یہود کو دعوتِ مباہلہ

   
    سورة البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُالْاٰخِرَةُ عِنْدَاللّٰہِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُالْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنِ ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًم ا بِمَا قَدَّ مَتْ اَیْدِیْھِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْم م بِا لظّٰلِمِیْنَ )

''(اے نبی)کہہ دو کہ اگرآخرت کا گھر صرف تمہارے لیے ہے اورکسی کے لیے نہیں تو آؤ اپنی سچائی کے ثبوت میں موت طلب کرو،لیکن اپنی کرتوتوں کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی موت نہیں مانگیں گے،اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتاہے''[i]  

        حضرت عبداللہ بن عباس  فرماتے ہیں کہ ان یہود یوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلمکی زبانی پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ، ہم تم مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹے کو ہلاک کردے 'لیکن ساتھ ہی پیشین گوئی بھی  [ii]
کردی کہ یہ لوگ ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ یہ لوگ مقابلہ پر نہ آئے اس لیے کہ وہ دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قرآن مجید کو سچا جانتے تھے اگر یہ لوگ اس اعلان کے تحت مقابلہ میں نکلتے تو سب کے سب ہلاک ہوجاتے 'روئے زمین پر ایک بھی یہودی باقی نہ رہتا۔ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر یہودی مقابلہ پر آتے اورجھوٹے کے لیے موت طلب کرتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و عیال اورمال ودولت کا نام ونشان بھی نہ پاتے۔

سورة جمعہ میں بھی اسی طرح کی دعوت انہیں دی گئی ہے۔ آیت (قُلْ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ ھَادُوْا) آخر تک پڑھیے ان کا دعویٰ تھا کہ (نَحْنُ

اَبْنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِیَّآءُ ) ہم تو اللہ کی اولاد اوراس کے پیارے ہیں۔یہ کہاکرتے تھے (لَّنْ یَّدْ خُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی)جنت میں صرف یہودی اورنصاریٰ جائیں گے'اس لیے انہیں کہا گیا کہ آؤ اس کا فیصلہ اس طرح کرلیں کہ دونوں فریق میدان میں نکل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے جھوٹے کو ہلاک کر ڈالے لیکن چونکہ اس جماعت کو اپنے جھوٹ کاعلم تھا یہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اوران کا کذب سب پر کھل گیا۔ اسی طرح جب نجران کے نصرانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے 'بحث مباحثہ ہو چکا توا ن سے بھی یہی کہا گیا کہ (تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنآءَ کُمََََْ ) یعنی آؤ ہم تم دونوں اپنی اپنی اولادوں اوربیویوں کو لے کر نکلیں اوراللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ جھوٹوں پر اپنی لعنت فرمائے ،لیکن وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہر گز اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ نہ کروورنہ فوراً برباد ہوجاؤ گے۔  [iii]

چنانچہ اللہ تعالیٰ کی قران مجید میں بیان کردہ مندرجہ بالا پیشین گوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت قبول کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔





[i] البقرہ ، 2:94-95

[ii] مسند احمد بحوالہ  تفسیر ابن کثیر ۔ جلداول ۔صفحہ 142

[iii] تفسیر ابن کثیر ۔ جلداول ۔صفحہ 142-143
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours