سورج کا بے نور ہونا ، قرآن مجید اور جدید سائنس کی روشنی میں


سورج جو زمین سے 15کروڑ کلو میٹر دور ہے بغیر کسی کی مداخلت کے ہمیں ضرورت کے مطابق توانائی فراہم کر تاہے۔ اس جرم فلکی (Celestial body)میں بے پناہ توانائی ہے۔ہائیڈروجن کے ایٹم مسلسل ہیلیم میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ہر ایک سیکنڈ میں 70 کروڑ ٹن ہائیڈروجن69کروڑ50لاکھ ٹن ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے،جبکہ باقی 50لاکھ ہائیڈروجن انرجی (پاور)میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

 سورج کے اندر وہ حصہ یا وہ بھٹی کہ جس میں ہائیڈروجن ،ہیلیم میں تبدیل ہورہی ہے ، Coreکہلاتاہے جو سورج کا مرکز ہے۔  یہا ں کا درجہ حرارت اور سورج کی باہر والی سطح کے د رجہ حرارت میں نمایاں فرق پایا جاتاہے۔ مرکزی درجہ حرارت ایک کروڑ 50لاکھ سینٹی گریڈ ہے جبکہ بیرونی سطح جس کو فوٹوسفئیرکہتے ہیں، کا درجہ حرارت 5800سینٹی گریڈ ہے۔ اس کا پھیلاو تقریباً500کلومیٹر تک ہے اور اس سے ایسی روشنی خارج ہوتی ہے جو نظرا تی ہے۔ اس کے اوپر کروموسفئیر ہے جو ہزاروں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس جگہ درجہ حرارت 6000 سینٹی گریڈ سے 50,000سینٹی گریڈ تک بڑھتا رہتاہے۔ اس حصے سے سرخی نمار وشنی خارج ہوتی رہتی ہے جسے صرف سورج گرہن کے وقت ہی دیکھا جا سکتاہے۔ اس کے اوپر Coronaیعنی سورج کی فضا ہے جو لاکھوںکلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا درجہ حرارت 10سے 22لاکھ سینٹی گریڈ تک ہوتاہے۔

سورج گرم گیسوںکا ایک فٹ بال ہے جس میں بلحاظ کمیت 71%ہائیڈروجن '28% ہیلیم'1.5% کاربن ،نائیٹروجن اورآکسیجن ہے جبکہ 0.5%دوسرے عناصر پائے جاتے ہیں۔ سورج کی عمر کا اندازہ ساڑھے چار ارب سال لگایا گیا ہے۔ یعنی اتنے سالوں سے سورج مسلسل اس بڑی مقدار میں توانائی خارج کررہا ہے۔ اور اس میں موجود ہائیڈروجن کی مقدار سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ مزید ساڑھے پانچ ارب سال تک اسی مقدارمیں توانائی خارج کرتارہے گا اورپھر اس کے بعد ہائیڈروجن کی مقدار ختم ہوجائے گی جس سے توانائی کے پید اہونے کا عمل رک جائے گا اور پھر سورج آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتاجائے گا جس سے اس سے خارج ہونے والی روشنی بھی بتدریج کم ہوتی جائے گی اور ایک وقت آئے گا کہ سورج بے نور ہو جائے گا۔ (1)

زمین پر زندگی کی موجودگی کو سورج کی توانائی نے ممکن بنایا ہے جو زمین پر توازن کو مستقل بناتی ہے اور 99%توانائی جو زندگی کے لیے ضروری ہو تی ہے سورج مہیا کر تاہے۔ اس توانائی میں سے نصف روشنی کی شکل میں ہو تی ہے جو ہمیں نظر تی ہے بقیہ توانائی بالائے بنفشی شعاعوں کی شکل میں ہوتی ہے جو نظر نہیں آتیں اور حرارت کی شکل میں ہوتی ہیں۔ سورج کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ یہ وقتاً فوقتاًگھنٹی کی مانند پھیلتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر پانچ منٹ بعددہر ایا جاتا ہے اور سورج کی سطح زمین سے 3کلو میٹر قریب آجاتی ہے اور پھر 1080کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتا ر سے دور چلی جاتی ہے۔ (2)

