حالات حاضرہ, ذوالفقار مرزا کا طوفان، کوئی گھرے گا یا نہیں؟,


صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی، قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے شوہر اور سندھ کے سابق سینیئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے الزامات محض باتیں ہیں یا اس کے پیچھے صداقت کا بھی عمل دخل ہے؟ پریس کانفرنس کے بعد مختلف ٹی وی چینلز پر یہی بحث ہوتی رہی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو ہمیشہ تشدد میں جکڑے ہوئے شہر کراچی کا مشکل کشاء سمجھا جاتا ہے مگر سندھ کے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے آج انہیں مسئلے کا ایک جز قرار دے دیا ہے۔

کراچی کے پرتشدد واقعات کے گرفتار ملزمان کی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹس ڈاکٹر مرزا کی پریس کانفرنس سے پہلے بھی مختلف اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں اور اب یہ رپورٹس ویب سائیٹس پر بھی دستیاب ہیں۔ صحافی بابر ولی کے قتل میں گرفتار ملزمان کی وابستگی بھی وہ پہلے ظاہر کرچکے ہیں، اگر اس بار نئی بات تھی تو امریکہ کے کردار اور کراچی میں رحمان ملک کی مداخلت کی باتیں تھیں جو اس سے پہلے وہ کابینہ کے بند اجلاسوں میں کرتے آئے ہیں۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی موجودگی میں صوبائی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں بھی ذوالفقار مرزا کی رحمان ملک سے تلخی کی خبریں باہر نکلیں اور یہ رپورٹ ہوا کہ انہوں رحمان ملک کو کہا کہ وہ ایم کیو ایم کی طرف داری نہ کریں اور کراچی آنا چھوڑ دیں۔ لیکن اس اجلاس کے بعد دونوں نے بغل گیر ہوکر پریس کانفرنس کرکے تلخیوں کی تردید کی۔



ڈاکٹر مرزا کے الزامات ایک پارٹی کے سربراہ، وفاقی وزیر اور گورنر کے خلاف ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مرزا نے جو طوفان برپا کیا ہے، وہ مذکورہ تینوں شخصیتوں کو بھی اپنے گھیرے میں لے لے گا یا اپنے اندر کا گرد و غبار ہلکا کرنے کے بعد ذوالفقار مرزا ایک طرف ہوجائیں گے۔



اس اجلاس کے بعد انہیں ایوان صدر طلب کرلیا گیا جہاں سے واپسی کے چند روز بعد انہوں نے یہ پریس کانفرنس کی ہے۔ اس سے پہلے کراچی سے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول اور عبدالقادر پٹیل بھی رحمان ملک پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر مرزا کے الزامات ایک پارٹی کے سربراہ، وفاقی وزیر اور گورنر کے خلاف ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مرزا نے جو طوفان برپا کیا ہے، وہ مذکورہ تینوں شخصیتوں کو بھی اپنے گھیرے میں لے لے گا یا اپنے اندر کا غبار ہلکا کرنے کے بعد ذوالفقار مرزا ایک طرف ہوجائیں گے۔ کیونکہ ان کے مستعفی ہوجانے کے بعد کابینہ، سندھ اسمبلی اور پارٹی اجلاسوں میں ایم کیو ایم کے بارے میں سخت رائے رکھنے والا کوئی موجود نہیں ہوگا۔
اس کے ساتھ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اب رحمان ملک کو فارغ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اس حوالے سے یہ حلقے پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کا حوالہ دیتے ہیں جن میں کہا گیا تھا بعض امریکی اہلکاروں کو قانونی تقاضا پورے کیے بغیر ویزہ جاری کرنے پر پاکستان کے عسکری ادارے رحمان ملک سے خفا ہیں۔ مرزا کے بیان نے وہ ماحول پیدا کردیا ہے جس سے رحمان ملک کو اس منصب سے الگ کردیا جائے
۔

اس سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ اس بارے میں ایک صحافی کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر مرزا سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ رہ کر اتنا کچھ جانتے ہیں تو رحمان ملک بطور وفاقی وزیر داخلہ کہیں زیادہ راز جانتے ہیں۔ اس لیے اب ان کے ہر جواب کو رد عمل کی شکل میں دیکھا جائے گا۔
دوسری جانب کچھ سیاسی مبصرین کو میاں نواز شریف کی پہلی دورِ حکومت سے علیحدگی یاد آتی ہے، جس میں انہیں ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا مگر میاں نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ وہ قوم سے خطاب کرکے الگ ہونا چاہتے ہیں جسے قبول کرلیا گیا۔ ڈاکٹر مرزا کا بھی مطالبہ ان کی قیادت نے شاید قبول کیا جس کے بعد ان کی پریس کانفرنس سامنے آئی ہے۔
ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی میں امن و امان کی خرابی اور حکومت سے مفاہمت میں ڈاکٹر مرزا کو رکاوٹ قرار دیتی رہی ہے۔ اب وہ رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔ تو کیا ایم کیو ایم اور وفاقی وزیر رحمان ملک کی بات کو تسلیم کرلیا گیا ہے؟ ڈاکٹر مرزا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے صرف اتنا کہتے ہیں کہ جھوٹ کی فتح ہوئی ہے۔



مگر آج حکومت کے چار سال بعد ڈاکٹر مرزا رحمان ملک کو وفاقی وزیر داخلہ بنانے کو اپنے دوست صدر کی غلطی قرار دیتے ہیں، ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس حد تک کہہ دیا کہ وہ بیگیج ہیں جو انہیں حکومت کے ساتھ دیا گیا ہے۔



بعض مبصرین کا یہ خیال ہے کہ پیپلز پارٹی سے ناراض رہنماؤں کی فہرست میں صفدر عباسی، ناہید خان، مخدوم شاھ محمود قریشی کے بعد ڈاکٹر مرزا کا بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگر وہ صدر زرداری کے قریبی نہ ہوتے تو ایم کیو ایم مخالفت میں اتنا آگے جانے کی ہمت نہیں کرتے۔
ستائیس دسمبر کو جب بینظیر بھٹو کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر اترا تو ان کے ساتھ رحمان ملک بھی موجود تھے جو اس سے پہلے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی ٹیم سے مذاکرات میں بھی پیپلز پارٹی کے وفد کا حصہ تھے۔ جب مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے اس وقت بھی مذاکرات کی جگہ رحمان ملک کی رہائش گاہ تھی۔
مگر آج حکومت کے چار سال بعد ڈاکٹر مرزا رحمان ملک کو وفاقی وزیر داخلہ بنانے کو اپنے دوست صدر کی غلطی قرار دیتے ہیں، ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس حد تک کہہ دیا کہ وہ بیگیج ہیں جو انہیں حکومت کے ساتھ دیا گیا ہے۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

1 comments so far,Add yours

  1. دلاور حسین1 ستمبر، 2011 1:12 AM

    ذرداری سب کچھ جانتے ہوئے بھی صرف اپنی کرسی بچانے کی خاطر ایم کیو ایم کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اللہ اسے ہدایت دے۔ آمین

    جواب دیںحذف کریں