پانی کا سائیکل ۔قرآن حکیم اور جدید سائنس کی روشنی میں


 1580ء میں برنارڈ پیلسی وہ پہلا شخص تھا کہ جس نے واٹر سائیکل کے متعلق کوئی نظریہ پیش کیا تھا۔ اس نے اس بات کی وضاحت پیش کی کہ سمندروں سے بخارات کی شکل میں اٹھنے والا پانی کس طرح ٹھنڈا ہو کر بادلو ں کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پھر یہ بادل ملک کے اندرونی حصوں کی طرف حرکت کرتے ہیں اور بلندی پر چٹرھ کر ٹھنڈک کی وجہ سے منجمد ہو جاتے ہیں اور پھر بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ یہ بارش کا پانی پھر جھیلوں ،ندی نالوں میں جمع ہوتا ہوا واپس سمندروں میں پہنچ جاتا ہے اور پانی کا یہ چکر چلتا رہتا ہے۔

 پرانے وقتوں میں لوگ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ زیر زمین پانی کہاں سے آتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ہو اکے اثر کی وجہ سے سمندروں کا پانی زمین کے اندرونی حصوں میں چلا جاتا ہے اورپانی کی واپسی کسی خفیہ راستے یا بہت گہری کھائی یا غار کے ذریعے ہوتی ہے اور یہ راستہ سمندروں سے ملا ہو اہوتا ہے جس کو ''ٹارٹرس'' کہا جاتا تھا۔ پلاٹو کے وقت تک یہی نظریہ عام تھا بلکہ آٹھویں صدی کا عظیم مفکر ''ڈسکارٹس'' بھی اسی نظریے کا حامی تھا۔ نویں صد ی میں ''آرس ٹوٹل '  کے نظریہ نے جنم لیا۔ اس نے کہا کہ پانی سرد پہاڑی کھائیوں یا غاروں میں جمع ہوتا ہے اورپھر زیر زمین بڑی جھیلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو چشموں کی صورت میں باہر نکلتا ہے۔جبکہ آج ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ بارش کا پانی زمین کی دراڑوں کے ذریعے جذب ہو جاتا ہے جس کو ہم استعمال کرتے ہیں۔

سائنس نے آج تسلیم کرلیا ہے کہ ''یہ حقیقت ہے کہ آج ہم جوپانی استعمال کرتے ہیں وہ کروڑوں اربوں سالوں سے موجود ہے ،اوراس کی موجودہ مقدار جو ہمیں میسر ہے ' میں کوئی بہت زیادہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ پانی پوری زمین میں مختلف حالتوں اور شکلوںمیں استعمال ہورہاہے۔ اس کو پودے اور جانور بھی استعمال کرتے ہیں مگر حقیقتا ً یہ کبھی بھی غائب نہیں ہوتا۔ یہ ایک بہت بڑے دائرے کی شکل میں بہتارہتاہے۔ اسی کو ہم Hydrolgic Cycleکہتے ہیں۔ (1)

سورج کی تپش سے سمندروں کا پانی بخارات میں بتدیل ہوتاہے ۔ اندازا لگایا گیا ہے کہ ہر سال 400,000کیوبک کلومیٹر سمندری پانی بخارات بن کر اڑتاہے ا ور فضاء میں شامل ہوتاہے۔اگریہ پانی سمندرمیں واپس نہ آئے اور اسی شرح سے سمندری پانی بخارات میں تبدیل ہو تا رہے توسمندر کی سطح ہرسال تقریباً 4فٹ تک کم ہوتی چلی جائے گی اور تقریباً 3500سال کے اندر تمام سمندر غائب ہوجائیں گے۔اسی طرح پودے بھی زمین سے پانی حاصل کرتے ہیں اور عمل تبخیر کے دوران اپنے پتوں کے چھوٹے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے پانی کے بخارات کو فضاء میں شامل کرتے رہتے ہیں۔چناچہ پودے اپنے اس عمل کے ذریعے ہر سال اندازاً 70,000 کیوبک کلومیٹر پانی  فضاء میں داخل کرتے ہیں ۔سائنسی تحقیق کے مطابق یہ بخارات بن کراڑنے والا پانی بارشوں کی شکل میں واپس آتاہے ۔زمین پر 1.4ارب کیوبک کلومیٹر پانی پایاجاتاہے ۔ اس میں سے 97%حصہ سمندری پانی کا ہے جو نمکین ہوتاہے۔چونکہ بخارات کی شکل میں سطح سمندرسے اُڑنے والا پانی تقریباً نمکین نہیں ہوتالہذا بارش اور برفباری کے نتیجے میں برسنے والا پانی بھی تقریباً میٹھا ہوتاہے ۔

  بارشوں سے 90فی صد پانی براہ راست سمندر میں گرتاہے جبکہ باقی زمین پر برسنے والی بارش کا پانی بھی دریاؤں کے ذریعے واپس سمندر میں آجاتاہے۔بارش کی شکل میں زمین پر گرنے والازیادہ تر پانی فوری طور پر ندی نالوں یا دریاؤں میں نہیں آتا بلکہ یہ زمین اورچٹانوں کی باریک دراڑوں ،درزوں اور سوراخوں سے فلٹر ہوتاہوا مختلف گہرائیوںمیں جمع ہوتارہتاہے جہاں یہ سینکڑوں سال تک بھی جمع رہتاہے مگر پھر بھی اس کی بڑی مقدار ندیوں تک آنے کا راستہ تلاش کرلیتی ہے اور بالآخر یہ سمندرمیں آگرتاہے۔ ہماری فضاء میں ہر وقت 12,000کیوبک کلومیٹر پانی جمع رہتاہے جبکہ دنیا کے تما م دریا اور میٹھے پانی کی جھیلیں 120,000کیوبک کلومیٹر پانی کا ذخیرہ رکھتی ہیں۔ زمین پر 36ملین کیوبک کلومیٹر میٹھا پانی پایاجاتاہے ۔دنیا میں میٹھے پانی کے دو بڑے ذخائر میں سے ایک برفانی تودے ہیں جو 28ملین کیوبک کلومیٹر سالانہ پانی فراہم کرتے ہیں جبکہ دوسرا ذخیرہ زمین ہے جس میں 8ملین کیوبک کلومیٹر پانی جمع رہتاہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ زمین پرپائی جانے والی تما م برف برفانی تودوں کی شکل میں انٹارکٹیکا اورگرین لینڈ میں پائی جاتی ہے ۔یہ برفانی تودے زمین کے 17ملین مربع کلومیٹر کے علاقے کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کی اوسطاً گہرائی 1.5کلومیٹر ہے ۔اس کے علاوہ پہاڑوں کی وادیوں میں گلیشیئرز بھی پائے جاتے ہیں جو ان برفانی تودوں(Ice Caps)کی نسبت کافی چھوٹے ہوتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق اگر ان برفانی تودوں اورگلیشیئرز کی تمام برف پگھل جائے تو سمندروں کی سطح 80میٹر تک بلند ہوسکتی ہے۔اس سے اندازا لگایاجاسکتاہے کہ کوئی تو ہے جو پانی کی مقدار کو بھی کنڑول میں رکھے ہوئے ہے اس کی مقدار میں انتہائی اضافہ بنی نوع انسان سمیت ہر جاندار کی ہلاکت کا سبب بن سکتاہے۔چناچہ یہ اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ وہ زمین پر اتنا ہی پانی فراہم کرتاہے کہ جتنا ہمیں چاہیے ،اگر بعض علاقوں اور خطوں میں پانی کی کمی کی شکایت پائی جاتی ہے تو ایک تو یہ اللہ کی آزمائش بھی ہوسکتی ہے ،جبکہ دوسری بڑی وجہ انسان کی بے تدبیری ، لاپرواہی اور اختیارات کی ناجائز تقسیم کے ساتھ ساتھ بڑے ملکوں کی چھوٹے ملکوں کے ساتھ سینہ زوری ہے۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنائت کردہ وسائل کو محنت اور ایمانداری سے کام میں لائیں تو انشاء اللہ دنیا پر کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوگی ۔(2)

آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ٰ قرآن مجیدمیں پانی کے متعلق ہمیں کیا معلومات فراہم کرتاہے۔ ارشاد ہوتاہے:

(اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآ ءَ  فَسَلَکَہ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرٰ ہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُہ حُطَامًا ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لِذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ) ۔(الزمر ،39:21)

'' کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا 'پھر اس کو سوتوں ، چشموں اوردریاؤں کی شکل میں زمین کے اندرجاری کیا 'پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتاہے جن کی قسمیں مختلف ہیں'پھر وہ کھیتیاں پک کر تیارہو جاتی ہیں'پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں 'پھر آخر کار اللہ اُن کو بھس بنادیتا ہے۔ درحقیقت اس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے۔''
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

(وَمِنْ اٰیٰتِہ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآ ءَ   فَیُحْی بِہِ الْاَرْضَ بَعَدَ مَوْتِھَا ط اِنَّ فَیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ)

'' اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی (کی چمک )دکھاتا ہے جس سے تم ڈرتے ہو اور امید بھی رکھتے ہو اور آسمان سے پانی برساتاہے جس سے زمین کو اس کے مرنے  کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔سمجھنے سوچنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیا ں ہیں '' (3)

سورة المٔومنون میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآ ءَ   م بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فَی الْاَرْضِ ق وَاِنَّا عَلٰی  ذَھَابٍ م بِہ لَقٰدِرُوْنَ)

'' اورآسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اُتارا اور  اس کو زمین میں ٹھہرادیا 'ہم اُ سے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں '' (4)

مولانا عبدالرحمان کیلانی  اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ '' سوال یہ ہے کہ ایک خاص مقدار میں پانی اللہ تعالیٰ نے کب اتارا تھا ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیداکی تواس وقت ہی ایک خا ص اور کثیر مقدار میں پانی اتاردیا تھا۔ اتنی کثیر مقدار میں جو قیامت تک زمین پر پیدا ہونے والی مخلوق ،خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتی ہو،کی ضروریات کے لیے کافی ہو۔اس کثیر مقدار کے ایک بڑے حصہ نے زمین کی چوتھائی سطح کو سمندروں کی شکل میں تبدیل کر رکھا ہے۔پھراس کثیر مقدار کا بڑا حصہ زمین کی سطح کے نیچے چلا گیا جیسے زمین کے نیچے بھی پانی کے دریا بہہ رہے ہیں اور سطح زمین کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے کہ جہا ں سے کھودیں نیچے سے پانی نکل آتا ہے۔ جسے انسان نکال کر اپنے استعمال میں لاتا ہے اور کبھی زمین سے از خود چشمے ابل پڑتے ہیں۔

 پھر اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم فرمایا کہ سورج کی گرمی سے سمندر سے آبی بخارات اوپر اٹھتے ہیں جو کسی سرد طبقہ میں پہنچ کر بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور مزید سردی سے زمین پر برسنے لگتے ہیں۔ اس بارش کے پانی سے زمین کی تمام نباتات سیراب ہوتی ہیں۔ جاندار بھی اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ پھر اس بارش کا کچھ حصہ زمین میں جذب  ہو جاتا ہے اور باقی حصہ ندی نالوں اوردریاؤں کی شکل میں پھر سمندروں میں جا گرتاہے۔اور جو پانی مخلوق استعمال کرتی ہے وہ بھی بالآخر یا تو پانی کی شکل میں زمین میں چلا جاتاہے یا بخارات بن کر ہوا میں مل جا تاہے۔ ان تصریحات سے نتیجہ یہ نکلتاہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے پانی کی جتنی مقدار زمین پر نازل فرمائی تھی ،اس مقدارمیں نہ کچھ اضافہ ہواہے اورنہ ہی کمی واقع ہوئی ہے۔ البتہ اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کا ایک مستقل اور دائمی انتظام مہیا فرما دیا ہے۔(5)

ہر لمحے کئی مکعب میٹر پانی سمندر و ں سے اٹھا کر کرۂ ہوائی میں بھیج دیا جاتا ہے اور پھر اسے زمین پر واپس لایا جاتا ہے۔ زندگی کا دارومدار پانی کے اس دائر ہ کی شکل میں چکر کاٹنے پر ہے۔ ہم دنیا بھر کی ٹیکنالوجی بھی استعمال کر لیتے تب بھی پانی کا ایسا چکر (Cycle)بنانے میں کبھی کامیاب نہ ہوتے۔ ہم بخارات کے ذریعے پانی حاصل کرتے ہیں جو زندگی کے لیے اوّلین شرط ہے۔ اس پر کوئی اضافی لاگت یا توانائی خرچ نہیں ہوتی۔ سمندروں سے ہر سال 45ملین مکعب میٹر پانی بخارات میں تبدیل ہوتاہے۔ بخارات میں تبدیل شدہ پانی کو ہوائیں بادلوں کی شکل میں خشکی پر لے جاتی ہیں۔ہر سال 3-4ملین مکعب میٹر پانی سمندروں سے خشکی تک لے جایا جاتا ہے اور پھر یہ ہم تک پہنچتاہے۔

صرف پانی ہی کو لے لیں جس کے اس دائرہ میں چکر کاٹنے پر ہمیں کوئی کنڑول حاصل نہیں ہے۔ اور جس کے بغیر ہم چند روز سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے، اسے ایک خاص طریقے سے ہمیں بھیجا جاتاہے۔ (6)مندرجہ بالا آیا ت اور ان کی تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ 1400سال پہلے پانی کے اس چکر کی جو ٹھیک ٹھیک وضاحت قرآن مجید نے پیش کی ہے اس کی مثال کہیں اورنہیں ملتی۔ یقینا اس کائنات کا خالق ہی اپنی چیزوں کی بناوٹ کے متعلق ٹھیک ٹھیک بیان کر سکتا ہے،جوکسی انسان کے بس کی بات نہیں۔


.............................................................................................

حواشی


(1)۔     قرآن اینڈ ماڈرن سائنس از ڈاکٹر ذاکر نائیک صفحہ20,21


(2)۔ (Microsoft Etarctica DVD Version 2009)

(3)۔     قرآن اینڈ ماڈرن سائنس از ڈاکٹر ذاکر نائیک صفحہ20,21

(4)۔   23:18

(5)۔   تیسیرالقرآن ،جلد سوم،المومنون، حاشیہ 20

(6)۔    اللہ کی نشانیا ں ،عقل والوں کے لیے۔صفحہ234-235

www.ga.water.usgs.gov/ edu/watercycle.html

www.mnforsustain.org/ water_climate_global_wat..
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

2 comments so far,Add yours