,


بادل،اولے اور بارش کا میٹھا پانی اللہ کی قدرت کی نشانیاں


آب وہوا ہی موسم میں تبدیلیا ں لاتی ہے اورسردی یا گرمی کے فرق کو نمایا ں کرتی ہے۔ جب بادل چھٹ جاتے ہیں تو آب وہوا موسم کے درجہ حرارت میں معمولی سا اضافہ کردیتی ہے۔ پانی کے بخارات اگرچہ ہو امیں تیرتے رہتے ہیں ، لیکن د کھائی نہیں دیتے، جونہی ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے تو آبی بخارات پانی کے بڑے بڑے قطروں میں دوبارہ تبدیل ہو جاتے ہیں اورجب یہ بہت بھاری ہو جاتے ہیں تو ہوا میں معلق ہو کر زمین کی طرف آنا شروع کردیتے ہیں۔ پس پانی کے لاکھوں کروڑوں قطروں کا ایک ساتھ زمین کی طرف گرنا بارش کہلاتا ہے۔


 بادل پانی کے ننھے قطروں یا نمی کے چھوٹے چھوٹے ذروں کے ملنے سے بنتے ہیں ،جب آبی بخارات ٹھنڈے ہو جاتے ہیں تویہ پانی یا نمی کے ذروں کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔بادل پانی کے قطروں کا مجموعہ ہوتے ہیں یانمی کے ذروں کے ملنے سے بنتے ہیں۔ پانی کے بخارات بھی بہت بلندی پر پہنچ کر نمی کے ذرات کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔یہ ذرات لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اکٹھے ہو کر ایک گروپ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جنہیں بادل کہاجاتا ہے۔ ان بادلوں کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔بلکہ صاف شفاف ہوتے ہیں ، سورج کی روشنی انہیں مزید سفید اورچمک دار بنادیتی ہے اورجب وہ آسمانوں میں تیر رہے ہوتے ہیں تو ان سے مختلف تصاویر اوراشکال بنتی ہوئیں نظر آتی ہیں۔بعض دفعہ آسمان پر بہت بڑا بادل بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے جب چھوٹے چھوٹے بادلوں کی بہت سی تہیں ایک جگہ اکٹھی ہو جاتی ہیں تو بڑے بادلوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ایسے بادل سورج کی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے نہیں دیتے اور ان میں رکاوٹ ڈال دیتے ہیں لہٰذا ایسا دن ابر آلود کہلاتا ہے۔


ایسا اتفاق بھی ہوتا ہے کہ بادل آسمانوں پر بہت بلندی پر چلے جاتے ہیں جہاں بہت زیادہ سردی ہوتی ہے۔ وہاں ننھے آبی بخارات جم جاتے ہیں۔تب یہ ذرات ہو ا میں نیچے کی طرف تواتر سے گرنا شروع ہوجاتے ہیں،جنہیں برف باری یا اولے پڑنا کہتے ہیں۔ پانی کے یہی ننھے قطرات جب آسمان کی بلندیوں کو چھوئیں تو بادل کہلاتے ہیں لیکن جب یہی بادل زمین کی سطح تک آجائیں توانہیں دھند کہا جانے لگتا ہے۔ پس جب ہم دھند میں چل پھررہے ہوتے ہیں توگویا بادلوں کے اندر گھوم رہے ہوتے ہیں۔


اولے کیا ہیں؟


کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو آسمانوں میں بنتے وقت کسی اورشکل میں ہوتی ہیں لیکن زمین تک پہنچتے پہنچتے ان کی شکل وصورت بالکل تبدیل ہوجاتی ہے ،ان میں اَولے سرفہرست ہیں۔ اَولے بارش کی طرح سے ہی شروع ہوتے ہیں لیکن پانی کے کچھ قطرات ہو اکی تیزی سے نیچے گرنے کے بجائے بہت اونچائی پر چلے جاتے ہیں۔جہاں بہت زیادہ ٹھنڈ ہوتی ہے جس سے وہ جم جاتے ہیں اور جمنے کے بعد نیچے گرنا شروع کردیتے ہیں لیکن جونہی نیچے کی طرف آتے ہیں ہوا ان کو دوبارہ اوپر بھیج دیتی ہے جس سے برف کی کئی تہیں جم جاتی ہیں اوربالآخر وہ نیچے زمین کی طرف آجاتے ہیں۔یہ عمل باربار ہوتا ہے۔ یعنی ہر دفعہ جب پہلے اَولے گرتے ہیں تو دوبارہ یہی عمل ہو تا ہے اور پھر نئے اَولے بن جاتے ہیں۔
بعض اوقات تو ایسے اَولے بھی دیکھے گئے ہیں جو بیس بال (Base Ball)جتنے بڑے تھے۔اگر ان اَولوں کو درمیان میں سے کاٹ کر دیکھیں تو ان میں بہت سی تہیں ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی دکھائی دیں گی۔ ان تہوں سے بخوبی اندازہ لگا یا جاسکتاہے کہ ایک اولے کو زمین تک آنے سے پہلے کتنی بارفضا کی بلندیوں میں اوپر نیچے ہوناپڑتا ہے تب جاکر وہ زمین کی سطح پر گرتے ہیں۔اوریہ سب ہو ا کی بدولت ہوتاہے۔ (1)

موسمی ریڈار کی ایجاد کے بعد ہی یہ دریافت کر نا ممکن ہو اہے کہ وہ کون کون سے مراحل ہیں جن سے گزرکر بارش یہ شکل اختیار کرتی ہے۔ اس دریافت کے مطابق بارش تین مراحل سے گزر کر اس شکل میں آتی ہے۔ پہلامرحلہ ہواکی تشکیل کاہے ،دوسرا بادلو ں کے بننے کا اور تیسرا بارش کے قطروں کے گرنے کا۔قرآن میں جو کچھ بارش کی تشکیل کے بارے میں بتایا گیا ہے وہ اور جو کچھ ان دریافتوں سے پتہ چلا ہے دونوں کے درمیان بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ جب ہوائیں بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو دھکیل کر اکٹھا کرتی ہیں تو یہ بڑے بڑے بادلوں کے پہاڑوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور پھران کے آپس میں ٹکرانے سے آسمانی بجلی پیدا ہوتی ہے اور بالآخر بارش شروع ہو جاتی ہے۔اس حقیقت کی طرف درج ذیل آیا ت میں اشارہ کیا گیا ہے:

(اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہ ثُمَّ یَجْعَلُہ رُکَامًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہ ج وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْھَا مِنْ م بَرَدٍفَیُصِیْبُ بِہ مَنْ یَّشَآءُ وَیَصْرِفُہ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ ط یَکاَدُ سَنَا بَرْقِہ یَذْھَبُ بِا لْاَبْصَارِ)

''کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے پھر بادل(کے اجزا)کو آپس میں ملا دیتاہے پھر اسے تہہ بہ تہہ بنا دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے بارش کے قطرے ٹپکتے ہیں اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں،اولے برساتا ہے پھر جسے چاہتا ہے ان سے نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے۔ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے'' (الروم ، 30:48)

ایک دوسرے مقام پر اللہ رب العزت کا ارشاد پاک ہے کہ :

(اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُہ فِی السَّمَآءِ کَیْفَ یَشَآءُ وَیَجْعَلُہ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہ ج فَاِذَآ اَصَابَ بَہ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ)

'' اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتاہے تو وہ بادل کو اٹھالاتی ہیں۔پھر جیسے چاہتا ہے اس بادل کو آسمان میں پھیلادیتا ہے اور اسے ٹکڑیاں بنا دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے اس میں سے نکلتے آتے ہیں پھر جب اللہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہے بارش برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں '' (الروم ، 30:48)

ان آیات کریمہ سے معلوم ہوتاہے کہ ہوائیں اللہ کے حکم سے بادلوں کو فضا میں پھیلاتی اورٹکڑیوں میں بانٹتی رہتی ہیں اور جہاں اللہ کا حکم ہوتاہے ان علاقوںمیں بادلوں سے پانی بارش کی شکل میں برسناشروع ہوجاتاہے۔گھومتے ہوئے جب یہ بادل کسی ایسے ٹھنڈے فضائی علاقے میں پہنچتے ہیں جو آبی بخارات کو پھر سے پانی میں منتقل کر سکیں تو وہا ں بھی بادلوں کا سارا پانی یک لخت زمین پر نہیں گر پڑتا ،بلکہ قطرہ قطرہ بن کر گر تا ہے۔حتی ٰ کہ اگر برودت زیادہ ہو تو بھی وہ قطرے ہی اَولے بن کر گرتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ زیادہ سردی کی وجہ سے یک لخت سارا پانی برف بن کر ایک ہی دفعہ کسی جگہ پرگر پڑے۔ اس پانی کی کثیر مقدار کو اس انداز میں نازل کرناکہ وہ خلق خدا ،درختوں اور نباتات ِارضی کے لیے نقصان دہ ہونے کے بجائے فائدہ مند ثابت ہو یہ آخر کار کون سے بے جان طبعی قوانین کا نتیجہ ہے؟پھر یہی بخارات جب شدید سرد منطقہ میں پہنچتے ہیں تو پانی جم جاتاہے، اسی کیفیت کے متعلق قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ بلندی میں اولوں کے پہاڑ ہوتے ہیں جن کا فائدہ بہت کم اور نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی وہ ہی چیز جو اللہ کی رحمت تھی۔ اللہ کا عذاب بن کر گرنے لگتی ہے اور فصلوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے انہیں تباہ کردیتی ہے اور یہ اولے بھی گرتے اسی مقام پر ہیں جہاں اللہ کو منظور ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کے مطابق ہواؤں کے رخ کو فوراًپھیر دیتا ہے اورجن لوگوں کو چاہتاہے اَولو ں کے عذاب سے بچا بھی لیتاہے اورجس قوم پر چاہتاہے یہ عذاب اسی پر نازل ہوتاہے۔ آبی بخارات یا منجمد بادلوں کے ٹکراؤ سے بجلی بھی پیدا ہوتی ہے جو گرکر ہر چیز کوجلا دیتی ہے اور اسے تباہ کر کے رکھ دیتی ہے اور اس کی روشنی اس قدر تیز اور نگاہوں کو خیرہ کرنے والی ہوتی ہے کہ اگر انسان کچھ دیر اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کی بینائی کے نور کو بھی تباہ کر کے رکھ دے۔

یقینااس میں اللہ کی بڑی حکمتیں ہیں۔علاوہ ازیں ہمارا مشاہد ہ ہے کہ ہر سال یکسا ں بارش نہیں ہوتی۔ ایک سال تو بارشوں کی کثرت سے اس خاص مقام پر سیلاب آجا تا ہے اور کوئی سال بالکل خشک گزر جاتا ہے یعنی سرے سے بارش ہوتی ہی نہیں پھر ان طبعی قوانین کے نتائج میں یہ کمی بیشی اور تبدیلی کیوں واقع ہوتی ہے؟آخر ان باتوں سے یہ نتیجہ کیوں نہیں نکالا جا سکتا کہ کوئی ایسی زبردست اور بالاترہستی بھی موجود ہے جو ان بے جان قوانین کے نتائج میں تبدیلی کا پورا پورا اختیار رکھتی ہے۔(2)

علم موسمیات کے ماہرین نے معلوم کیاہے کہ بادلوںکے وہ ٹکڑے جو اَولے برساتے ہیں وہ 4.7سے 5.7میل (7.6سے9کلومیٹر) تک بلند ہوتے ہیں۔(3)بادلوں میں گرج اورچمک کا پیداہونا حقیقت میں بجلی کا پیدا ہونا ہے۔ بادل جب ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو ان میں رگڑ پیدا ہوتی ہے اوررگڑ سے گرج آور بجلی بنتی ہے۔ بادلوں میں اگر نمی یا پانی کے قطرات نہ ہوتے تو کبھی بجلی پید انہ ہوتی۔ اگر پانی یانمی کے بغیر ایسا ہوتا تو کسی بھی دھات کوچھونے پر بجلی کا کرنٹ پید ا ہو جاتا۔ بادلوں میں پانی کے قطرات گھومتے ہوئے جب ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو وہ برقیائے جانے لگتے ہیں، جس سے بجلی پیداہونے لگتی ہے۔چارج شدہ ایک بادل اگر چارج شدہ دوسرے بادل سے اچانک ٹکرا جائے توگرج کے ساتھ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ جو اچھل کر زمین کی طرف آجاتی ہے۔ جب یہ زمین پر گرتی ہے تو دھماکے کے ساتھ بڑا شعلہ پیداکرتی ہے۔ بادلوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے سے چمک پیدا ہوتی ہے۔ چمک پیداہونے سے ہوا گرم ہو کر پھیلتی ہے۔ اس لہر سے پیدا ہونے والی گرج دارآوازہمیں چند سیکنڈ بعد سنائی دیتی ہے۔چونکہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ تیز ہے ،اس لیے بادلوں کے آپس میں ٹکرانے سے پہلے روشنی کی چمک اوربعد میں گرج کی آواز سنائی دیتی ہے۔ آواز کی رفتار 3سیکنڈ فی کلومیٹر کے حساب سے سفرکرتی ہے۔ (4)

سائنس دانوں کے مطابق دنیا کے مختلف مقامات پر روزانہ ہزاروں دفعہ بجلی گرتی ہے۔ اندازاً ایک سیکنڈ میں100دفعہ آسمانی بجلی کی لہریں زمین پرگرتی ہیں۔ہر سال تقریباً 1000 افراد اس کی زدمیں آکر ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہوجاتے ہیں۔آسمانی بجلی جہاں نقصان دہ ہے وہاں اس کا فائدہ بھی ہے، وہ یہ کہ جب یہ زمین پر گرتی ہے تو اس میں نائیٹروجن پید اکردیتی ہے جو پودوں کی نشوونما کے لیے ایک ضروری شے ہے۔ (5)

اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بارش کا رحمت کے ساتھ برسنا ہے تاکہ وہ انسانوں اور جانداروں کے لیے زخمت نہ بنے۔ چناچہ بارش جب برستی ہے تو اس کا پانی ایک خاص مقدار اور رفتار سے زمین پر گرتاہے۔ بارش کا پانی تقریباً 1200میٹر کی بلندی سے گرایا جاتاہے۔چنانچہ کسی اور چیز کو کہ جس کا پانی کے قطرے جتنا وزن اور سائز ہو مسلسل تیزی کے ساتھ اسی بلندی سے زمین پر گرائیں تو وہ چیز زمین پر 558کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرے گی مگر رب کائنات کی مہربانی ہے کہ بارش کے قطروں کی اوسط رفتار 8-10کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بارش کے قطرے کی ایک خاص شکل ہوتی ہے جو کرہ ٔ ہوائی کی رگڑ کے اثر کو بڑھا دیتی ہے اور اسے زمین پر مزید سست رفتاری سے گرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر بارش کے قطروں کی شکل اورہوتی یا کرہ ٔہوائی میں رگڑ کی خا صیت نہ ہوتی تو بارش کے دوران زمین پر کس قدر تباہی پھیلتی اس کا اندازہ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے اعدادوشمار کافی ہیں۔

بارش برسانے والے بادلوں کے لیے کم از کم بلندی 1200میٹر ہوتی ہے۔ ایک قطرے سے پیدا ہونے والا اثر ،جو کہ اس بلندی سے گرے ایک ایسی شے کے برابر ہو گا کہ جس کا وزن ایک کلوگرام اور جسے 15سینٹی میٹر کی بلندی سے گرایا گیا ہو۔ بارش برسانے والے کچھ ایسے بادل بھی ہیں جو 10,000میٹر کی بلندی سے پانی برساتے ہیں۔ یہاں ایک قطرے سے پیدا ہونے والا اثر ، جو کہ اس بلندی سے گرے ایک ایسی شے کے برابر ہو گا کہ جس کا وزن ایک کلوگرام اور جسے 110سینٹی میٹر کی بلندی سے گرایا گیا ہو۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس صورت میں زمین پر جانداروں کا زندہ رہنا ناممکن ہو جاتا نیز کوئی عمارت بھی اپنی جگہ پر قائم نہ رہ سکتی تھی۔(6)

اس کے علاوہ قرآن ہماری توجہ بارش کے ''میٹھے ''پانی کی جانب بھی دلاتا ہے:

(اَفَرَ أَ یْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ ۔ءَ   اَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ ۔ لَوْنَشَآءُ جَعَلْنٰہُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْکُرُوْنَ)

'' کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا یہ پانی جو تم پیتے ہو اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں ؟ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے ؟۔(واقعہ ۔ 68-70)

(وَاَسْقَیْنٰکُمْ مَّآءَ فُرَاتًا)

''....اورتمہیں میٹھا پانی پلایا ....''(المرسلات : 77:27)

(ہُوَالَّذِی اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءَ لَّکُمْ مِّنْہُ شَجَر فِیْہِ تُسِیْمُوْنَ)

''وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے ''۔(النحل 16:10 )

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بارش کے پانی کا منبع بخارات ہیں اور 97%بخارات ''نمکین '' سمندروں سے اٹھتے ہیں۔ مگر بارش کا پانی میٹھا ہو تا ہے۔ یہ میٹھا کیوں ہوتاہے اس کی وجہ اللہ کا بنایا ہو ا ایک اورطبعی قانون ہے۔ اس قانون کے مطابق جب سمندروں کی سطح پر سورج کی حرارت سے آبی بلبلے بنتے ہیں تو ان میں سمندری نمک کے مہین ذرات بھی شامل ہوجاتے ہیں جو آبی بخارات کے ساتھ فضامیں شامل ہوتے رہتے ہیں۔اگرچہ کرۂ ہوائی اسطرح ایک دن میں تقریباً 2.7کروڑ ٹن نمک جمع کرلیتا ہے مگر اس کے مقابلے میں تبخیر شدہ پانی اور زمین پر برسنے والے پانی کی بڑی کثیر مقدار میں یہ نمک بس اس قدر ہوتا ہے جو اس کو میٹھا بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے اور آبی بخارات کی نمکینی قدرت کے طے شدہ تناسب سے بڑھنے نہیں پاتی ۔

زمین کو پانی مہیا کرنے کے علاوہ جو جانداروں کی ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی کاتصور ہی نہیں کیا جا سکتا ،بارش کا ایک قطرہ ایک اور اثر زرخیزی پیداکرتاہے۔ بارش کے وہ قطرے جو سمندروں سے بخارات کی شکل میں اٹھتے اور بادلوں تک پہنچتے ہیں ان میں بہت سے ایسے مواد ہوتے ہیں جو مردہ زمین کو ''زندگی بخشتے ہیں ''۔ان ''حیات بخش ''قطروں کو ''سطحی تناؤ کے قطرے '' کہا جاتاہے۔

یہ سطحی تناؤ کے قطرے سطح سمندر کے سب سے اوپر والے حصے میں بنتے ہیں جسے حیاتیات دانوں نے خوردتہہ (Micro Layer) کا نام دیاہے۔یہ تہہ جو ایک ملی میٹر کے دسویں حصے سے بھی زیادہ پتلی ہوتی ہے اس میں بہت سی نامیاتی باقیات رہ جاتی ہیں جو خوردبینی آبی پودوں او ر آبی جانوروں سے پیدا کردہ آلودگی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ان باقیا ت میں سے کچھ اپنے اندر کچھ ایسے عناصر کو منتخب کرنے اورجمع کرنے کاعمل جاری رکھتی ہیں جو سمندری پانی میں بہت نایا ب ہوتے ہیں مثلاًفاسفورس ،میگنیشیم ،پوٹاشیم اور کچھ بہت بھاری دھاتیں مثلا ً تانبا ،زنک ،کوبالٹ (Cobalt) اور سیسہ۔کھادوں سے لدے ہوئے ان پانی کے قطروں کو ہوائیں آسمان کی طرف اٹھا کر لے جاتی ہیں اور پھر کچھ ہی دیر بعد یہ بارش کے قطروں کے اندر شامل ہو کر زمین پر گرنے لگتی ہیں۔ زمین پر بیج اور پودے ان بارش کے قطروں میں بہت سے دھاتی نمکیات اور ایسے عناصر حاصل کرتے ہیں جو ان کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔اس بات کو ایک سورة میں یوں بیان فرمایا گیا ہے:

(وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءَ مُّبٰرَکًا فَاَنْبَتْنَا بِہ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ)

''اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا پھر اس سے باغ اورفصل کے غلے پید ا کر دیے '' ۔(ق:50:09)

وہ نمکیا ت جو بارش میں زمین پر گرتے ہیں مختلف روایتی کھادوں (کیلشیم ،میگنیشیم،پوٹاشیم وغیرہ )کی چھوٹی مثالیں ہیں جو زمین کی زرخیزی میں اضافے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف ان ایر وسولز (Aerosols)یعنی آبی بخارات میں بھاری دھاتیں پائی جاتی ہیں۔ پھر کچھ ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جو پودوں کی نشوونما اور پیداوار کے لیے زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔مختصریہ کہ بارش ایک اہم کھاد کا کا م کرتی ہے۔ ایک بنجر زمین میں پودوں کے لیے ضروری تمام چیزیں کروڑوں برسوں سے بارش کے ذریعے گرائی گئی کھادکی شکل میں فراہم کی جارہی ہیں۔ جنگلات بھی ان ہی سمندروں سے اٹھنے والے ایروسولز سے پھلتے پھولتے اور خوراک حاصل کرتے ہیں۔اس طرح ہر سال 150ملین ٹن کھادپوری زمین پر گرتی ہے۔ اگر اس قسم کی قدرتی زرخیری موجود نہ ہوتی تو زمین پر سبزہ وگل بہت کم نظر آتے اور ماحولیا تی توازن بگڑ گیا ہوتا۔(7)
یہ حقیقت ہے کہ جدید سائنس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو جس طرح سمجھنے میں آج ہمیں مدد فراہم کی ہے ،وہ بے مثال ہے ۔گو کہ ایک مسلمان کے نزدیک کسی چیز کے صحیح اور غلط ہونے اورپرکھنے کے لیے اصل کسوٹی ''قرآن مجید ''ہی ہے ،سائنس نہیں۔تاہم کئی سائنسی ثابت شدہ دریافتوں نے ہمارے قرآن مجید پر ایمان کو دوچندکیا ہے اور اس کی سچائی غیر مسلموں کے سامنے بھی اظہر من الشمس ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

بادلوں کی اقسام


بادلوں کی درج ذیل چار اقسام ہیں،جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1)۔ تودہ ابر(Cumulus): یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ''ڈھیر''کے ہیں،یہ پھولے پھولے سفید رنگ کے بادل ہیں جو آسمان پر موٹی موٹی تہوں کے ڈھیروں میں نظر آتے ہیں،ان کی شکل گنبد نما ہوتی ہے جو بالائی حصے سے گول اورنچلے حصے سے چپٹے ہوتے ہیں۔آسمان پر جب یہ بادل چھائے ہوئے ہوں تو آسمان یوں دکھائی دیتاہے جیسے اس پر روئی کے پہاڑوں کانہایت ہی خوبصورت سلسلہ موجودہو۔ اس طرح کے بادل عموماً شدید موسم گرما میں بعد دوپہر دکھائی دیتے ہیں اورعام طورپر 4000سے 5000فٹ کی بلندی پر پائے جاتے ہیں،جب یہ بادل پانی سے بھر جاتے ہیں تو گرجنے اوربرسنے والے بن جاتے ہیں۔ان میں تقریباً 300,000ٹن تک پانی جمع ہوتا ہے۔

2) طرۂ ابر(Cirrus): یہ بھی لاطینی لفظ ہے۔ اس کے معنی ''گھنگھریالے ''ہے۔ یہ بادل بہت بلندی پر بنتے ہیں۔ان کی شکل سفید گھنگھریالے پروں جیسی ہوتی ہے۔ نازک نازک سے یہ بادل خشک موسم میں دکھائی دیتے ہیں ، عام طور پر یہ بادل ہماری زمین سے 6.4سے 8کلومیڑکے فاصلے پر ہوتے ہیں۔آسمان پر پائے جانے والے یہ بلند ترین بادل ہیں ،جو ہواؤں کے رخ پر اڑتے ہیں اورعام طورپر طوفانوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

3) طبق ابر(Stratus): یہ بھی لاطینی لفظ ہے جس کے معنی ''پھیلنے والے'' ہیں۔آسمان پر یہ بادل چاروں طرف پھیلے ہوئے اوردھندنما نظر آتے ہیں۔یہ زیادہ بلندی پر نہیں ہوتے۔ عام طورپر 2000سے7000فٹ کی بلندی پر پائے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ بادل خاموش دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ خراب موسم کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

4)ابرباراں (Nimbus): یہ بھی لاطینی زبان کالفظ ہے ،اس کا مطلب بارش کا طوفان ہے۔ انہیں بارشی بادل بھی کہا جاتا ہے۔ ان بادلوں کارنگ گہر ا سلیٹی ہوتاہے ،ان کی کوئی واضح شکل وصورت نہیں ہوتی۔ ماہرین موسمیات انہی بادلوں کامشاہدہ کرکے موسم کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہیں۔(8)

چنانچہ اس مسٔلہ میں بھی جدید سائنس اور قرآن میں زبرست مماثلت پائی جاتی ہے گو کہ سائنس دانوں کی اکثریت نے ابھی تک خداکے وجو د کا اقرار نہیں کیااور وہ تما م چیزوں کی وضاحت اپنے بنائے ہوئے قوانین اور اصولوں کے تحت ہی کر رہے ہیں مگر امید ہے کہ ایک دن آئے گا کہ وہ اپنی ان تحقیقات کے نتیجے میں بالآخر اللہ تعالیٰ کی عظیم ہستی کو نہ صرف تسلیم کر لیں گے (جیسا کہ بعض سائنس دان تسلیم کر چکے ہیں ) بلکہ ان چیزوں کی وضاحت کے لیے سائنسی اصولوں اورقوانین کے ساتھ ساتھ ربِ کائنات پر بھی ایمان لے آئیں گے۔ان شاء اللہ


.................................................................................

حواشی


(1)۔ موسمیات،اُردو سائنس بورڈ،لاہور سے اقتباس

(2)۔تیسیر القرآن ،جلد سوم ،النور، حاشیہ 70,71

(3)۔ (Elements of Meteorology, Miller & Thompson, page :141)

www.islam-guide.com

(4)۔موسمیات ۔اردو سائنس بورڈ لاہور۔صفحہ 47-48)

www.islam-guide.com

(5)۔http://www.kidslightning.info/zaphome.htm

http://www.wildwildweather.com/clouds.htm

(6)۔ ا للہ کی نشانیا ں ،عقل والوں کے لیے۔صفحہ235-236-

(7)۔للہ کی نشانیا ں ،عقل والوں کے لیے۔صفحہ238-240

اسلام کی سچائی اور سائنس کے اعترافات۔ صفحہ 81-82

(8)۔ موسمیات ۔اردو سائنس بورڈ لاہور۔صفحہ 57-58)

http://www.usatoday.com/weather/wcloud0.htm
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

1 comments so far,Add yours

  1. ماشاء اللہ بہت ہی اچھی معلومات فراہم کی ہیں ۔ جزاک اللہ

    جواب دیںحذف کریں