 سورج سے جو روشنی ہمیں حاصل ہوتی ہے و ہ اس کی سطح پر ہونے والے نیو کلیائی دھماکوں کا نتیجہ ہے جو گزشتہ ساڑھے چارارب سال سے جاری ہے۔ مستقبل میں ایک وقت آئے گاکہ سورج پر یہ  نیو کلیائی دھماکے ہونا بند ہو جائیں گے اور وہ مکمل طور پر بے نور ہو جائے گا جس سے اس کی کشش ثقل ختم ہو جائے گی اور پورا نظام شمسی جس میں ہماری زمین بھی شامل ہے اس کی گرفت سے آزاد ہو کر فضا میں بھٹک کر تباہ ہو جائے گا ۔ دراصل کسی ستارے کے بے نورہونے کی وجہ اس میں موجود ہائیڈروجن کا خودکار ایٹمی دھماکوں سے جل جل کر ہیلیم میں تبدیل ہوتے رہناہے ۔پھر ایک وقت آتاہے کہ ہیلیم بھی شدت حرارت کی وجہ سے جلنا شروع کردیتی ہے اورکاربن پیداکرنے لگتی ہے اور کاربن کی یہ تہہ ستارے کے مرکز میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔چناچہ ہائیڈروجن اور ہیلیم کے جلنے کے اس دہرے عمل کے نتیجے میں ستارے کی حرارت میں بے انتہاشدت آجاتی ہے اوراس کی سطح زورداردھماکوں سے پھول جاتی ہے ۔اس پھولے ہوئے ستارے کو سرخ ضخام (Red Giant)  کہاجاتاہے ۔ سرخ ضخام بننے کے بعد ستارہ کا حجم تو بڑھ جاتاہے مگر اس کی حرارت اور چمک میں تیزی سے کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ چناچہ اس مرتے ہوئے ستارے کی سرخ ضخام کے بعد بننے والی حالت کو سفید بونا (White Dwarf) کا نام دے دیاجاتاہے ۔اس دوران اس کی جسامت اصل ستارے کی نسبت 80 فیصد رہ جاتی ہے یہ مرتے ہوئے ستارے کی آخری حالتوں میں سے ایک ہے جس میں ستارہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا اور مدہم ہوتاچلا جاتاہے ۔ ( 3)

قرآن مجید میں سورج کی روشنی کے ختم ہونے کااشارہ درج ذیل آیت کریمہ میں دیا گیاہے:

(وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ)

'' اور سورج 'وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ زبردست علیم ہستی کا باندھاہواحساب ہے ''  (یٰس۔  36:38 )

مولانا مودوی  اس آیت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ''ٹھکانے سے مراد وہ جگہ بھی ہوسکتی ہے جہاں جا کر سورج کو آخر کار ٹھہر جاناہے اوروہ وقت بھی ہو سکتاہے جب وہ ٹھہر جائے گا۔ (4)تفسیر ابن کثیرمیں ایک قول کے مطابق مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے۔ قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی 'یہ بے نور ہوجائے گا 'اور یہ عالم کل ختم ہوجائے گا۔(5)   مولانا عبدالرحمان کیلانی  اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:

 '' ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر  سے پوچھا :'' جانتے ہو کہ سورج غروب ہونے کے بعد کہا ں جاتاہے ؟'' سیدنا ابو ذر  کہنے لگے :'' اللہ اور اس کا رسول   ہی بہتر جانتے ہیں ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا '': سورج غروب ہونے پر اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوتا ہے اور دوسرے دن طلوع ہونے کا اذن مانگتا ہے تو اسے اذن دے دیا جاتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ اس سے کہا جائے گا کہ جدھرسے آیا ہے ادھر ہی لوٹ جا۔پھر وہ مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ''۔(6

 مولانا عبدالرحمان کیلانی لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ سورج اور اسی طرح دوسرے سیاروں کی گردش محض کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ اجرام فلکی اور ان کے نظام پر اللہ حکیم وخبیرکا زبردست کنٹرول ہے کہ ان میں نہ تو تصاد م و تزاحم ہو تا ہے اورنہ ہی ان کی مقررہ گردش میں کمی بیشی ہوتی ہے اور یہ سب اجرام اللہ کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں دوسرے یہ کہ قیامت سے پہلے ایک وقت آنے والا ہے جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اس کے بعد نظام کائنات بگڑ جائے گا۔آج کا مغرب زدہ طالب علم سورج کے طلوع وغروب ہونے اور عرش کے نیچے جاکر دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگنے کا مذاق اڑاتا ہے اورکہتاہے کہ سورج تو اپنی جگہ پر قائم ہے اور ہمیں جو طلوع وغروب ہوتا نظر آتاہے تو یہ محض زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہے حالانکہ اللہ کا عرش اتنا بڑا ہے کہ ایک سورج کی کیا بات ہے کائنات کی ایک ایک چیز اس کے عرش کے تلے ہے اورجن وانس کے سوا ہر چیز اس کے ہا ں سجدہ ریز یا اللہ کی طرف سے سپرد کردہ خدمت سر انجام دینے میں لگی ہوئی ہے۔(7)

ڈاکٹر سید سعیدعابدی اسی حدیث کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ''عصر جدید کے بعض مفسرین نے عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اجازت لینے کی اس خبر نبوی کا انکار کیاہے ،ان کا دعویٰ ہے کہ علم فلک کے مطابق سورج کی رفتارمیں کوئی وقفہ نہیںہوتا جبکہ سجدہ کرنا توقف کا تقاضا کرتاہے ۔یہ حدیث حضرت ابو ذر  سے متعدد سندوں سے مروی ہے  اور ہر سند میں امام بخاری اورامام مسلم  اور حضرت ابوذر  کے درمیان جتنے راوی آئے ہیں وہ سب ثقات کی اعلی صفات سے موصوف ہیں توکیا صرف اس وجہ سے اس حدیث کا انکا رقرین عقل ہے کہ عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے کی بات ہماری عقل کی رسائی سے باہر ہے اورکیا سورج کا سجدہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ہماری طرح باقاعدہ وضو کرتاہے ،پھر کھڑا ہوتاہے اور پھر ''اللہ اکبر ''کہہ کر سجدہ میں جاتاہے یا اس کے جس فعل کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ لمحوں میں وقوع پذیر ہوجاتاہے ،کیا قرآن پاک کی متعد د آیتوں میں کائنات کی ہر شی ٔ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کی خبر نہیں دی گئی ؟(الرعد:15،النحل :40، الحج : 18)تو کیاہماری عقل اس سجدے کی حقیقت کا ادراک رکھتی ہے جبکہ قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں ادنیٰ سا شک بھی دائرہ ایمان سے خارج کردیتاہے اس لۓ کہ اس کی سند: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم عن جبرئیل علیہ السلام،عن اللہ عزوجل کی صحت پر پوری کائنات گواہ ہے ۔ (8)

سورج کی روشنی کے ختم کردیئے جانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة التکویر میں اس طرح ارشاد فرمایاہے:

(اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ)

'' جب سورج لپیٹ دیاجائے گا''

 کوربمعنی کسی چیز کو عمامہ یا پگڑی کی طرح لپیٹنا اور اوپر تلے گھمانا۔ اور اس میں گولائی اور تجمع کے دونوں تصور موجود ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کو گولائی میں لپیٹنا اور جماتے جانا۔مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں اس کی روشنی اور اس کی حرارت سب کچھ سمیٹ لیا جائے گا اور وہ بس ایک بے نور جسم رہ جائے گا۔(9)

مولانا مودودی  اس آیت کریمہ کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ '' سورج کے بے نور کر دیے جانے کے لیے یہ ایک بے نظیر استعارہ ہے۔ عربی زبان میں تکویر کے معنی لپیٹنے کے ہیں۔ سرپر عمامہ باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتاہے اور پھر اسے سر کے گرد لپیٹا جاتاہے۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کوجو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی میں پھیلتی ہے عمامہ سے تشبیہہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہو جائے گا۔(10)

مولانا عبدالرحمان کیلانی لکھتے ہیں کہ'' سورج کی اس رجعت قہقریٰ کے بعدستاروں کے درمیان باہمی کشش اور گردش کا سارا نظام مختل ہو جائے گا ۔زمین میں شدید زلزلے اورجھٹکے شروع ہوجائیں گے ۔ ستارے بے نور ہو کر اکیلے گرنے لگ جائیں گئے جیسے جھڑ پڑے ہیں ۔سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوکر فضا میں منتشر ہوجائیں گے ۔ سمندروں کا پانی شدّت حرارت سے کھولنے لگے گا۔تمام مخلوقات مر جائے گی اورکائنات فنا ہوجائے گی اوریہ سب کچھ کب ہوگا اس کا جاننا انسان کے بس کا روگ نہیں ۔ سائنس دان خواہ کتنے ہی اندازے لگائیں وہ سب کچھ ظنون او ر ڈھکوسلے ہی ہوں گے ۔ا س کا حقیقی علم اسی خالقِ کائنات کو ہے جس نے اسے پیدا کیا تھا۔

بلکہ وحی ہمیں اس سے بہت بعد کی بھی خبردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر سے ایک نئی کائنات پیدافرمائے گا جس کی زمین،جس کے سورج ،جس کے چاند ستارے اورجس کے قوانین نظم وضبط سب کچھ اس دنیا سے الگ ہوں گے اور جس کے متعلق اندازے لگانا بھی کسی انسان کے بس کا روگ نہیں البتہ اس کی بہت سی تفصیلات قرآن وحدیث میں موجودہیں''۔(11)

قارئین کرام جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس مسئلہ میں جدید سائنس اور قرآن پاک میں دی گئی معلومات میں زبردست یگانگت پائی جاتی ہے جس سے ایک معمولی غوروفکر رکھنے والا آدمی بھی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ان معلومات کوچھْی صدی عیسوی میں کسی کتاب میں ذکر کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی اوریقینا یہ کام کسی مافوق الفطرت ہستی کا ہی ہے جسے ہم اللہ کے نام سے یاد کرتے ہیں اوراسی نے ہی ان معلومات وپیشنگوئیوں کو دوسری انسانی ہدایات کے ساتھ قرآن مجید کی شکل میں اپنے پیارے و آخری نبی حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل کیا تھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق و صداقت کو سمجھنے، اس پر ایمان رکھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

 حواشی



(1)۔ http://cfa-www.harvard.edu/seuforum/howfar/see.html


(2)۔ اللہ کی نشانیا ں ،عقل والوں کے لیے۔صفحہ258

(3)۔اسلام اور جدید سائنس از ڈاکٹر طاہرالقادری۔ صفحہ 96

(4)۔تفہیم القرآن ،جلد چہارم،سورة  یٰس ،حاشیہ 33

(5)۔تفسیر ابن کثیر ،جلد چہارم،صفحہ 334

(6)۔   ( بخاری ۔کتاب التوحید ۔باب وکا ن عر شہ علی المائ)

(7)۔ تیسیرالقرآن ، جلد سوم ، سورة یسٰ ، حاشیہ  36

(8)۔ شمارہ روشنی ۔ اردونیوز جدہ۔ 6 فروری 2009 ء

(9)۔  تیسیرا لقرآن ، جلد چہارم ،حاشیہ   2

 ( 10)۔   تفہیم القر آن ۔جلد ششم ۔حاشیہ  01

(11)۔ (الشمس والقمر بحسبان ۔صفحہ 99)
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours