اس عمل کے دوران سمندر بھی زمین ہی کی نسبت سے اپنی شکل تبدیل کرتے رہے۔

20ویں  صدی سے علم الارض پر تحقیق کاجو سلسلہ شروع ہو ااس میں کا فی پیش ر فت ہو چکی ہے چنانچہ ایک اور کتاب میں سائنس دانوں کی قشر ارض کے بارے میں تحقیق کواس طرح لکھا ہے :

''قشر (Crust)اور حفاظتی تہہ (Mantle)کا بالائی حصہ جن کی موٹائی تقریباً 100 کلومیٹر ہے متعددقطعوں میں منقسم ہیں جنہیں ''پلیٹیں ''کہاجاتا ہے۔ ان میں چھ بڑی پلیٹیں ہیں(جدید تحقیق کے مطابق 8بڑی پلیٹیں اور 20سے زیادہ چھوٹی پلیٹیں ہیں۔اور بعض کے مطابق کل 15پلیٹیں ہیں۔بہرحال پلیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے سائنس دانوں کے درمیان اختلاف رائے پایاجاتاہے ) اور باقی چھوٹی چھوٹی ہیں۔ نظریہ ٔ ساختمائی ارضیا ت (Theory of Tectonics)کے مطابق یہ پلیٹیں زمین کے اندر متحرک رہتی ہیں اور اپنے ساتھ براعظموں اورسمندروں کے فرشوں کو بھی حرکت دیتی ہیں.....اس براعظمی حرکت کی پیمائش کی گئی ہے جو 1.5سینٹی میٹر سالانہ بنتی ہے۔ ان پلیٹوں کی گردش آہستہ آہستہ زمین کے جغرافیہ میں تبدیلیا ں لا رہی ہے۔ سالہا سال سے جاری اس حرکت کی وجہ سے بحراوقیانوس قدرے وسیع ہوگیا ہے۔ '' [2]

جدید سائنس دانوں نے پہاڑوں کی اس حرکت کے لیے ''کانٹی نینٹل ڈرفٹ' ' (Continental Drift) کی اصطلاح استعما ل کی ہے جس کے معنی براعظموں کا ''بہنا''کے ہیں۔  [3] چنانچہ ماہرین ارضیات کی پہاڑوں کے متعلق تحقیقات قرآن مجید کی اطلاعات کے مطابق درست پائی گئی ہیں۔ جبکہ قرآن نے یہ اطلاعات اس وقت دی تھیں کہ جب جدید ٹیکنالوجی کا وجو د تک بھی نہ تھا کہ کسی انسان کے بس میں ہوتا کہ وہ ان باتو ں کی کھوج لگا سکتا۔


[1] النمل ، 37:88



[2]   General Science, Carolyn Sheets, Robert Gardener,Samuel Howe; Allyn And Bacon Inc. Newton,

 Massachusetts, Page.305-306.




[3] "Power of Nature"- National Geographic SocietyWashington D.C.,1978 P.12-13)

------------------------------------------------------------------------------------------------------
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours