کائنات کا پھیلاؤ


20ویں صد ی کی آمد تک دنیائے سائنس میں ایک ہی نظریہ مروّج تھا کہ ''کائنات بالکل غیر متغیر اور مستقل نوعیت رکھتی ہے اور لامتناہی عر صہ سے ایسی ہی چلی آرہی ہے ''تاہم تحقیق و مشاہدہ اور ریاضیاتی جانچ پڑتال جو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جاری تھی اس سے انکشاف ہواکہ اس کائنات کا ایک نکتۂ آغاز بھی تھا اور اس وقت سے یہ مسلسل پھیل رہی ہے۔

 1922ء   میں روسی ماہر طبیعیات الیگزنڈر فرائیڈ مین (Alexander Friedman) اور بیلجیم کے ماہر علم ِتکوین عالم (Cosmologist)جارجز لیمیٹر (Georges Lemaitre) کے جمع کردہ اعدادوشمارکے مطابق یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ کائنات مسلسل حرکت کر رہی ہے اور وسیع تر ہو رہی ہے، اس انکشاف کی 1929ء کے مشاہدات سے تصدیق ہو گئی امریکی ماہر ِفلکیات ایڈوین ہبل نے اپنی دور بین سے آسمان کا مشاہد ہ کرنے کے بعد انکشاف کیا کہ ستارے اورکہکشائیں ایک دوسری سے مسلسل دور ہٹ رہی ہیں۔ ایک ایسی کائنات جس میں ہر چیز 'دوسری چیز سے پرے ہٹتی جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ (1)

 یونیورسٹی آف ایری زونا کے ایک سائنس دان ڈینیئل آئزن اسٹین نے کہا ہے کہ جس طرح دھواں پھینکنے والی گن سے خارج ہونے والا دھواں ایک مخصوص انداز میں پھیلتاہے کائنات بھی اسی طرح فروغ پذیر ہے اور دھماکے سے پیداہونے والی لہریں چاروں طرف پھیلتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آواز کی یہ لہریں اپنے اثرات چھوڑتی جارہی ہیں اور نئے نظام کے تحت ان کی پیمائش ممکن ہوسکی ہے۔(2)سائنس دانوں کے مطابق ابھی تک نظر آنے والی کائنات کا کوئی مرکز انہیں نہیں ملا ہے کیونکہ کائنات کا کوئی سر ا یا کنارہ نہیں ہے، ہر طرف کہکشاؤں کے جھرمٹ پھیلے ہوئے ہیں۔اگر کوئی فرد کسی تیز رفتار طیارے کے ذریعے اربوں نوری سال بھی سفر کرتارہے تو ہو سکتاہے کہ وہ اسی جگہ پر پہنچ جائے کہ جہا ں سے اس نے سفر کا آغاز کیاتھا۔ کائنات لامحدود ہے اور یہ  14ارب سال سے پھیل رہی ہے اور پھیلتی ہی چلی جارہی ہے۔ ابھی تک نظر آنے والی کائنات میں عظیم ترین کہکشاؤں کے جھرمٹوں کی تعداد ایک کروڑہے۔ نسبتاً چھوٹے جھرمٹوں والی کہکشاؤںکی تعداد 25ارب ہے۔ 350ارب بڑی کہکشائیں، 35کھرب چھوٹی کہکشائیں جبکہ 30ارب پدم (3)ستارے پائے جاتے ہیں۔(4)

 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کائنات کی اس وسعت کی طرف اشارہ درج ذیل آیت کریمہ میں کرتاہے:

(وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ)

'' اور آسمان کو ہم نے اپنے دستِ(قدرت)سے بنایا اور ہم اسے وسیع کرتے جا رہے ہیں '' (5)

اس میں لفظ موسعون استعمال ہوا ہے یعنی اس کو وسیع کیا۔ فراخ کیا۔ گویااللہ تعالیٰ اس وسیع کائنات کو بناکر رہ نہیں گئے ہیں بلکہ ہر دم اس میں توسیع فرماتے جارہے ہیں۔ مشہور ماہر فلکیات ''سٹیفن ہاکنگ '' اپنی کتاب (A Brief History of Time)میں لکھتے ہیں کہ کائنات کی وسعت کی دریافت ،بیسویں صد ی کی بڑی دریافتوں میں سے ایک ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف راہنمائی اس وقت کردی تھی کہ جب ٹیلی سکوپ بھی ایجاد نہیں ہوئی تھی (6)۔

مولانا عبدالرحمان کیلانی  اس آیت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ''کائنات میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن میں آج تک تخلیق اور توسیع کا عمل جاری ہے۔ اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔سب سے پہلے انسا ن کو ہی لیجیے، اس کی نسل بڑھ رہی ہے۔ تعداد میں اضافہ ہور ہا ہے  اور یہی کائنات کا شاہکار ہے۔پھر زمین کی پیداواربھی اللہ تعالیٰ اسی نسبت سے بڑھاتے جارہے ہیں۔اس آیت میں بالخصوص آسمان کا ذکر ہے۔ آسمان کی پیدائش کا بھی یہی حال ہے یہاں آسمان سے مراد پہلا آسمان یا کوئی خاص آسمان نہیں بلکہ یہا ں سماء سے مراد فضاءِ  بسیط ہے جب کہ اس آیت کریمہ

(ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ط)

''پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان استوار کردئیے''(7)

اس میں بھی سماء سے مراد فضاءِبسیط ہے جس میں لاتعداد مجمع النجوم اور کہکشائیں ہیئت دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال کر ان کے علم کو ہر آن چیلنج کر رہی ہیں۔مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہیئت دان جوں جوں پہلے سے زیادہ طاقتور اورجدید قسم کی دور بینیں ایجاد کر رہے ہیں توں توں اس بات کا بھی انکشاف ہو رہا ہے کہ کائنات میں ہر آن مزید وسعت ہور ہی ہے۔ سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے اجرام بھی مشاہدہ میں آرہے ہیں۔ (8)


ستاروں کا فاصلہ ناپنے کے لیے ہمارے اعدادوشمار ناکافی ہیں، اس لیے نوری سال کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ نور یعنی روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر سفر طے کرتی ہے، اس طرح ایک سال میں اس کا سفر تقریباً 95کھرب کلومیٹر ہوا۔ یہ فاصلہ ایک نوری سال کا ہے۔

 ہم ایک ایسی کہکشاں میں رہتے ہیں جو ستاروں کے جھرمٹ سے بنی ہے۔ اوسطاً ہر کہکشاں میں 100ارب ستارے پائے جاتے ہیں۔مگرہماری کہکشاں یعنی ملکی وے 300, (Milkyway)  ارب ستاروں پر مشتمل ہے ،جن میں سے ایک ہمارا سورج بھی ہے۔ ستاروں کے اس جم غفیر میں سورج بھی دیگر ستاروںکی طرح ایک معمولی ستارہ ہے۔ کچھ ستارے اس سے بھی بڑے ہیں بلکہ غیر معمولی طورپر بہت بڑے ہیں۔یہ تما م ستارے جس مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں اسے (Gallatic Center)یعنی مرکز کہکشاں کہتے ہیں۔

اس کہکشاں کی لمبائی ایک لاکھ نوری سال ہے جبکہ اس کے درمیانی ابھارکا قطر 16000 نوری سال ہے۔ ہمارا نظام شمسی ملکی وے کہکشاں کے پھرکی نما بازو(Spiral Arm)میں واقع ہے۔ جو اپنے مرکز سے 30000نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ سورج 240کلومیٹر فی سکینڈ کی رفتار سے اپنے مرکز کے گرد ایک چکر 22کروڑ سال میں پورا کرتاہے ' سورج کی عمر کا اندازہ ساڑے چار ارب سال ہے، اس کا مطلب ہے کہ سورج آج تک اپنے مرکز کے گر دتقریباً 20مرتبہ چکر لگاچکاہے۔ (9)

ہمیں آسما ن پر جو ستارے نظر آتے ہیں وہ صرف اس عظیم الشان جھرمٹ کا کنارہ ہیں۔پوری کائنات ستاروں کے ایسے کئی جھرمٹوں یعنی کہکشاؤں سے مل کر بنی ہے۔ ان میں سے قریب ترین کہکشاں کا نام Andromeda Galaxyہے۔ لیکن یہ بھی ہم سے دونوری سال یعنی 190 کھرب کلومیٹر دور ہے۔ کائنات میں ستاروں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی سے سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان میں سے بہت سے سیارے ایسے ہوں گے جہاں زندگی کے آثار پائےجا سکتے ہیں۔ واللہ اعلم 

کہکشاؤ ں کے اندر ستارے جس مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں وہ کوئی ستارہ یا سیارہ نہیں ہے بلکہ خیال کیا جاتاہے کہ یہ ایک سیاہ خلا (Black Hole)ہے۔ملکی وے کہکشاں میں پایا جانے والا بلیک ہول اتنا بڑاہے کہ اسے دس لاکھ سورج بھی پُر نہیں کر سکتے۔ ستاروں کے گرد وغبارکی وجہ سے ہم اس سیاہ خلا کو براہ راست نہیںدیکھ سکتے۔ البتہ ریڈیو ٹیلی اسکوپس (Radio  Telescopes) اس گردو غبارکے پار دیکھ سکتی ہیں۔چونکہ یہ تما م کہکشائیں گرم گیسوں سے بھری ہوئی ہیں جو ریڈیائی شور پیدا کرتی ہیں۔چنانچہ یہ شور اس گرد میں داخل ہو کرراستہ بناتا ہے اور ہم ریڈیو اسکوپس کے انٹینا کا رخ مرکز کہکشاںکی طرف موڑ کر غبار کے اس پار دیکھ سکتے ہیں۔مگر ہمیں ستاروں کے غبار کے اس پار کیا نظر آتا ہے۔ صرف بڑی بڑی لکیریں   جو مقناطیسی میدانوں کی وجہ سے بنی ہیں۔ان لکیروں کی لمبائی کئی نوری سال کے برابر ہے۔

یہ مقناطیسی میدان ایسی گرم گیس بناتے ہیں جنہیں ہم ایک برقی بارگرفتہ گیس (Plasma) کہتے ہیں۔ کائنات کانوے فی صد حصہ ا بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے اور کوئی نہیں جانتا یہ کیا اورکہا ں ہے۔سائنس کے عجائب میں سے سب سے بڑا عجوبہ یہ ہے کہ ہم ان کہکشاؤں میں موجود مادہ کی ناپ تول اور اوزان وپیمائش کرسکتے ہیں جنہیں ہم نے دیکھا تک نہیں۔

ہم یہ ناپ تول کیسے کرتے ہیں؟


آپ نے ایسے بچوں کو دیکھا ہو گا کہ جو رسی کے ایک سرے پر گیند باندھ کر اسے تیزی سے گھماتے ہیں۔لیکن گیند زمین پر نہیں گرتی ہے۔گیند جیسے ہی ہوا میں جاتی ہے زمین کی قوت اسے اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ لیکن ہاتھ کی قوت اسے زمین پر گرنے سے روکتی ہے۔ گیند جتنی تیزی سے گھومے گی زمین پر گرنے سے روکنے کے لیے ہاتھ کو اتنی ہی قوت صرف کرناپڑے گی۔ لیکن اگر گیند آہستہ آہستہ گھومے گی تو اسے زمین پر گرنے سے روکنے کے لیے ہاتھ کی قوت بھی کم صرف کرنی ہوگی۔ بالکل اسی طرح کسی محور کے گرد گردش کرنے والے کسی ستارے یا سیارے کو دیکھ کر ماہر ین علم فلکیات اس سیارے کا وزن اور اس کی کشش ثقل کی قوت بتاسکتے ہیں۔

مثال کے طورپر ہم اپنے چاند کودیکھ کر اپنی زمین کی کشش ثقل اوراس کا وزن بتاسکتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ چاند کو زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کرنے میں تقریباًایک ماہ لگتاہے۔ اورچاند ہم سے 3لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دورہے۔ ان اعداد کو دیکھ کر کشش ثقل کے نظریہ کو سامنے رکھ کرچند فارمولوں کی مدد سے ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ زمین کاوزن 6 ہزار ملین ٹن ہے۔ اسی طرح ہم یہ بتاسکتے ہیں کہ سورج کا وزن کیا ہے ؟ہمیں معلوم ہے کہ زمین سورج کے گرد اپنا چکر 365دن میں مکمل کرتی ہے اورسورج ہماری زمین سے15کروڑ کلومیٹر دور ہے۔ جس سے ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ سورج زمین کے مقابلہ میں 3 لاکھ گنا وزنی ہے۔ اسی اصول کے تحت ماہرین فلکیات کہکشاؤں کو دیکھ کراندازہ لگا لیتے ہیں کہ وہ کتنی دور ہیں اورستارے اپنی اپنی کہکشاؤں کے محور کے گرد کتنی تیزی سے اپنا چکر مکمل کرتے ہیں۔ستارے بھی اپنے محور کے گرد اسی طرح چکر لگاتے ہیں جیسے سیارے سورج کے گرد لگاتے ہیں۔ان ہی تمام ذرائع سے سائنس دانوں نے معلوم کیا ہے کہ کہکشاؤں میں کتنا مادہ موجود ہے۔ اسی طریقے سے وہ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ ایک مخصوص کہکشاں جیسے ہماری کہکشاں ہے،میں مادہ کی مقدار کم وبیش تین سو ارب سورج کے برابر ہے۔

ماہرین فلکیات جب کہکشاؤں کا روایتی قسم کا سروے کرتے ہیں تو ہائیڈروجن سے خارج ہونے والی روشنی کوبنیاد بناتے ہیں ۔ اس روشنی کو '' لائی مین ایلفا لائن '' کہا جاتاہے۔اس کے ذریعے انتہائی دوری پرکہکشاں میں ستاروں کی تعداد کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔نئے سروے کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ''لائی مین ایلفالائین ''کی روشنی اس کہکشاں میں ہی گرفتار ہو کر رہ جاتی ہے،جس سے یہ خارج ہوتی ہے یوں ''لائی مین ایلفا لائن '' سے کئے جانے والے سروے میں کہکشاں کا 90% دیکھا ہی نہیں جاسکتا ۔اس ناتے سے ماہرین فلکیات نے کہا ہے کہ اب تک ہم نے جتنے سروے کئے ہیں ان میں کہشاؤں کا 90فیصد حصہ نظر ہی نہیں آ سکا۔

نیچرنامی سائنسی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مصنف میتھیو ہائس نے کہا کہ ماہرین فلکیات کا خیال تھا کہ ''لائی مین ایلفا سروے''کے دوران کہکشاں کا کچھ نہ کچھ حصہ سروے کے بغیر رہ جاتاہے لیکن جو کچھ تازہ سروے سے معلوم ہوا ہے وہ ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ ہے ۔ہائس اور ان کے ساتھی ماہرین فلکیات نے ایک دوربین  سے منسلک ''ہاک ۔ون'' کیمرے کے ذریعے خلا کے ایک ایسے حصے کا سروے کیا جس کو پہلے ''لائی مین ایلفا لائٹ '' سے دیکھا جا چکا تھا۔ا س سروے کے دوران ماہرین نے ایسی روشنی کو ریکارڈ کیا جو مختلف طول موج پر مبنی تھی ۔اس دوران دہکتی ہائیڈ روجن سے خارج ہونے والی روشنی کو بھی پرکھا گیا اور اس کو ''ایچ ایلفا لائن ''کا نا م دیا گیا ۔مذکورہ انکشاف اسی ''ہاک۔ون''کیمرے کی مدد سے ہی ممکن ہو سکاہے۔

ماہرین نے ایک ایسی کہکشاں پر خصوصی غور کیا جس کی روشنی گزشتہ 10ارب سال سےزمین کی جانب سفر کرتی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلاموقع ہے جب ہم نے آسمان کے ایک ایسے خطے کا بغور مشاہد ہ کیا ہے جو جو ہائیڈروجن سے برآمد ہونے والی روشنی کی بہت زیادہ گہرائی میں ہے اور اس سے نکلنے والی روشنی کا طول موج بھی مخصوص ہے ۔ اس مشاہدے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آج تک ماہرین فلکیات اپنے سرویز کے دوران ''لائی مین اایلفا''کی مددسے جو کچھ دیکھتے رہے ہیں وہ ان کہکشاؤں سے نکلنے والی روشنی کا بہت ہی مختصر حصہ ہوتا تھا کیونکہ بہت سے فوٹان کہکشاں کے اندر گیس اور غبار کے بادلوں سے تعامل کے دوران تباہ ہوجاتے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ہم زیر مشاہدہ کہکشاں کا صرف 10فیصد حصہ ہی دیکھ پاتے ہیں جبکہ 90فیصد ہمارے مشاہدے سے اوجھل رہتا ہے۔ہائس نے کہا کہ اگر ہمیں 10کہکشائیں نظر آئیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں 100کہکشائیں ہوں گی جن میں سے ہمیں صرف 10دکھائی دیں۔ چناچہ ماہرین فلکیات  اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ  تما م ذرائع کے استعمال اورمحنت کے باوجود وہ کائنات کے صرف 1/10حصے کی ناپ تول کرسکے ہیں۔نوے فی صد کائنات اب بھی ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔اس پوشیدہ مادے کوتاریک مادہ کہتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا ہے ؟وہ چھوٹے چھوٹے ستاروں کی شکل میں اجرام فلکی بھی ہوسکتے ہیں جو جلتے بجھتے رہتے ہیں یا ابتدائی ذرات بھی ہو سکتے ہیں۔(10)

پروفیسر آرم اسٹرانگ سے جب پوچھا گیا کہ کیا آسمان میں کوئی سوراخ یا شگاف پایا جاتاہے تو اس کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی سوراخ یا شگاف نہیں پایا جاتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فلکیات کی ایک شاخ جسے مکمل کائنات(Integrated Cosmos)کہتے ہیں حال ہی میں سائنس دانوں کے علم میں آئی ہے۔ مثال کے طورپر ایک جسم کو خلا  سے باہر ایک خاص فاصلہ سے کسی بھی سمت لے جائیں پھر اسی فاصلے سے دوسری سمت لے جائیں۔ آپ اس کی کمیت کو ہر سمت میں ایک جیسا پائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جسم کا اپنا توازن وتعادل (Equilibrium)ہے اورتمام سمتوں سے دباؤ بھی ایک جیسا ہے۔ اس توازن وتعادل کے بغیر تمام کائنات ختم ہو سکتی ہے۔

چنانچہ اسی بات کی طرف رب ذوالجلال نے درج ذیل آیت کریمہ میں اپنی زبردست کاریگری کا اعلان کرتے ہوئے اہل دنیا کو چیلنج دیا ہے کہ وہ کوئی اس میں نقص تلاش کرکے تو دکھائیں:

(اَفَلَمْ یَنْظُرُوْآ اِلَی السَّمَآءِ فَوْقَھُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰھَاوَزَیَّنّٰھَا وَمَا لَھَا مِنْ فُرُوْجٍ)

''کیاانہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح اسے بنایا اورآراستہ کیا اور اس میں کوئی شگاف (بھی)نہیں''(11)


 پروفیسر آرم اسٹرانگ نے کائنات کے آخری کنارے تک پہنچنے کی سائنس دانوں کی جدوجہد کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہم مسلسل اس جانب کوشش کررہے ہیں'ان کے الفاظ تھے :


''ہم مزید طاقت ور آلات تیار کررہے ہیں تاکہ کائنات کا مزید مشاہدہ کرسکیں اورنئے ستاروں کو دریافت کر سکیں کیونکہ ہم ابھی تک اپنی کہکشاں میں ہیں اورکائنات کے کنارے تک نہیں پہنچے ہیں ...ہم خلا  سے باہر مزید دوربینیں لگانے کا انتظام کر رہے ہیں تاکہ گردوغبار اوردوسری فضائی رکاوٹوں کی خلل اندازی کے بغیر کائنات کا مشاہد ہ کرسکیں۔ (ہم کشفی دوربینوں کے ذریعے زیادہ فاصلے تک نہیں دیکھ سکتے توہم ان کو ان ریڈیائی دوربینوں سے تبدیل کررہے ہیں تاکہ زیادہ فاصلے تک دیکھ سکیں مگر ہم ابھی تک اپنی حدود کے اندر ہی ہیں''۔)

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے جدید اورطاقت ور آلات، راکٹ اورخلائی جہازوں کے ذریعے جدید فلکیات کا مشاہد ہ کیاہے اوریہ وہ آلات ہیں جنہیں انسان نے ایجاد کیاہے۔ حالانکہ یہ وہ حقائق ہیں کہ جن کو قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے ذکر کیاہے، آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ میں ا س بات سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں کہ کس طرح غیر معمولی انداز میں ایک قدیم تحریر میں جدید فلکیات کا تذکرہ موجودہے۔(12)


 .........................................................................................................................................


حواشی


(1)۔   قرآن رہنمائے سائنس۔صفحہ 110-111

(2)۔روزنامہ اردو نیوز جدہ ۔  13جنوری 2005ء

(3)۔   ایک پَدَم  (Trillion)،10کھرب کے برابر ہوتاہے۔

 (4)۔  http://www.atlasoftheuniverse.com/galchart.htm

(5)۔  الذاریات۔ 51:47

(6 )۔   (قرآن اینڈ ماڈرن سائنس۔از ڈاکٹر ذاکر نائیک ،صفحہ16,17)

(7)۔    البقرہ۔ (02:29)

( 8)۔    (تیسیرالقرآن ، جلدچہارم،حاشیہ 41)

 (9)۔  http://cfa-www.harvard.edu/seuforum/howfar/see.html

( 10)۔   سائنسی انکشافات قرآن وحدیث کی روشنی میں ۔ صفحہ126-128

         روزنامہ اردونیوز جدہ ، 31مارچ 2010ء

(11)۔ ق، 6-50

(12)۔ (سائنسی انکشافات قرآن وحدیث کی روشنی میں ۔ صفحہ130-132 )


Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours