قرآن مجید میں ہامان کا ذکر اور جدید تحقیقات


قرآ ن کریم میں قدیم مصر کے بارے میں دی گئی معلومات بہت سارے تحقیقی حقائق کا انکشاف کرتی ہیں،جو آج تک پوشیدہ رہے۔یہ حقائق ہم پر یہ حقیقت منکشف کرتے ہیں کہ قرآن کا ایک ایک لفظ حتمی دانش کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ہامان ایک ایسا کردار ہے ،جس کا نام قرآن میں فرعون کے نام کے ساتھ ذکر کیاگیاہے۔  قرآن میں چھ مقامات پر ہامان کا ذکر فرعون کے نزدیک ترین لوگوںمیں کیا گیا ہے۔

        حیران کن طورپرہامان کانام تورات کے ان حصوں میں کہ جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آتاہے ،کہیں پر بھی نہیں پایا جاتا۔جبکہ عہدنامہ قدیم کے آخری ابواب میں ہامان کا ذکر بابل کے  ایک (Babylonian)بادشاہ کے مددگار کے طورپر
آتاہے ،جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے  تقریباً گیارہ سو سال بعدبنی اسرائیل پر بہت ظلم ڈھائے۔کچھ غیرمسلم جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات اورانجیل سے نقل کرکے قرآن میں لکھا تھا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ا ن کتابوں میں درج کچھ موضوعات قرآن میں غلط طورپر منتقل کردیے تھے (نعوذباللہ من ذالک)۔ان دعو وں کی نامعقولیت اوربیہودگی کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب قدیم مصری علاماتی تحریر (Hieroglyphic Alphabet)دوسو سال پہلے پڑھ لی گئی ،اورنام ''ہامان ''ان کی قدیمی دستاویزات میں دریافت ہوا۔

ان دریافتوں سے پہلے قدیم مصری تحریرات اورکتبہ جات سمجھے نہیں جاسکتے تھے۔ قدیم مصری زبان علاماتی زبان تھی جو زمانوں تک زندہ رہی۔ مگر دوسری اورتیسری صدی عیسوی میں عیسائیت اوردیگر ثقافتی اثرات کے غلبے کے باعث مصر نے اپنے پرانے عقائد کے ساتھ ساتھ اپنی علاماتی تحریر بھی ترک کردی۔ تب یہ زبان ایسے بھلا دی گئی کہ کوئی بھی ایسا شخص نہ رہا جو اسے پڑھ اور سمجھ سکتا۔یہ صورتِ حال تقریباً دوسو سال پہلے تک قائم رہی۔

        قدیم مصری علاماتی تحریر کا راز 1799ء میں اس وقت کھلا جب 196قبل مسیح کے دور سے تعلق رکھنے والی ایک لوح (Tablet)جسے روزیٹا سٹون (Rosetta Stone)کہتے ہیں دریافت ہوئی۔ اس کتبے کی خاص بات اس پر بیک وقت  تین مختلف قسم کی تحریروں کی موجودگی تھی : علاماتی یا تصویری (Hieroglyphics)'قدیم مصری سادہ علاماتی تحریر اوریونانی (Greek)۔اس لوح پر موجود یونانی تحریر کی مدد سے قدیم مصری تحریر پڑھی گئی۔ اس لوح پر موجود تحریر کا ترجمہ ایک فرانسیسی جین فرنکوئی شمپولین  (Jean-Francoise Chmapollion)نے مکمل کیا۔ اس طرح ایک بھولی بھٹکی زبان اوراس میں موجود واقعات دنیا کے سامنے آئے۔ یوں اس زمانے کی تہذیب ،مذہب اورسماجی زندگی کے بارے میں معلومات کا ایک خزانہ دستیاب ہوا۔

        تصویری زبان (Hieroglyph)کو سمجھ لینے کے بعد معلومات کا ایک اہم حصہ دستیاب ہوا کہ ''ہامان''کانام واقعی قدیم مصری تحریرات میں درج تھا۔یہ نام ویانا (Vieana)کے ہوف عجائب گھر (Hof Museum)میں موجود ایک یادگار سے تعلق رکھتاہے۔

        قدیم کتبہ جات وتحریرات پرمشتمل ایک ڈکشنری جس کانام پیپل ان دی نیو کنگڈم    (People in the new Kingdom)    ہے میں ہامان کا ذکر ''پتھر کی کانوں کے مزدوروں کے سربراہ''کے طورپر کیا گیا ہے۔اس طرح جو حقیقت سامنے آئی وہ قرآن کے مخالفین کے غلط دعووں کے برعکس ہے یعنی ،ہامان وہ شخص تھا جو مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں گزرا ،وہ فرعون کا معتمد تھا اور تعمیراتی کاموں میں مصروف ِعمل رہتاتھا ،جیسا کہ قرآ ن میں بتایا گیا۔

 چناچہ قرآن میں درج ذیل آیت کریمہ کہ جس میں اس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اور ہامان کو فرعون ایک مینار تعمیر کرنے کا حکم دیتاہے ، اس قدیم تاریخی (آثار )دریافت کے عین مطابق ہے:

(وَقَال َ فِرْعَوْنُ یٰاَیُّھَاالْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ج فَاَوْقِدْ لِیْ یٰھَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْ اَطَّلِعُ اِلٰی اِلٰہِ مُوْسٰی لا وَاِنِّیْ لَاَ ظُنُّہ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ )

''اورفرعون نے کہا ''اے اہل دربار،میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ،ذرا اینٹیں پکواکر میرے لیے ایک اونچی عمارت توبنوا،شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ،مَیں تو اسے جُھوٹا سمجھتاہوں''۔[i]

 مزید برآں قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت کریمہ میں ایک او ر معجزانہ پہلو بھی پایا جاتاہے او روہ یہ ہے کہ اس میں فرعون ،ہامان سے کہہ رہاہے کہ تو میرے لیے ایک ایسی عمارت بنا جو اینٹوں سے بنی ہوئی ہو۔قرآن مجید کے مخالف مؤرخین کافی عرصے سے اس بات پر ڈٹے ہوئے تھے کہ قرآن کا یہ بیان تاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔اس لیے کہ مصر کی قدیم تاریخ میں اینٹوں کا وجود نہیں پایا جاتا تھا بلکہ اینٹیں رومیوں کے دور کے بھی بعد کی پیداوار ہیں ۔چناچہ قرآن کا یہ کہناکہ ''میرے لیے اینٹوں سے گھر بناؤ''قطعاً درست نہیں ہے۔ قرا ن مجید پر یہ اعتراض جاری تھاکہ ایک ماہر آثار قدیمہ پیٹری "Patry"  نے ان اینٹوں کو جلی ہوئی شکل میں دریافت کرلیا۔ یہ اینٹیں مقبروں کی عمارت بنانے کے لیے استعمال کی گئی تھیں ۔علاوہ ازیں یہ اینٹیں اس دور کی کچھ عمارتوں کی بنیادوں میں بھی مستعمل پائی گئی ہیں کہ جب (1308 - 1184) قبل مسیح مصر پر انیسواں خاندان حکمران تھا اوراس دوران رعمسیس دوم ،مرنفتاح اور سیتی دوم حکمران تھے ۔یادر ہے کہ رعمسیس دوم نے بائبل کے مطابق بنی اسرائیل سے بطور بیگار دوشہر رعمس اور پتھوم تعمیر کرائے تھے ۔موجودہ دور کے مطابق یہ شہر تیونس ،قطر کے علاقہ کا ایک حصہ ہیں جو دریائے نیل کے مشرقی ڈیلٹے میں ہیں اسی علاقے میں فرعون رعمسیس دوم نے اپنا شمالی تخت بنایاتھا۔ماہر آثار قدیمہ پیٹری کو یہ اینٹیں بھی اسی علاقے کے قریب سے ملی ہیں ،جن سے معلوم ہوتاہے کہ اس زمانے میں بھی مصر کے لوگ اینٹوں کا استعمال کرتے تھے اور یہ قرآ ن مجید کی سچائی کامنہ بولتاثبوت ہے۔

      مختصراً کہا جا سکتاہے کہ ہامان کے نام کا قدیم مصری تحریرات میں پایا جانا اور اینٹوں کاملنا ،نہ صرف یہ کہ قرآن کے مخالفین کے جعلی دعووں کو باطل کر دیتاہے ،بلکہ ایک بارپھر یہ ثبوت مہیا کرتاہے کہ قرآن وہ کتاب ہے جو خدا کی جانب سے نازل کی گئی ہے۔ ایک معجزانہ انداز میں قرآن ہمیں تاریخی معلومات مہیا کرتاہے ،جنہیں عہدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں سمجھا جا سکتاتھا۔  [ii]





[i] القصص، 28:38
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours