ماں کے پیٹ کے تین تاریک پردے


اللہ تعالیٰ سورة الزمر میں ارشاد فرماتاہے:

(خَلَقَکُمْ مِنْ نِّفْسٍ وِّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْْھَا زَوْجَھَا وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّن الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاج ٍ ط یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ م بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْک ط لَآ اِلٰہَ اِلِّا ھُوَ ج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ)

'' اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اس سے اس کی بیوی بنائی اورتمہارے لیے مویشیوں سے آٹھ نر ومادہ پید اکیے، وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ،تین تاریک پردوںمیں ،ایک کے بعد دوسری شکل دیتے ہوئے پیداکرتاہے۔ یہ ہے اللہ (ان صفات کا )تمہارا پروردگار، بادشاہی اسی کی ہے ،اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ پھر تم کہا ں سے پھیر دیے جاتے ہو ؟''  [1]

قرآ ن مجید کے جدید دور کے مفسرین درج بالا آیتِ کریمہ میں بتائے گئے ماں کے پیٹ کے تین تاریک پردوں کو جدید سائنس
کے بیان کردہ درج ذیل تین حصّوں سے منسوب کرتے ہیں،جن کے اندر بچہ کی تولیدی وقفہ کے دوران حفاظت کی جاتی ہے۔


1)۔ پہلی مادری شکمی دیوار (The Maternal Interior Abdominal Wall)


یہ پہلا مرحلہ ہے جب بیضہ والا خلیہ رحم کی دو نالیوں میں نشوونماپاتاہے۔زندگی کی ابتدا کا تجربہ اس حیاتیاتی خلیے (Zygote)کو اس پہلے مرحلے میں ہوتاہے۔دراصل ایک بیضہ والا خلیہ (Ovum)صرف اللہ کی مرضی سے بارور (Fertilized) ہوتا ہے۔یہ باریک ترین خلیہ (Cell)ہی ہے۔ جس میں ہر چیز تیارہوتی ہے اورانسانی زندگی کی آئندہ تفصیلات بھی یہیں متعین ہو جاتی ہیں۔عورت کے بیضہ کی باروری کے لیے مرد کے صرف ایک (Single Sperm)کی ضرور ت ہوتی ہے۔ لیکن مرد کے جسم سے ان کا اخراج کروڑوں کی تعداد میں ہوتاہے جب کہ ان میں کارآمد ایک ہی ہوتا ہے باقی خودبخود ختم ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس کو قرآن کی اصطلاح میں پہلا اندھیرا (حجاب )کہہ سکتے ہیں۔

2)۔ رحمی دیوار  (The Uterine Wall)

زرخیز شدہ بیضہ کا خلیہ رحم کی لعاب دار جھلی جسے (Intrauterine Epitherlium Endometrium) بھی کہتے ہیں'میں پہنچتا ہے۔ یہ ایک جنگل کے مشابہ ہے۔ یہ اس میں ایک طرح سے جڑ پکڑ لیتا ہے اورخودوہیں مناسب جگہ قائم کر لیتاہے۔

حیاتیاتی خلیہ (Zygote)اسی جگہ پر تقسیم کا عمل شروع کرتاہے، اس لیے جنین (Embryo) کے پہلے مرحلہ میں تما م اعضا کی تشکیل کی ابتدا بھی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ خلیوں کی ابتدائی تقسیم اسی کے دوسرے مرحلے کی تشکیل کرتی ہے۔ اس مرحلے میں انسانی جسم کی شکل خلیوں کے جھمگھٹوں کی طرح ہوتی ہے۔مادہ منویہ انسان کے خلیوں میں پیدا ہوتاہے اورپھر عارضی طورپر نالیوں کے ایک نظام میں جمع ہو جاتا ہے۔ پھر بارورشدہ بیضہ عورت کے تولیدی نظام میں بیضہ نالیوں (Fallopian Tubes)کے راستہ سے گزر کر رحم مادر (Uterus)میں چلا جاتاہے اوروہاں ایک خاص مقام پر ٹھہر جاتاہے۔ اس جگہ کودوسرا اندھیرا(حجاب)کہتے ہیں۔

3)۔غلاف جنین جھلی    (The Amniochorionic Membrane )

یہاں ایک پوٹلی (Amniotic Sac)ابتدائی شکل کے اردگرد ایک مخصوص مائع کی شکل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر انسانی اعضا اوردوسرا حیاتیاتی نظام اسی کے اندر افزائش پاتاہے۔ پھر جب یہ جنین نظرآنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو یہ محض گوشت کا ایک لوتھڑا سانظرآتاہے جس کے مرکز میں انسان کو ابتدائی حالت میں شناخت کرنا مشکل ہو تاہے اوروہاں تدریجاً بڑھتاہے اور وہیں ہڈیوں کی ساخت(Bone Structure)اعصابی نظام (Nervos system)   ،پٹھے (Muscles) ، اور آنتیں (Viscerae)تخلیق ہوتی ہیں۔اس جگہ کو تیسرااندھیرا(حجاب ) کہہ سکتے ہیں۔ [2]





[1] 39- 6

[2] سائنسی انکشافات قرآن وحدیث کی روشنی میں ۔ صفحہ

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours