قرآن مجید کس طرح جمع ہو ا… ایک مختصر جائزہ

یہاں پر مناسب معلوم ہوتاہے کہ قرآن مجید کی تدوین کی ایک مختصر تاریخ بیان کردی جائے تاکہ عوام الناس کومعلوم ہوکہ یہ کن محفوظ ہاتھوں سے ہوتے ہوئے ہمارے پاس پہنچاہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ ''ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ''پر اطمینانِ قلب کا داعیہ پختہ ہو جائے۔

دنیا میں کسی بھی بات کویاد رکھنے کے لیے شروع سے دو ہی طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں۔ ایک تو اس بات کو زبانی طورپریا درکھنا اوردوسرا اس کو لکھ لینااورچونکہ قدیم دور میں لکھنے کے اسباب بہت ہی نایاب تھے اس لیے زیادہ تر زبانی طورپر ہی باتوں یاد رکھا جاتا تھا اور اس وقت لوگوں کی یادداشت بھی حیرت انگیز طورپر بہت عمدہ ہوتی تھی۔ چنانچہ جب قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تو یہی دو طریقے اپنائے گئے۔

چونکہ نماز ابتدا ہی سے مسلمانوں پر فرض تھی [1]اورتلاوت ِقرآن کو نماز کا ایک ضروری جزء قرار دیا گیا تھا 'اس لیے نزول قرآن کے ساتھ ہی مسلمانوں میں حفظِ قرآن کا سلسلہ شروع ہوگیا اورجیسے جیسے قرآن اترتاگیا مسلمان اس کو یا د بھی کرتے چلے گئے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت کا انحصار صرف کھجورکے پتّوں ، ہڈّی اورجھلّی کے ان ٹکڑوں ہی پر نہ تھا جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاتبوں سے اس کو قلم بند کروایا کرتے تھے بلکہ وہ اترتے ہی بیسیوں 'پھر سیکڑوں 'پھر ہزاروں 'اورآخر کارلاکھوں دلوں پرنقش ہوجاتاتھااورکسی شیطان

کے لیے اس کا امکان ہی نہ تھا کہ اس میں ایک لفظ کا بھی ردّوبدل کرسکے۔ [2]

چنانچہ خلیفہ اول سیّدنا ابوبکر صدیق کے دور تک قرآن مجید حفاظ صحابہ کرام کے سینوں میںاوردرختوں کی چھال اور باریک پتھروں پر محفوظ تھا۔جب مرتدین(مسیلمہ کذاب وغیرہ)سے جنگیں شروع ہوئیں اوران لڑائیوں میں بہت زیادہ قرآن مجید کے حفاظ صحابہ کرام جامِ شہادت نوش کرنے لگے تو سیّدنا ابوبکر  کو(حضرت عمر  کے تحریک دلانے پر ) یہ خدشہ پید اہو اکہ کہیں قرآن کریم ان صحابہ کے سینوں میں ہی دفن ہو کر ضائع نہ ہو جائے 'لہٰذا انہوں نے قرآن مجید کو ایک جگہ پر جمع کرنے کے لیے کبار صحابہ کرام سے  مشورہ کیا تاکہ اسے ضائع ہونے سے محفوظ کیا جاسکے اور اس کام کی ذمہ داری حفظ کے عظیم پہاڑ زیدبن ثابت  وغیرہ کے کندھوں پر ڈالی گئی۔ [3]

قاعدہ یہ مقرر کیا گیا کہ ایک طرف تو وہ تما م لکھے ہوئے اجزاء فراہم کر لیے جائیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑے ہیں' دوسری طرف صحابہ کرام میں سے بھی جن کے پاس قرآن یا اس کا کوئی حصہ لکھا ہوا ملے وہ ان سے لے لیا جائے [4] اورپھر حفاظ قرآن سے بھی مد د لی جائے اور ان تینوں ذرائع کی متفقہ شہادت پر کامل صحت کا اطمینان کرنے کے بعد قرآن کاایک ایک لفظ مصحف میں ثبت کیا جائے۔ [5]اس تجویز کے مطابق قرآن مجید کا ایک مستند نسخہ تیار کیا گیا جو حضرت ابوبکر صدیق  کی وفات تک ان کے پاس رہا۔ پھر سیدنا عمر  کی زندگی تک ان کے پاس رہا اورپھر ان کی وفات کے بعدامّ المومنین حضرت حفصہ  کے ہاں رکھوادیا گیا [6]

قرآن مجید اگرچہ نازل اس زبان میں ہو اتھا جو مکہ میں قریش کے لوگ بولتے تھے لیکن ابتداء ً اس امر کی اجازت دے دی گئی تھی کہ دوسرے علاقوں اور قبیلوں کے لوگ اپنے اپنے لہجے اور محاورے کے مطابق اسے پڑھ لیا کریں کیونکہ اس طرح معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، صرف عبارت ان کے لیے ملائم ہوجاتی تھی لیکن رفتہ رفتہ جب اسلام پھیلا اور عرب کے لوگوں نے اپنے ریگستان سے نکل کردنیا کے ایک بڑے حصے کو فتح کرلیا اوردوسری قوموں کے لوگ بھی دائر ہ اسلام میں آنے لگے اوربڑے پیمانے پر عرب وعجم کے اختلاط سے عربی زبان متا ثر ہونے لگی تویہ اندیشہ پیدا ہو اکہ اگر اب بھی دوسرے لہجوں اور محاوروں  کے مطابق قرآن پڑھنے کی اجازت باقی رہی تو اس سے طرح طرح کے فتنے کھڑے ہو جائیں گئے چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہنے صحابہ کرام کے مشورے  سے یہ طے کیا کہ تما م ممالک اسلامیہ میں صرف اُس معیاری نسخہء قرآن کی نقلیں شائع کی جائیں جو حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ کے حکم سے ضبط ِتحریر میں لایا گیا تھا اورباقی دوسرے تمام لہجوں اورمحاوروں پر لکھے ہوئے مصاحف کی اشاعت ممنوع قرار دی جائے۔ [7]



اس سلسلے میں سیدنا عثمان   رضی اللہ عنہنے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہاکو لکھا کہ ''ہمیں اپنا مصحف بھیج دیں،ہم اس کی نقول تیارکرکے آ پ کا مصحف آپ کو واپس کر دیں گے ''۔چنانچہ سید ہ حفصہ  رضی اللہ عنہانے وہ مصحف بھیج دیا۔  سیدنا عثمان  رضی اللہ عنہنے زید بن ثابت  ،عبداللہ  بن زبیر ،سعیدبن عاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہمکو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں تیا ر کیں۔آپ  نے یہ ہدایت کردی تھی کہ اگرزیدبن ثابت (انصاری) رضی اللہ عنہقرأت کے بارے میں باقی تینوں (قریشی) لوگوں سے اختلاف کریں تو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھنا کیونکہ قرآن انہی کے محاورہ پر اترا ہے۔ جب نقلیں تیا رہو گئیں تو آپ  نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا   کا مصحف انہیں واپس کردیا اوراس کی ایک نقل ہر مرکزی مقام پر بھجوا دی نیز حکم دیا کہ لوگوں کے پاس جو الگ الگ اوراق میں لکھاہوا قرآن موجود ہے اسے جلا دیا جائے۔[8]

زرقانی کا قول ہے کہ معروف ہے کہ مصحف عثمانی نقطوں کے بغیر تھا۔ (چاہے جو بات بھی ہو) مشہور یہی ہے کہ قرآن مجید کے نقطوں کا آغاز عبدالملک بن مروان کے دور خلافت میں ہو ا ہے اس لیے کہ جب اس نے یہ دیکھا کہ اسلام کی حدیں پھیل چکی ہیں اورعرب وعجم آپس میں گھل مل گئے ہیں اورعجمیت عربی زبان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور لوگوں کی اکثریت قرآن مجید کو پڑھنے میں التباس اور اشکالات کا شکارہو رہی ہے ،حتی کہ ان کی اکثریت قرآن مجید کے بغیر نقطوںوالے حروف وکلمات کی پہچان میں مشکل کا شکار ہوتے نظر آتی ہے تو اس وقت اس نے اپنی باریک بینی اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے اس مشکل کو ختم کرنے کا عزم کرتے ہوئے حجاج بن یوسف کویہ معاملہ سونپا کہ اس کو حل کرے۔ حجاج بن یوسف نے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے دو آدمیوں کو چنا اوریہ ذمہ داری نصر بن عاصم اللیثی اور یحییٰ بن یعمر العدوی کو سونپی جو عالم باعمل اورعربی زبان کے اصول وقواعد میں ید طولیٰ رکھنے کی بناپر اس اہم کا م کی اہلیت رکھتے تھے ،اور وہ دونوں قرأت میں اچھا خاصہ تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ابو الا سود الدولی کے شاگرد بھی تھے۔

یہ دونوں اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوئے اورقرآن مجید کے حروف و کلمات پر نقطے لگائے اوراس میں اس کا خاص طورپر خیال رکھا گیا کہ کسی حرف پر بھی تین سے زیادہ نقطے نہ ہوں۔ بعد میں لوگوں میں یہ چیز عام ہو ئی )جس کا قرآن مجید کے پڑھنے میں پیدا شدہ اشکا لات اورالتباسات کے ازالہ میں اثر پایا جاتاہے۔ (

اوریہ بھی کہا جاتاہے کہ مصحف پر نقطے لگانے والا سب سے پہلا شخص ابوالاسود الدولی ہے اورابن سیرین کے پاس وہ مصحف موجود تھا جس پر یحییٰ بن یعمر نے نقطے لگائے تھے۔ ان اقوال کے درمیان تطبیق اس طرح دی جاسکتی ہے کہ انفرادی طورپر تو ابوالاسود الدولی  نے ہی نقطے لگائے لیکن عمومی اوررسمی طورپر نقطے لگانے والا شخص عبدالملک بن مروان ہے اور یہی مصحف ہے جو کہ لوگوں کے درمیان عام مشہور ہواتاکہ قرآن مجید(کے پڑھنے ) میں التباسات اوراشکا لات کا خاتمہ ہو سکے۔ [9]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زبانی حفاظت پر نسبتاً زیادہ توجہ دی تھی۔ سب سے پہلے حافظ قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خودتھے، جتنا قرآن نازل ہو چکا ہوتا رمضان میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس کا جبرائیل علیہ السلام سے دوربھی فرمایا کرتے اوراپنی زندگی کے آخری سال آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ دور فرمایا۔ پھر صحابہ  کو یاد کرواتے اوران سے سنتے اوربعض دفعہ سناتے بھی تھے۔ قرآ ن کریم کے مصاحف لکھنے والے صحابہ کی نسبت قرآن کریم کے حفاظ کی تعداد بہت زیادہ تھی اورحفظ قرآن کا یہ سلسلہ نسل در نسل آج تک چلا آرہاہے اوریہ دونوں طریقے ایک دوسرے کی محافظت کرتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن سے محبت کرنے والے کچھ ایسے لوگ بھی پیداکردیے جنہوں نے قرآن کریم کی آیات ،الفاظ حتیٰ کہ حروف اوراعراب تک شمار کر ڈالے۔ نتیجہ یہ کہ نزول قرآ ن سے لے کر آج تک قرآن کے الفاظ وحروف میں سرمُو فرق نہیں آیا اوران حالات میں کمی بیشی ممکن ہی نہ رہی اورتحریف لفظی کے سب امکانات ختم ہوگئے۔ [10]



 [1] واضح رہے کہ پنج وقتہ نماز تو بعثت کے کئی سال بعد فرض ہوئی 'لیکن نماز بجائے خود اول روزہی سے فرض تھی ۔اسلا م کی کوئی ساعت کبھی ایسی نہیں گزری ہے جس میں نماز فرض نہ   ہو۔(تفہیم القرآن ،مقدمہ ،صفحہ 29)

[2] تفہیم القرآن ،مقدمہ ،صفحہ 29
[3]  islam-qa.com .www

[4]  معتبر روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضور a کی زندگی میں متعددصحابہ نے قرآن کو یا اس کے مختلف اجزا کو اپنے پاس قلم   بند کرکے رکھ چھوڑا تھا ۔چنانچہ اس سلسلے میں حضرات عثمان، علی ،عبداللہ بن مسعود ،عبداللہ بن عمروبن العاص ،سالم مولی  حذیفہ ، زید بن ثابت ، معاذبن جبل  ،ابی بن کعب اورابو زید قیس بن السکن رضی اللہ عنہم کے ناموں کی تصریح ملتی ہے ۔ تفہیم القرآن ،مقدمہ ،صفحہ 29

[5] تفہیم القرآن ،مقدمہ ،صفحہ 29

[6] بخاری ،کتاب التفسیر ،سور التوبہ ، باب جمع القرآن

[7] تفہیم القرآن ،مقدمہ ،صفحہ 30

[8] بخاری ،کتاب التفسیر ، باب جمع القرآن ۔ بحوالہ تیسیرالقرآن ،جلد دوم ، صفحہ 474

[9] الاعراف، 7:121-122

[10]  تیسیرالقرآن ،جلد دوم ، صفحہ 476

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

1 comments so far,Add yours

  1. ندیم احمد یار خان4 دسمبر، 2011 11:58 AM

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    برادرم طارق اقبال صاحب!
    بہت خوب اچھی معلومات شیئر کیں آپ نے۔

    جواب دیںحذف کریں