اللہ مشارق اورمغارب کا رب ہے


  قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ)

''دونوں مشر ق اوردونوں مغرب ،سب کامالک وپروردگار وہی ہے ''  (الرحمٰن۔  55:17  )

عربی زبان میں جمع دو طرح کا ہوتاہے۔ ایک تثنیہ اور دوسرا 'جمع۔ دو اشیا  ہوں تو ان کو تثنیہ کہتے ہیں جبکہ دو سے زاید اشیا کو عربی میں جمع کہتے ہیں۔ (1)

اس آیت کریمہ میں لفظ تثنیہ استعمال ہواہے۔ یعنی دومشرقوں اور دو مغربوں کا رب۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتاہے اورمغرب میں غروب ہوتاہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ سورج کے طلوع ہونے کازاویہ ہر روز مختلف ہوتاہے اوراسی طرح جب یہ مغرب میں غروب ہوتاہے تو اس کا زاویہ بھی ہر روزمختلف ہوتاہے۔ سال میں صرف دودن ایسے
ہیں کہ سورج مشرق کے انتہائی دور دراز مقا م سے طلوع ہوتا ہے اور پھر اسی کے مطابق مغرب کے انتہائی دوردراز مقامات پر غروب ہوتاہے۔ علاوہ ازیں سال میں دو دن 20 /21مارچ اور22/23ستمبرکوسورج کچھ وقت کے لیے عین خط استواکے مقام سے گزرتاہے ۔اس تاریخ کورات اوردن کی لمبائی ایک جیسی ہوتی ہے ان وقتوں کو Equinoxکہاجاتاہے۔

 21جون کو سورج مشرق سے شمال کی جانب 23.5درجے سے طلوع ہوتاہے اورپھر اسی مناسبت سے مغرب میں 23.5درجے شمال کی جانب غروب ہوتاہے۔ یہ موسم گرما کا سب سے لمبا دن ہوتاہے جس کو (Summer Solstice) کہتے ہیں۔علاوہ ازیں اس وقت زمین کے نصف شمالی کرہ میں موسم گرما ہوتاہے اور باقی نصف کرہ جنوبی میں موسم سرما ہوتاہے۔ یعنی یہ دن کرہ شمالی والوں کے لیے (Summer Solstice)   کہلائے گا مگر کرہ جنوبی والوں کے لیے (Winter Solstice)کہلائے گا۔

اسی طرح 21/22دسمبر کو سورج مشرق سے جنوب کی جانب 23.5درجے سے طلوع ہوتاہے اوراسی مناسبت سے یہ مغرب میں 23.5درجے جنوب کی جانب غروب ہوتاہے۔ یہ موسم سرما کاسب سے چھوٹا دن ہوتاہے۔ اس کو کہتے ہیں۔

ا س وقت زمین کے نصف کرہ جنوبی میں موسم گرما ہوتاہے اورباقی نصف کرہ شمالی میں موسم سرما ہوتاہے۔ یعنی یہ دن کرہ شمالی والو ں کے لیے تو (Winter Solstice)کہلائے گا مگر کرہ جنوبی والوں کے لیے (Summer Solstice)کہلائے گا۔چنانچہ سال میں دو دن سورج مشرق کے دوانتہائی مقامات (جن کے درمیان 47درجے کافاصلہ ہے )سے طلوع ہوتاہے اورپھر اسی ترتیب سے مغرب کے دو انتہائی مقامات پر غروب ہوتاہے۔(2) چنانچہ مندرجہ بالا آیت سے یہ ہی مراد معلو م ہوتی ہے کہ رب دو مشرقوں اور دو مغربوں کا رب ہے۔(واللہ اعلم)۔ مگر قرآ ن مجید میں ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے:

(فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ)

''پس نہیں ،میں قَسم کھاتاہوں مشرقوں اورمغربوں کے مالک کی ،بے شک ہم ہر چیز پر قادرہیں''(  المعارج ، 70:40  )

اس آیت میں لفظ مشارق اور مغارب ،تثنیہ نہی بلکہ جمع ہے یعنی کئی مشرق اور کئی مغرب۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ سورج سال میں صرف دودن مشرق اورمغرب کے انتہائی دوردراز مقامات سے طلوع ہوتاہے جبکہ باقی دنوں میں وہ ہر روز ایک نئے درجے سے طلوع وغروب ہوتا ہے۔ ا س لحاظ سے سورج کے کئی مشارق اورمغارب ہوئے۔ چنانچہ جدید سائنس اورقرآن کی مندرجہ بالا آیات میں زبردست مطابقت پائی جاتی ہے۔اس میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان آیات کا صحیح مفہوم کیا ہے اور ہوسکتاہے کہ مسقبل کی جدید سائنس ہمیںان آیات کے مفہوم کو اور زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے نئی معلومات فراہم کردے۔ (واللہ اعلم)

 .....................................................................................

حواشی


(1)۔آسان لغاتِ قرآن ، صفحہ 25

 (2)۔http://www.cse.ohio-state.edu/~wengerk/astro/naastro.html

....................................................................................................................

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours