اہم زمرہ جات

ہِگز بوسَن یا خدائی ذرّہ
پروفیسر شہزادالحسن چشتی


ہگزبوسن اور نوبل انعام 

سال ۲۰۱۳ء کا ’رائل سویڈیش اکیڈمی آف سائنس‘ کا نوبل انعام برطانیہ کی ایڈنبرا یونی ورسٹی کے طبیعیات کے ۸۴سالہ اعزازی پروفیسر پیٹر ہِگز (Peter Higgs) اور بلجیم کے ۸۰سالہ پروفیسر فرانکوئس اینگلرٹ (Francois Englert) نے مشترکہ طور پر حاصل کیا ہے۔ یہ نوبل انعام ۲ء۱ ملین ڈالر کا ہے جو انھیں ’ہِگزبوسَن‘ یا ’خدائی ذرّہ‘ کی صبرآزما ۵۰سالہ
تحقیقات پر دیا گیا ہے۔ اس انعام کے ہمراہ تعریفی بیان میں کہا گیا ہے: یہ اس طریقۂ عمل کے نظری اکتشاف پر دیا گیا ہے جس سے ادنیٰ ایٹمی ذرّوں میں وزن کے ظہور یا پیدایش کی تشریح ہوتی ہے۔ اُس تجربے سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ اس میں ایک بنیادی ذرّے کی پیدایش کی نشان دہی ہوئی جو اٹلاس اور سی ایم ایس تجربات کے ذریعے سرن (سوئٹزرلینڈ) کی تجربہ گاہ میں ایک بڑے ہڈرون تصادمی آلے میں وقوع پذیر ہوا۔

ہگزبوسن یا خدائی ذرّے کی دریافت


۱۹۶۰ء میں ایک برطانوی سائنس دان پیٹرہِگز اور بلجیم کے ماہرطبیعات فرانکوئس اینگلرٹ اور علم طبیعیات کے بعض دوسرے محققین کائنات اور اس کی ابتدا پر تحقیقات میں مصروف تھے اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ جب کائنات کا وجود نہیں تھا اور فضا میں صرف مختلف قسم کی توانائی کی لہریں تھیں، تو کس طرح اس توانائی سے ایٹمی ذرّات، یعنی پروٹون اور دوسرے ذرّات نہ صرف پیدا ہوئے بلکہ مستحکم ہوئے۔ ان میں کمیت (mass) پیدا ہوئی، یہ آپس میں جڑے، جس کے نتیجے میں ایٹم تشکیل ہوا اور اس طرح مادہ پیدا ہوا جس سے کائنات وجود میں آئی۔ عموماً ہوتا یوں ہے کہ برقی قوت کے زیراثر پروٹون تو پیدا ہوجاتے ہیں، لیکن اگر ان میں کمیت پیدا نہ ہو تو چندلمحات میں معدوم ہوجاتے ہیں، لہٰذا یہ بالکل غیرمستحکم ہوتے ہیں لیکن اگر ان میں کمیت پیدا ہوجائے تو یہ بڑے طویل عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر محققین نے یہ نظریہ قائم کیا کہ ایٹمی ذرّات، یعنی پروٹون اور دوسرے ذرّات میں کمیت پیدا ہونے کی وجہ ایک اور ذرّہ ہے۔ یہ ابتداے کائنات میں ایک پل کے لیے پیدا ہوا اور ایٹمی ذرّات کو کمیت دے کر خود معدوم ہوگیا اور ایٹمی ذرّات مستحکم ذرّات بن گئے۔
پروفیسر ہِگز اور ان کے ساتھی محققین نے اس ذرّے کو ’ہِگز بوسَن‘ کے نام سے موسوم کیا اور عام اصطلاح میں اسے ’خدائی ذرّہ‘ کا نام دیا گیا اور یہی ذرّہ سائنس دانوں کی نگاہ میں کائنات کی وجۂ تخلیق قرار پایا۔ یہ تخیلاتی لطیف عنصر یا ادنیٰ ایٹمی ذرّہ ۱۹۶۰ء سے سائنس دانوں کی تحقیق کی آماج گاہ رہا ہے۔اس ذرّے کی تلاش کے لیے ہِگز اور الگرٹ نے ایک تجرباتی منصوبہ اور طریقۂ عمل تشکیل دیا۔ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر سرن (Cern) کے علاقے میں کثیراخراجات کرکے (۲۷کلومیٹر طویل ) ایک سرنگ نُما تجربہ گاہ بنائی گئی جس میں توانائی کو مادے میں تبدیل کرنے اور اس مقصد کے لیے ’ہِگز بوسَن‘ ذرّے یا تخیلاتی عنصر کو حاصل کرنے اور اس کے ذریعے پروٹونز میں کمیت پیدا کرکے ان میں استحکام پیدا کرنے اور مادہ حاصل کرنے کے لیے مختلف آلات نصب کیے گئے۔ اس سرنگ کو لارج ہڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider) کا نام دیا گیا۔ گذشتہ چندبرسوں سے اپنے پروگرام کے مطابق مختلف تجربات کیے گئے اور ۲۰۱۲ء میں وہ ہِگزبوسَن نامی تخیلاتی لطیف عنصر یا ادنیٰ ایٹمی (sub-atomic) ذرّہ، جسے کائنات کی تخلیق کی وجہ قرار دیا جاتا ہے اور کائنات کا بنیادی جز سمجھا جاتا ہے، کا مشاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس کامیابی کا اعلان سوئٹزرلینڈ کے سرِن ہال میں ایک پُرہجوم کانفرنس میں کیا گیا۔
اس ذرّے کے بارے میں تحقیقات کرنے والے سائنس دانوں کے مختلف مشاہدات اور تاثرات میں ایک مشاہدہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب ہِگز بوسَن بھاری توانائی لے کر آیا تو تمام عناصر اس کی وجہ سے آپس میں جڑنے لگے تو اس سے ماس یا کمیت پیدا ہوگئی۔ تجربے کے دوران میں پروٹونز نے ۲۷میٹر لمبی سرنگ کے ایک سیکنڈ میں ۱۱ہزار سے زیادہ چکر لگائے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایسا ذرّہ ہے جس کا وزن ۳ء۱۲۵ گیگاالیکٹرون ولٹس (volts) تھا۔ یہ ذرّہ ہرایٹم کے مرکزے میں موجود پروٹونز سے ۱۳۳گنا بھاری تھا۔ایک خیال یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نیا دریافت شدہ ہِگزبوسَن ہی ہے۔ یہ اس صدی کی سب سے بڑی دریافتوں میں سے ایک اہم دریافت ہوگی۔ بعض ماہر طبیعیات اس ذرّے کو ۱۹۶۰ء کی دہائی میں پہلی مرتبہ انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے واقعے کے برابر قرار دیتے ہیں۔
بعض اور صاحبانِ سائنس کا خیال ہے کہ ان تجربات سے ایسی یقینی صورت حال واضح ہوئی ہے کہ اسے ’دریافت‘ کا درجہ دیا جاسکے۔ تاہم ابھی اس سلسلے میں بہت کام باقی ہے کہ آیا سائنس دانوں نے جس کا مشاہدہ کیا ہے وہ وہی ہِگزبوسَن ہے یا نہیں۔سرن کے ڈائرکٹر جنرل پروفیسر رالف دانتر ہیونز کا کہنا ہے کہ ایک عام آدمی کی حیثیت سے ہم کامیاب ہوگئے ہیں لیکن سائنس دان کی حیثیت سے میں کہوں گا کہ ہم نے کیا تلاش کیا ہے؟ ہمیں ایک ذرّہ ملا ہے جسے ہم ’بوسَن‘ کہتے ہیں لیکن ابھی پتا چلانا ہے کہ یہ کس قسم کا بوسَن ہے؟ بہرحال یہ ایک تاریخی سنگِ میل ہے مگر ابھی تو کام کا آغاز ہے!کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کسی فیصلہ کن ثبوت اور اسے ایک دریافت قرار دینے کے لیے انھیں ابھی مزید تجربات کرنا ہوں گے۔
کچھ مزید معلومات کے لیے یہ مضمون(آئیے جانتے ہیں کہ گاڈ پارٹیکل کیا ہے اور یہ کیسے دریافت ہوا؟) ضرور پڑھیے۔

کائنات کی تخلیق اور قرآن حکیم کی رہنمائی


گذشتہ ۵۳برسوں کی طویل اور صبرآزما تحقیق اور زرِکثیر صرف کرنے کے بعد سائنس دانوں کی ایک ٹیم اس قابل ہوئی کہ ان کے بقول انھوں نے ’بوسن‘ یعنی خدائی ذرّہ نامی کسی ذرّے کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق یہ خلا میں موجود توانائی کو مادی ایٹمی مواد میں تبدیل کرنے اور اس کمیت کو پیدا کرکے مادی کائنات کی تشکیل کا بنیادی مواد پیدا کرنے کا موجب بنا اور کائنات کی تشکیل میں ممدومعاون ہوا۔ اس حوالے سے قرآنِ حکیم انسان کو جو رہنمائی عطا فرماتا ہے وہ یہ ہے:

کیا وہ لوگ جنھوں نے (نبیؐ کی بات ماننے سے) انکار کردیا ہے غور نہیں کرتے کہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے (اللہ نے) انھیں جدا کیا۔۔۔ کیا وہ ہماری خلّاقی کو نہیں مانتے؟۔۔۔ (الانبیاء ۲۱:۳۰۔۳۲)
اور وہی (اللہ ہی) ہے جس نے آسمان اور زمین چھے دن میں پیدا کیے اور اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔(ھود۱۱:۷)
کیا تم اس اللہ سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیراتے ہو، جس نے زمین کو دودنوں میں بنا دیا، وہی تو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اُس نے (زمین کو وجود میں لانے کے بعد) اس پر پہاڑ جما دیے۔۔۔ اس میں ہرایک کی طلب اور حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کردیا، یہ سب کام چار دن میں ہوگئے۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا: وجود میں آجاؤ خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ دونوں نے کہا: ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح۔ تب اس نے (اللہ نے) دو دن کے اندر سات آسمان بنادیے اور ہرآسمان میں اُس کا قانون وحی کردیا اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اُسے خوب محفوظ کردیا۔ یہ سب کچھ ایک علیم ہستی کا منصوبہ ہے۔ (حم السجدہ ۴۱:۹۔۱۲)
اور آسمانوں کو ہم ہی نے بنایا اور یقیناًہم کشادگی کرنے والے ہیں۔ اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں(الذاریات ۵۱:۴۷ ۔۴۸)

یہ چند جواہر پارے اس مستند کتاب سے لیے گئے ہیں جسے چودہ سو سال قبل مالک و خالق السمٰوات والارض نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل کیا تھا، یعنی قرآنِ حکیم۔ یہ جواہرپارے جن حقیقی اور واقعی باتوں پر مشتمل ہیں، وہ یہ ہیں:
۱۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزیں، یعنی کائنات ،چھے دنوں میں ایک منصوبے کے تحت صرف اور صرف حکیم اور علیم اللہ نے پیدا کی ہیں۔ یہی بات پچھلی آسمانی کتاب انجیل کے اوّل باب میں کہی گئی ہے۔ وہاں ہفتہ کے ہردن کے اعتبار سے بتایا گیا ہے کہ اس دن کیا کیا پیدا کیا گیا۔
۲۔ ابتدا میں ساری کائنات وہ نہ تھی جو اب نظر آتی ہے بلکہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، یعنی ان کی کوئی شناخت نہ تھی اور وہ ایک ننھے سے وجود جیسے تھے۔
۳۔ اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا، یعنی اللہ کا اقتدار پانی مثل مائع جس میں پانی جیسی لہریں پیدا ہوتیں، یعنی توانائی پر تھا۔ خلا میں توانائی لہروں کی صورت میں تھی اور اس پر اللہ کا اقتدار تھا۔
۴۔ اسی توانائی کو اللہ نے ایک ذرّے کی صورت میں تبدیل کیا۔ یہ ذرّہ جس میں آسمان اور زمین سموئے ہوئے تھے، مادّہ تھا جو ایٹم کہلاتا ہے۔ اس میں نیوٹرون، پروٹون اور الیکٹرون تھے جو توانائی سے بھرپور تھے۔
۵۔ اس ایٹمی مواد سے اللہ نے پہلے آسمان کو دھوئیں کی صورت علیحدہ کیا اور پھر سات آسمانوں کی شکل دی، اور سب سے زیریں آسمان کو ستاروں (چراغوں) سے مزین کیا اور ہر آسمان کو وحی کے ذریعے قوانین کا پابند کیا۔ اسی دوران زمین کی صورت گری کی اور اس کو بھی قوانین کا پابند بنایا۔ آسمان اور زمین کا بے وجودی کی حالت سے سات آسمان اور زمین کی تخلیق سائنسی تحقیق کے مطابق ایک بڑے دھماکے کی صورت میں ہوا جس کو کبیردھماکا (بگ بینگ) کا نام دیا گیا ہے۔
کائنات کی تخلیق سراسر اللہ کی قدرت، اُس کی حکمت اور اس کے منصوبے کے تحت ہوئی۔ متعصب سائنس دان اور مغربی اہلِ دانش وجودِ باری تعالیٰ کے انکاری ہیں اور ہرواقعے کی مادی توجیہہ پر بس کرتے ہیں، لہٰذا انھوں نے کائنات کی تخلیق پر اللہ کی کتاب، قرآن کو اُٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ مسلمان سائنس دانوں نے بھی نہ خود قرآن سے اس معاملے پر رہنمائی حاصل کی اور نہ مادیت پسند سائنس دانوں کو ہی اس طرف توجہ دلائی ۔ لامذہبی سائنس دانوں کا اللہ اور اللہ کے وجود سے بے اعتنائی کا رویہ ان کے خودساختہ پروٹوکول کا نتیجہ ہے جو انھوں نے قائم کر رکھا ہے۔ اس بارے میں ہارورڈ یونی ورسٹی کا ایک معروف ماہر جینیات رچرڈ سی لیونٹس اعتراف کرتا ہے:
ایسا نہیں ہے کہ سائنس کی تحقیق کے طریقے اور ادارے ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم دنیا میں ہونے والے واقعات کی مادی تاویلیں ہی تسلیم کریں بلکہ اس کے برعکس ہم مجبور ہیں کہ بنیادی طور پر مادی طریقۂ تحقیق اورمادی نظریات سے بھی ہم آہنگ رہیں اور مادی تعبیر ہی پیش کریں، اس سے قطع نظر کہ یہ کسی کی نگاہ میں کتنی ہی غیرمعتبر ہوں۔ پھر مادیت ایک بدیہی حقیقت ہے لہٰذا ہم الٰہی قدم کو اس دروازے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

پھیلتی اور سکڑتی کائنات اور سائنس دان


اللہ رب العزت نے تو چودہ سو صدی قبل ہی کائنات کے بارے میں بتا دیا تھا: ’’آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انھیں جدا کیا‘‘۔ اور یہ کہ ’’اس سے قبل اس کا عرش پانی پر تھا‘‘۔ مگر بیسویں صدی کی ابتدا تک سائنس دان خیال کرتے تھے کہ کائنات جس طرح اب نظر آتی ہے ہمیشہ سے اسی طرح ہے، یعنی جامد ہے۔۱۹۲۲ء میں ایک روسی ماہر ریاضیات الگزینڈر فریڈمین نے ریاضی کے معادلوں (mathemetical equations) کے نتائج سے واضح کیا کہ کائنات جامد شے نہیں ہے بلکہ وسعت پذیر ہے۔ ۱۹۲۷ء میں جارجس لماٹری نے کائنات میں ستاروں کے جھرمٹوں کا زمین سے دُور ہوتے جانے کا مشاہدہ کیا اور وضاحت کی کہ ایسا ہونا دراصل کائنات کی وسعت پذیری کے باعث ہے۔ اسی فاضل امریکی ماہرطبیعیات نے ۱۹۳۱ء میں یہ خیال بھی پیش کیا کہ جب مستقبل میں کائنات پھیلتی جارہی ہے تو لازم ہے کہ ماضی میں یہ سکڑی ہوئی تھی اور اس آخری حد تک سکڑی ہوئی تھی کہ جس کے بعد اس کا سکڑنا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا یہ ایک نقطے کی مانند تھی اور یہ کہ اس حالت سے قبل کائنات کا کوئی وجود نہ تھا۔ وقت اور زماں اور مکان کا بھی وجود نہ تھا۔ یوں یہ کائنات بے وجودی کی کیفیت میں تھی اور اس حالت سے وجود پذیر ہوئی۔ ۱۹۲۴ء تا ۱۹۳۹ء میں ایک امریکی ماہرفلکیات ایڈون حبل کے مشاہدات نے لماٹری کے خیالات پر مہرتصدیق ثبت کردی۔ مگر وہ اللہ کی کبریائی سے بے بہرہ رہا۔

تخلیق کائنات ۔ وجود باری تعالٰی کی چند نشانیاں


اگر درج بالا بیان کے حوالے سے سائنس دانوں کا دعویٰ صحیح ہے کہ انھوں نے ’ہِگزبوسَن‘ (خدائی ذرّہ) کا مشاہدہ کیا ہے جس نے کائنات کی تخلیق کے وقت پروٹونز اور نیوٹرونز کو جوڑ دیا تھا اور ان کے اندر ایک کمیت پیدا ہوگئی تھی جس کے بعد کبیر دھماکا ہوا (بگ بینگ) اس وقت ایک سوہزار ملین ڈگری سنٹی گریڈ تپش پیدا ہوئی اور کائنات تیز روشنی سے بھرگئی۔ یہ کائنات کی ابتدا تھی۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا۔ اس بارے میں ہم بالکل اندھیرے میں ہیں اور جاننا بھی مشکل امر ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں دُور دُور تک تشکیل پانے والے مادے کے ٹکڑے بکھر گئے اور ہرٹکڑا ایک طویل عرصے میں اس قانون اور ہدایات کے مطابق ڈھل گیا جو خالق کائنات نے اس کو ودیعت کیا تھا۔ آسمان، زمین، ستارے، سیارے اور ان کے جھرمٹ (کہکشاں) اور ان پر موجود اشیا تشکیل پاگئیں۔ سائنس دانوں کو تو خالق ارض و سموات کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا چاہیے تھا کہ اللہ نے ان کو اپنی کائنات کے ابتدائی منصوبے سے واقفیت بخشی۔ اس منصوبے کو رُوبہ عمل لانے میں ان کا کوئی کردار نہیں سواے اس کے کہ کائنات کے تخلیقی منصوبے کی تھوڑی جھلک دیکھ پائے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کے لیے کافی نہیں کہ اللہ یعنی خالقِ کائنات کے وجود پر یقین لے آیا جائے۔ کائنات میں ایسی بہت سی واضح نشانیاں ہیں جن کی سائنس دانوں نے بھی وضاحت کی ہے اور کئی آسمانی کتب میں بھی بیان کی گئی ہیں ان میں چند ایک بیان کی جاتی ہیں تاکہ اہلِ علم کو وجودِ باری تعالیٰ کا حق الیقین ہوجائے۔
۱۔ کرۂ ارض کی مخصوص اور سوچی سمجھی خوب صورت ساخت اور بناوٹ جو خالق کائنات آج تک قائم رکھے ہوئے ہے اور یوم الآخر تک قائم رکھے گا۔
کرۂ ارض کی مخصوص شکل___ شمال اور جنوب، یعنی قطب شمالی اور جنوبی پر قدرے چپٹی جب کہ مشرق اور مغرب میں گولائی لیے ہوئے___پھر اس میں مخصوص کششِ ثقل (gravity) ہے۔ لہٰذا اس کے گرد نائٹروجن اور آکسیجن وغیرہ گیسوں کا ایک پرت ہے جو صرف ۵۰میل تک موجود ہے۔ اگر کرۂ ارض کی جسامت بڑی ہوتی تو پرت میں صرف ہائیڈروجن گیس ہوتی، آکسیجن نہ ہوتی جیسے کہ جوپیڑ سیارے کے گرد ہے، اورجسامت چھوٹی ہونے کی صورت میں گیسوں کی پرت کا وجود ناممکن تھا جیساکہ مرکری (mercury) سیارے کے گرد ہے۔ صرف کرۂ ارض اپنی موجودہ جسامت کے باعث گیسوں کے صحیح توازن کے ساتھ اس پرت کو سنبھالے ہوئے ہے جس کے باعث یہ کرۂ ارض پودوں، حیوانات اور انسانوں کو اپنے اُوپر قائم رکھنے کے قابل ہے۔
کرۂ ارض سورج سے ایک خاص فاصلے پر واقع ہے، تقریباً ۹۳ملین میل ، لہٰذا زمین پر درجۂ حرارت ۲۰۔ تا ۱۲۰228 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ اگر یہ فاصلہ کم ہوجائے، سب حیات خاکستر ہوجائے اور اگر فاصلہ زیادہ ہوجائے تو سب یخ بستہ ہوجائیں۔ پھر زمین بھی اس فاصلے کو قائم رکھے ہوئے سورج کے گرد ۶۷میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگاتی رہتی ہے اور ساتھ ہی اپنے مدار پر گھومتی بھی جاتی ہے، لہٰذا زمین کے سارے علاقے یکساں طور پر یکے بعد دیگرے گرم و سرد حالات سے گزرتے رہتے ہیں۔
کرۂ ارض کے چاند کی مخصوص جسامت اور زمین سے اس کا فاصلہ اتنا متوازن ہے کہ اس کی کششِ ثقل ایک خاص حد میں رہتی ہے جس کے باعث سمندروں میں مدوجزر آتے ہیں اور لہریں اُٹھتی ہیں۔ اس کے باعث پانی نہ تو ساکت رہ کر گندا ہوتا ہے اور نہ ہی سمندر کے کناروں سے نکل کر زمینی علاقوں کو اَتھل پتھل کرتا ہے۔
کرۂ ارض اور متعلقہ بیان زیادہ تر سائنسی تحقیقات پر مشتمل ہے۔ اب ذرا غور کیجیے کہ قرآنِ حکیم میں اس حوالے سے کیا بیان ہوا ہے۔ بے شمار آیات میں سے صرف دو بیان کی جاتی ہیں:

نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ (یٰسین ۳۶:۴۰)
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔۔۔ آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی۔(الرحمٰن ۵۵:۵۔۷)

۲۔ آب (پانی): اللہ رب السموات والارض نے پانی بے رنگ، بے بو اور بے مزا بنایا ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی جان دار کا اس کے بغیر گزارا نہیں۔ ہر جان دار کے جسم کے اندر مخصوص مقدار میں پانی ہوتا ہے۔ انسان کے جسم کا ۳/۲ حصہ پانی ہے۔ درج ذیل خاصیتوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پانی زندگی کے لیے کتنا لازمی ہے:
ا: پانی کا نقطۂ انجماد اور نقطۂ اُبال غیرمعمولی طور پر زائد ہوتا ہے، لہٰذا پانی کا درجۂ حرارت ۶ء۹۸ ڈگری پر ہمارے جسموں کو بہترین سطح پر رکھتا ہے اور ہم پانی کے درجۂ حرارت کی وسیع تبدیلیوں میں بھی زندگی بسر کرلیتے ہیں۔
ب: پانی عمومی محلول ہے ، یعنی اس میں اکثر اشیا حل ہوجاتی ہیں، مثلاً اکثر کیمیکل (chemicals)، معدنیات (minerals) غذائی اجزا پانی ہی میں حل ہوکر جسم کے ہرہرحصے میں دوران کرتے ہیں اور باریک ترین خون کی نالیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
ج: پانی کیمیاوی طور پر غیرفعال (neutral) ہے، یعنی اشیا میں بغیر تبدیلی لائے ان کی ترسیل کرتا ہے۔ غذا، دوا، معدن وغیرہ میں تبدیلی لائے بغیر جسم کے مختلف حصوں میں پہنچاتا ہے تاکہ جسم ان اشیا کو استعمال میں لاسکیں۔
د۔ پانی میں سطحی دباؤ (surface tension) ہوتا ہے جس کی وجہ سے پانی پودوں اور درختوں کے جسم کی نالیوں میں اُوپر کی جانب کشش ثقل کے خلاف بہتا ہے۔ اس طرح زندگی بردار پانی اوراس میں شامل غذائی اجزا اُونچے اُونچے درختوں کے اُوپری سروں تک پہنچا دیے جاتے ہیں۔
ح۔ پانی اپنی بالائی سطح سے نیچے کی جانب منجمد ہوتا جاتا ہے، لہٰذا صرف بالائی سطح اور کسی قدر زیریں سطح پر یعنی ۳،۴فٹ سرد علاقوں میں برف تیرتی رہتی ہے۔ اس خصوصیت کے باعث مچھلیاں اور دوسرے آبی حیات پانی میں برف کے نیچے سردیاں گزار لیتے ہیں اور منجمد نہیں ہوتے۔
و۔ کرۂ ارض پر ۹۷ فی صد پانی سمندروں میں ہوتا ہے لیکن ارضی کرہ پر حکیم و علیم اللہ نے یہ عجب نظام قائم کردیا ہے کہ سمندری پانی سے ایک خاص طریقہ پر نمکیات علیحدہ کر کے اسے میٹھے یا سادے پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو کرۂ ارض کے تمام علاقوں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سمندری پانی آبی بخارات میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ بخارات بادلوں کی صورت اختیار کرتے ہیں اور ہوا کے دوش پر دُور دراز علاقوں میں پھیلا دیے جاتے ہیں جہاں وہ بارش کی صورت میں برس کر زمین کو سیراب کرتے ہیں، اور زمین پر موجود نباتات، حیوانات اور انسانوں کو صاف اور تازہ میٹھا پانی فراہم ہوتا ہے۔ سمندر میں پانی کو گندگی اور نمکیات سے پاک صاف کرنے اور اس کو زمینی حیات کے لیے قابلِ استعمال بنانے کا اللہ رب العزت کا یہ ایک خوب صورت اور بہترین نظام ہے۔
پانی کے حوالے سے بے شمار آیاتِ قرآنی ہیں۔ ذیل میں صرف تین کا حوالہ دیا جاتا ہے:
  پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، کیا وہ ہماری اس خلّاقی کو نہیں مانتے۔(الانبیاء ۲۱:۳۰)
اور آسمانوں سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اُتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا۔ ہم جس طرح چاہیں کرسکتے ہیں۔ پھر اس پانی کے ذریعے ہم نے تمھارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کیے۔ (المومنون ۲۳:۱۸)
اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں، ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے، پینے میں خوش گوار، اور دوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے، مگر دونوں سے تم تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو اور اس پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس کا سینہ چیرتی چلی جارہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکرگزار بنو۔(فاطر ۳۵:۱۲)
۳۔ انسانی دماغ:یہ بیک وقت مختلف اور بے شمار معلومات کا اِدراک کرتا ہے مثلاً تمام اقسام کے رنگ اور چیزیں جو ہم دیکھتے ہیں، ہمارا اِردگرد کا درجۂ حرارت، ہمارے پیروں کا فرش پر دباؤ اور وہ آوازیں جو ہمارے اِردگرد آتی ہیں، منھ کی خشکی، ہمارے تمام جذبات و احساسات کا اِدراک، ہمارے خیالات اور یادداشتوں کا احاطہ اور ساتھ ہی تمام افعال کا اِدراک مثلاً سانس لینے کا عمل، پلکوں کا جھپکنا، بھوک و پیاس، ہاتھوں اور پیروں کے عضلات کی حرکت وغیرہ۔ ہمارا دماغ ایک سکینڈ میں ایک ملین سے زائد اطلاعات کا اِدراک کرتا ہے اور ان کا جائزہ لیتا ہے اور ان میں سے غیراہم معلومات علیحدہ کرلیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہم مؤثر طریقے پر اپنے اہم کام کرگزرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ہمارا دماغ دوسرے اعضا سے مختلف انداز میں کام کرتا ہے مثلاً ا س کے ذریعے کوئی کام کرنے کی قابلیت، کسی بات کو سمجھنے اور سمجھانے میں دلائل اور ان کی اہمیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح کام کی منصوبہ بندی، کسی بات کا فیصلہ اور اس پر عمل اور دوسرے انسانوں سے تعلق بھی دماغ کے تحت ہوتا ہے۔
قرآنِ حکیم میں اکثر مقامات پر آیاتِ قرآنی کی تلاوت، تدبروتفکر اور ذکروفکر ، فرائض و واجبات کی ادایگی، اچھے اعمال کرنے اور بُرے اعمال سے بچنے کا ذکر سب ہی دماغ اور اس کی صلاحیتوں کے مطابق انجام پاتے ہیں۔ اس اعتبار سے صحیح الدماغی اللہ رب العزت کی بڑی نعمت ہے۔
۴۔ آنکھ:یہ سات ملین رنگوں میں امتیاز کرلیتی ہے۔ اشیا کو دیکھنے کے لیے خود کار فوکس (Focus) کا نظام ہے اور ۵ء۱ ملین معلومات کی بہ یک وقت پہچان کرلیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہائی پیچیدہ دماغ اور آنکھوں کے نظام کی موجودگی اور ان کے کام کرنے کو نظریۂ ارتقا بھی واضح کرنے میں بے بس نظر آتا ہے۔
قرآنِ حکیم بتاتا ہے: ’’اور اس نے تم کو کان، آنکھیں اور دل عطا کیے تاکہ تم شکر کرو‘‘ (النحل ۱۶:۸۷)۔ ’’تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘۔ (السجدہ ۳۲:۹)
۵۔ کائنات کی ابتدا:اب سائنس دانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات ہمیشہ سے اسی طرح قائم نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے۔ یہ ابتدا کیسے ہوئی اور اس کی وجہ کیا ہے؟ اس بارے میں ان کے پاس کچھ زیادہ معلومات نہیں۔ بس ظن اور تخمین سے اتنا بتا دیتے ہیں کہ ابتدا میں ایک شدید دھماکا ہوا جسے ’بگ بینگ‘ یا ’کبیردھماکا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دھماکا برق اور توانائی لیے ہوئے تھا۔ اس کا درجۂ حرارت ایک سو ہزار بلین ڈگری سنٹی گریڈ تھا اور خلا میں چہارطرف تیزروشنی پھیلی تھی۔ بس یہ کائنات کی ابتدا تھی جس کے نتیجے میں سخت گرم مادہ چاروں طرف دُور دُور تک بکھر گیا۔ مادے کا ہرٹکڑا آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتا گیا اور اس کی سرشت میں جیسا کچھ تھا وہ اس میں تبدیل ہوگیا اور وہ چیز نمودار ہوگئی جو اس میں مخفی تھی، مثلاً جگہ، وقت کی ابتدا، اور کائنات میں نظر آنے والی مختلف چیزیں۔ ایک ماہرطبیعیات رابرٹ جسٹرو کا بیان ہے کہ: ’’اس طرح کائنات کی ہرشے کا بیج بو دیا گیا اور کائنات حرکت میں آگئی۔ مثلاً ہرستارہ، ہر سیارہ، ہرزندہ جسم رفتہ رفتہ اپنے اپنے وقت میں وجود پاتے گئے، کائنات بنتی چلی گئی۔ مگر اس کی اصل وجہِ تخلیق کیا ہے، اس کا علم ایک مشکل کام ہے (Message from Prof. Robert Jastrow, Leader U. com, 2002)۔ قرآنِ حکیم کائنات کی ابتدا اور تخلیق کے بارے جو کچھ بتاتا ہے ا س کا اندازہ اس مضمون میں بیان کی گئی آیات سے لگایا جاسکتا ہے۔
۶۔ کائنات یکساں اور متوازن قوانین کے تحت کام کرتی ہے، ایسا کیوں ہے؟:کائنات میں مختلف حالات و واقعات پر غور کیا جائے تو یہ برسوں ایک جیسے نظر آتے ہیں، مثلاً کششِ ثقل ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ ہمیشہ ہوتا ہے کہ میز پر رکھی گرم چائے کی پیالی آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوجاتی ہے، زمین ۲۴گھنٹے سورج کے گرد ایک جیسی رفتار سے چکر لگاتی رہتی ہے، روشنی کی رفتار زمین پر اور کہکشاؤں میں ایک جیسی رہتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں قوانینِ فطرت ایک جیسے رہتے ہیں اور کیوں تبدیل نہیں ہوتے؟ کائنات اتنی منظم، باترتیب اور بھروسے کے قابل کیوں ہے؟ عظیم سائنس دان کائنات کی ان خصوصیات سے مبہوت ہیں۔ کائنات کی یہ منطقی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ان قوانین پر کاربند رہے جب کہ وہ ریاضی کے قوانین پر بھی کاربند رہتی۔ سائنس دانوں کا یہ تعجب اس خیال کا عکاس ہے کہ کائنات کے لیے ضروری نہیں کہ مذکورہ بالا قوانین پر عمل پیرا رہے۔ ایسی کائنات کا تصور آسان ہے جس میں حالات و واقعات لمحہ بہ لمحہ کسی پیش بینی کے بغیر تبدیل ہوتے رہتے ہیں، یا ایسی کائنات جس میں چیزیں ظاہر ہوتی ہوں اور جلد اپنا وجود کھو بیٹھتی ہوں۔ طبیعیات کا نوبل انعام یافتہ سائنس دان رچرڈ فین مین (Richard Feynman) تعجب کا اظہار کرتا ہے کہ یہ معمہ ہے کہ ’’قدرت کیوں ریاضی کے اصولوں پر کاربند نظر آتی ہے اور یہ حقیقت کہ کائنات میں قوانین پر کاربند ہونا ایک تعجب خیز بات ہے‘‘۔ (The meaning of it all. Thought of a citizen - scientist, Newyork Basic Books, 1998)
۷۔ ڈی این اے قانون سے خلیے کے طرزِعمل کا اظھار:ہرزندہ خلیے میں ڈی آکسی رائبوز نیوکلک ایسڈ نامی کیمیاوی مادہ ہوتا ہے۔ یہ چارقسم کے کیمیوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کو سائنس دان A.T.G.C کے حروف سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے جسم کے ہرخلیے میں ان کیمیوں کی ترتیب ایک جیسی ہوتی ہے۔ ایک انسانی خلیے میں یہ اس طرح ترتیب یافتہ ہوتے ہیں: CGTGTGACTCGCTCCTGAT.....۔ ہرخلیے میں اس طرح ترتیب یافتہ تین ملین کیمیے ہوتے ہیں۔ تین ملین کیمیوں پر مشتمل ڈی این اے ہر اس خلیے کو ہدایات دیتا ہے جس میں یہ ہوتا ہے، اور خلیہ ان ہدایات پر خصوصی طور پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ خلیے کی ہدایاتی کتاب ہے۔ قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ننھے سے خلیے میں ایسی محیرالعقل شے کیوں ہے؟ پھر یہ بھی کہ اتنی گمبھیر معلومات کیوں کر خلیے میں سمائی ہوتی ہیں؟ یہ کیمیے سادہ سے کیمیے نہیں ہیں بلکہ خصوصی کیمیے ہیں جن میں خلیے اور اس سے مستقبل کے لیے تفصیلی ہدایات پوشیدہ ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں خلیہ ان خطوط پر ہی پروان چڑھتا ہے جو رفتہ رفتہ خلیے پر واضح ہوتے رہتے ہیں۔ خلیے میں ڈی این اے کے اس نظام کے حوالے سے قدرتی اور حیاتیاتی وجوہات کا اب تک کوئی علم نہیں کہ یہ ہدایات خلیے پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہیں اور خلیہ ان پر کس طرح عمل کرتا ہے۔ ان سب کا علم جان جوکھوں کا کام ہے۔
اللہ رب السمٰوات والارض سے متعلق مذکورہ بالا چند نشانیوں اور ان کے سائنسی حقائق سے متاثر ہوکر بعض دہریے اور بعض سائنس دان بھی اللہ کی طرف رجوع ہوئے ہیں۔ یہ بدیہی حقیقت سب کو جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا حسّی مشاہدہ ناممکن ہے۔ اُس کو صرف کائنات میں پھیلی نشانیوں پر صحیح غوروفکر کے ذریعے ہی سمجھا جاسکتا ہے اور اُس پر مکمل یقین لانے کے لیے تو آسمانی کتب خصوصاً قرآنِ حکیم میں بیان کردہ نشانیاں نہایت اہم ہیں اور اس سے بڑھ کر ان انسانوں کی سیرت و کردار سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے جو اللہ رب العزت کے متعین کردہ پیغمبر اور اس کے رسول ہیں خصوصاً آخری پیغمبر اور رسولؐ اللہ کی شخصیت اور سیرت کے گہرے مطالعے ہی کے ذریعے ممکن ہے۔


 نمازاور صحت جدید سائنس کی روشنی میں

ڈاکٹر نبیلہ ظہیر بھٹی


نماز سب سے افضل عبادت ہے۔یہ بدنی عبادت ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں ہی بازپرس ہوگی۔ نمازی کو یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے حضوراس کے حکم کی تعمیل میں حاضر ہے اور اس کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کررہا ہے۔ عبادات میں سے نماز کی تاکید قرآن وحدیث میں سب سے زیادہ ہے، لہٰذا اس کے فوائدو ثمرات بھی دنیا وآخرت میں بہت زیادہ ہیں۔یوں تو اہل علم نے نماز کے اجتماعی،سماجی،اور اخلاقی فوائد پرکافی گفتگو کی ہے مگر نماز کے صحت سے متعلق فوائدپرسیر حاصل بحث نہیں کی۔اس مضمون میں نماز کے صحت سے متعلق فوائد وبرکات پر مختصرا عرض کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی علوم و معارف میں جتنا اضافہ ہوتا جائے گا، اسلامی عبادات کے اسرار، حکمتیں اور فوائد بھی اتنے ہی زیادہ ظاہر ہوتے جائیں گے۔

امراضِ قلب سے حفاظت

نماز کے یوں تومتعدد صحت بخش فوائد ہیں مگر اس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کوامراضِ قلب سے محفوظ رکھتی ہے۔انسانی دل ہر وقت دھڑکتا رہتا ہے،یہ اس کا زندگی بھر کا معمول ہے۔تاہم جب نمازی نماز کے دوران رکوع وسجود کرتا ہے تو اس سے دل کو سہولت وآرام ملتا ہے۔ اس کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔اس سے پہلے کہ ہم ان صحت بخش فوائد کا تجزیہ کریں،جو نمازکی بدولت انسان کے دل اور اس کے بدنی اعضا کو حاصل ہوتے ہیں، ضروری ہے کہ ہم دل کی کارکردگی اور اس کی اہم سرگرمیوں کو جانیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ دل جسم انسانی کااہم ترین عضو ہے۔دل تو اس وقت بھی کام کر رہا ہوتا ہے جب انسان ابھی جنین کی صورت میں اپنی ماں کے رحم میں ہوتا ہے۔اس وقت سے لے کرانسان کی زندگی کے آخری لمحات تک دل مسلسل جسم کی تمام اطراف وجوانب میں خون پہنچانے میں مشغول رہتا ہے۔
سینے کی سطح سے بلندجتنے اعضا ہیں، مثلاً سر،ان تک خون پہنچانادل کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ان تک خون کودھکیلنے کے لیے اسے زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔ تاہم، جب انسان رکوع اورسجدے کی حالت میں ہوتا ہے تو دل کے لیے دماغ، آنکھ، ناک، کان اور زبان وغیرہ تک خون پہنچانا آسان ہوجاتاہے کیونکہ ان اعضا کا تعلق سر سے ہے اور سر سجدے میں دل سے پست وزیریں سطح پر ہوتا ہے۔اس حالت میں دل کی سخت مشقت میں کمی اور اس کے کام میں تخفیف ہو جاتی ہے۔دل کو یہ آرام و راحت صرف سجدے کی حالت میں نصیب ہوتا ہے۔اس لیے کہ جب ہم کھڑے ہوتے ہیں یا بیٹھتے ہیں یا جب ہم تکیے پر سر رکھ کر لیٹتے ہیں تو سر دل سے اونچائی کی حالت میں ہوتا ہے لہٰذا ان صورتوں میں دل کو مکمل آرام نہیں ملتا۔ لیکن سجدے کی حالت میں دل کا کام آسان ہو جاتا ہے،جیسے گاڑی نشیب کی طرف چلنے میں آرام میں رہتی ہے۔
اس پر ہرگز تعجب نہ ہونا چاہیے کہ دل کو سجدے کی حالت میں اپنی کارکردگی میں جوآسانی اور سہولت ملتی ہے،اس سے دل کے دورے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔دل کا دورہ پڑنا اس دور کی عام پھیلی بیماریوں میں سے سب سے خطرناک ہے۔یاد رہے کہ دل جب اپنی مسلسل محنت سے تھک جاتا ہے تو انسان کوسستی،کمزوری،اضمحلال،سردرد،سرچکرانا،سینے میں درد،بے ہوشی اور خرابی طبیعت کا سامناکرنا پڑتا ہے۔جدید طب میں ان تمام علامات کا علاج یہ ہے کہ دواؤں کے ذریعے دل کو سرگرم ومستعد کر دیا جائے۔دواؤں کے ذریعے دل کو یوں مصنوعی طور پر سرگرم ومستعدکرنے کے نتیجے میں کبھی کبھی دل تباہ ہی ہو جاتا ہے،اور اس کی مکمل بربادی سے پہلے اس کی طبیعی کارکردگی بتدریج کم زور پڑنے لگتی ہے،مگر رات اور دن میں کئی باررکوع و سجود کرنے والے کا دل بہت سے اوقات میں راحت وآرام پالیتا ہے۔نمازی کے دل کو ملنے والا یہ آرام، دل کے سخت مشقت کے عمل میں تخفیف ( relief)کاسبب بنتا ہے اور خطرات سے بچنے میں دل کی مدد کرتا ہے۔

دماغ کو تقویت

سجدہ کرنے کے فوائدمحض دل تک محدود نہیں ہیں بلکہ سجدہ کرنے سے دماغ کو بھی مدد ملتی ہے تا کہ وہ اپنی کارکردگی کوپوری چستی ومستعدی کے ساتھ سرانجام دے سکے۔ مزیدبرآں یہ کہ سجدہ کرنے سے انسان دماغ کی جریانِ خون( hemorrhage)سے بچ جاتا ہے۔ دماغ سے خون کا یہ بہنادماغ کی داخلی رگوں کے ٹوٹنے سے ہوتا ہے اور یہ نتیجہ ہوتا ہے بلند فشارِخون(ہائی بلڈ پریشر)کا، یاشوگر کی بیماری کا، یا خون میں کولسٹرو ل کی مقدار زیادہ ہونے کا، یا ان دیگر اسباب کا جو جدید طرزِزندگی کے تلخ ثمرات ہیں۔حتی کہ یہ مرض انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک صورت اختیار کرچکا ہے۔
muslim prayer 2
کئی بارسجدہ کرنے والے نمازی کے دماغ کوایسی قوتِ مدافعت مل جاتی ہے کہ وہ دماغ کے جریانِ خون سے محفوظ ہو جاتا ہے۔وہ اس لیے کہ سجدے کی حالت میں سر تک خون زیادہ اور خوب پہنچتا ہے کیونکہ سردل سے نچلی حالت میں ہوتا ہے۔پھر نمازی کے دماغ کی شریان کو بار بار یہ موقع ملتا ہے کہ خون کی ایک بڑی مقدارسجدے کی حالت میں سر تک پہنچتی رہتی ہے۔یوں دماغ کی شریان کو اتنی قوت مل جاتی ہے کہ فشارِخون کے وقت وہ ہمہ گیرتباہی مچانے والے خون کے گزرنے کوبرداشت کر لیتی ہے۔ یہ بالکل ایسا عمل ہے جیسے مسلسل ورزش،مشقت،ریاضت اور کسرت کرنے سے انسان کے پٹھوں کوقوت وطاقت ملتی ہے۔
نماز کے دوران ایسی جسمانی ورزش ہوتی ہے جو تمام لوگوں کے لیے موزوں ہے۔ نماز کے سجدے اور رکوع بدن کے قدرتی وظائف اور ان کی طبیعی کارکردگی میں رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ نماز کی تمام حرکات___ رکوع، سجود، جلسہ،قیا م___انسان کی طبیعت اور اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔نماز میں زندگی کے کسی بھی طبقے اور عمر کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے صحت کا کوئی خطرہ یا نقصان نہیں،بلکہ سراسرفوائد ومنافع ہی ہیں۔

اوقاتِ نماز میں حکمت

پانچوں نمازوں کے اوقات مقرر کرنے میں بھی حکمت ہے۔ انسان جب صبح سویرے نیند سے بیدار ہوتا ہے تو وہ راحت و نشاط محسوس کرتا ہے،چنانچہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ نے صرف دو رکعات نماز فرض کیں۔اس کے سات یا آٹھ گھنٹے بعدتک انسان اپنے کام کاج میں مصروف رہتا ہے،لہٰذا اللہ نے اس طویل دورانیے میں کوئی نماز فرض نہیں کی۔ ظہر کے وقت انسان اپنے کام کی وجہ سے تکان محسوس کرنے لگتا ہے،اس وقت کے لیے اللہ نے چار فرض مقرر فرمائے ہیں۔سنن و نوافل اس سے الگ ہیں۔نمازِظہر ادا کرنے کے تقریباًتین چار گھنٹے بعدنمازِ عصر کا وقت ہو جاتا ہے،جب کہ عصر کے تقریبا دو گھنٹوں بعدمغرب کی تین رکعات ادا کرنا فرض فرمائیں، اور مغرب کے تقریبا ڈیڑھ دو گھنٹے بعدعشاء کی چار رکعات فرض ہیں۔
ان اوقات کوگہری نظرسے دیکھنے پر ہم پر یہ بات واشگاف ہوگی کہ ان پانچ اوقات میں وقفوں کے تھوڑا یا زیادہ ہونے کا تعلق انسان کی تھکاوٹ اور چستی سے ہے۔دن کے آغاز میں جب جسمِ انسانی تازہ دم اور آرام میں ہوتا ہے، نماز کی رکعات کی تعداد کم ہوتی ہے۔دن کے اختتام پرجب انسان تھکاوٹ، اُکتاہٹ اوربے چینی زیادہ محسوس کرتا ہے تو اللہ نے اس پرتھوڑے تھوڑے وقفوں سے زیادہ رکعات والی نمازیں فرض کی ہیں۔اس سے ہم یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ نماز جسمِ انسانی کوچست اور تازہ دم رکھتی ہے،جیسے کہ وہ بے حیائی اور برائی سے باز رکھتی ہے۔

نماز سے گردوں کی کار کردگی میں مدد

طبی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کھڑے ہونے یاورزش کرنے کی حالت میں،جسمِ انسانی میں گردوں کی طرف خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے،جب کہ سجدے یا لیٹنے کی حالت میں خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ان تجربات کی روشنی میں سائنس دانوں نے یہ حقیقت دریافت کی ہے کھڑے ہونے اور بیٹھنے کی صورتوں میں گردوں کی طرف خون کا بہاؤکم ہو جاتا ہے،جب کہ رکوع و سجود کی حالتوں میں یہ بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔سارا دن کھڑے رہنے والوں پر کیے گئے مطالعے سے یہ واضح ہواہے کہ ان لوگوں میں گردوں کی طرف خون کے بہاؤ کی مقدارکم ہوتی ہے۔نیز کھڑے رہناان میں پیشاب کی مقدار کوکم کرنے کا سبب بنتا ہے۔سجدہ کرتے اور لیٹتے وقت خون کے اس بہاؤ کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔جب گردے کی طرف خون کی رو میں تیزی ہوتی ہے تو گردوں کے پردوں پردباؤپیدا ہوتا ہے اور ان میں خون کی صفائی کاعمل بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیشاب کی مقداربھی بڑھ جاتی ہے۔سجدے کی حالت میں پیشاب کی مقدار کے بڑھنے کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ گردوں کی جانب خون کے بہاؤمیں اضافہ ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رکوع،سجود اور لیٹنے کی حالتوں میں پیشاب بننے کا عمل بڑھ جاتا ہے۔ اگر ہم نماز اداکرنے سے پہلے پیشاب نہ کریں تو دورانِ نماز کوفت ہوتی ہے۔یہاں پر اس بات کی طرف اشارہ کرنا موزوں ہوگاکہ رسولِ اکرمؐ نے پیشاب پاخانہ روک کرنماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ نماز اداکرنے سے پیشاب بننے کے عمل میں تیزی پیدا ہوتی ہے،جس سے دورانِ نمازاس طرف دھیان زیادہ ہوتا ہے،حتی کہ نمازی کا خیال نماز سے بالکل ہٹ جاتا ہے۔
l نمازسے شوگر کے مرض میں کمی:جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ لیٹنے اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے سے صحت کی ان خرابیوں میں کمی ہوتی ہے جن کا شوگر کے مریضوں کو سامنا ہوتا ہے۔اس لیے کہ شوگر کے مریض جب طویل مدت تک کھڑے رہتے ہیں تو پیشاب کے ذریعے ان کے جسموں سے البومین(albumin)کی خاصی مقدارمزید کم ہو جاتی ہے۔انھیں تھکاوٹ اورکمزوری ہو جاتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ لیٹنے کا یہی فائدہ شوگر کے مریضوں کونماز میں رکوع وسجود سے مل جاتا ہے۔ایک طبی تجربے کے بعدشوگر کے مریضوں نے اپنی جسمانی تکالیف میں، اس وقت راحت اور کمی پائی،جب انھیں بہت تھوڑی مدت کے لیے لیٹنے کا موقع دیا گیا۔ وہ بیمار جنھیں کام کے دوران لیٹنے کا موقع کم ملتا ہے، اگر وہ اس دوران نمازیں ادا کر لیں تو نماز اور سجدوں کی برکت سے وہ لیٹنے سے بھی زیادہ استراحت کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ دیر تک کھڑے رہنا،بیٹھنا اور سخت مشقت کرنا مناسب نہیں۔ ہاں، وہ کچھ ہلکی ورزشیں اور کام کر سکتے ہیں۔ان ہلکی ورزشوں میں سے نمایاں ترین نماز ہے،کیونکہ نماز سے کسی نفس پر اس کی استطاعت وگنجایش کے مطابق ہی ذمہ داری پڑتی ہے۔نماز کے اجزا میں سے اہم ترین سجود ہیں۔یہ ایک ایسی آسان ورزش ہے جو دل کو کافی آرام پہنچاتی ہے۔اس سے تمام اعضا تک آسانی سے خون پہنچتا ہے بلکہ سجدہ کرنا تو لیٹنے سے بھی زیادہ مفید ہے۔کیونکہ اس سے شوگر کے مرض کی علامات اور شکایات میں کمی کرنے میں مدد ملتی ہے۔بالفاظِ دیگر نماز جسمانی ورزش کی تمام اقسام سے افضل ہے۔نیز نماز دل کو راحت پہنچانے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔

نماز اور خواتین

جدید تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ نماز جیسی بدنی حرکات اور ورزش حاملہ خواتین کو بہت زیادہ فائدہ دیتی ہیں، جب کہ ایامِ ماہواری میں سے گزرنے والی خواتین کوبہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔نمازگزار جب رکوع و سجود سے کھڑی ہوتی ہے تو رحم کی جانب خون کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔بلاشبہہ حاملہ خاتون کے رحم کو وافر خون کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ جنین کو خوب غذا مل سکے اور جنین کے خون کی آلودگیوں سے صفائی ہو سکے۔حائضہ اگر نماز ادا کرے تواس کے رحم کی طرف زیادہ خون جاتا ہے اور یہ ایک بے فائدہ کام ہوگا۔ اگر بالفرض حائضہ نماز پڑھے تو یہ نماز ادا کرنا اس کے بدن کے دفاعی نظام کے خراب ہونے کا سبب بنتا ہے، کیونکہ خون کے سفید ذرات ضائع ہو جاتے ہیں، جو بدن کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
طبی نقطۂ نظر سے حائضہ خواتین کو ورزش اورپرمشقت کام کرنا مناسب نہیں۔دینی لحاظ سے ان پرنما ز ادا کرنا حرام ہے کیونکہ جسم کی حرکت سے___ بالخصوص رکوع و سجود میں___ خون رحم کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور یوں وہ بے مقصد ضائع ہوجاتاہے اورجسم سے معدنی نمکیات ضائع ہوجاتے ہیں۔ڈاکٹر خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایام کی حالت میں آرام کریں اور بہتر غذا استعمال کریں تاکہ ان کے جسم سے خون ضائع نہ ہو اور خون کی کمی سے قیمتی نمکیات رائیگاں نہ ہوجائیں۔دینِ اسلام نے اسی حکمت کے تحت حائضہ خواتین کو روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے۔ان ایام کے آغاز سے پہلے خواتین کو تھکاوٹ،پشت اور ٹانگوں میں درد، قبض کی شکایت، اسہال، سردرد اور پیشاب میں اضافہ وغیرہ کی تکالیف ہوتی ہیں۔اس بات کا بھی احتمال ہوتا ہے کہ خاتون کوماہانہ معذوری سے پہلے غصہ، جھنجھلاہٹ، مایوسی، بے چینی اور طرزِعمل میں فرق کاسامنا کرنا پڑے، حتیٰ کہ اس مدت میں میاں بیوی کے مابین لڑائی جھگڑے کی بھی نوبت آجاتی ہے۔نماز کے فوائد ناقابلِ شمار ہیں،اگرنفسیاتی اضطرابات میں مبتلا لوگ نماز اداکریں تو وہ ان سے نجات پاسکتے ہیں۔

نماز سے پھیپھڑوں کے امراض سے تحفظ

سجدے کی حالت میں پھیپھڑے کے پہلے حصے کی طرف خون کی ایک بہت بڑی مقدار پہنچتی ہے۔ یاد رہے کہ اسے خون کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔سجدوں کی برکت سے اس کا تدارک ہو جاتا ہے۔ ذرا اس طرف دھیان دیجیے کہ نماز کی ادایگی ان اوقات میں فرض کی گئی ہے جن میں انسان کام کاج میں مشغول ہوتا ہے نہ کہ لیٹنے اور نیند کے اوقات میں ۔معلوم ہوا کہ سجدے کرنا پھیپھڑوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سجدوں اور رکوع کی حالت میں خون پھیپھڑوں کی تمام اطراف میں پہنچتا ہے اور نقصان دہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ کے بجاے آکسیجن لے کر پھیپھڑوں میں سے گزرتا ہے۔بلاشبہہ نماز جسم کو چستی ، چوکسی اور تازگی فراہم کرتی ہے ۔سجدے سے پھیپھڑو ں کے خون کی صفائی میں مدد ملتی ہے۔ پھیپھڑوں کی طرف رواں خون کی بہتات کے راستے میں آسانی ہو جاتی ہے۔میڈیکل سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ پھیپھڑوں میں کینسر کو اس وقت رونما ہونے کا موقع ملتا ہے جب اس کے خلیات کو آکسیجن نہیں مل پاتی۔علاوہ ازیں پھیپھڑے کے خلیے میں آکسیجن کی کمی دیگر امراض کے ظہور کا سبب بنتی ہے، کیونکہ پھیپھڑوں کی طرف پہنچنے والے خون میں کمی کی بنا پر قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔یہیں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کو برقرار رکھنے کے لیے قیلولہ کس قدر ضروری ہے۔ جب پھیپھڑ ے کی طرف خون کے بہاؤ میں کمی ہوتی ہے تو پھیپھڑے کے پہلے حصے پر مرضِ سل(ٹی بی) حملہ آور ہوتا ہے۔ کیونکہ پھیپھڑوں کی طرف جانے والے جراثیم پھیپھڑے کے درمیانی حصے میں اکھٹے ہوتے رہتے ہیں۔ اگر پھیپھڑے تک وافر مقدار میں خون پہنچنا ممکن ہو تو تمام خلیات سیراب ہوتے ہیں۔ یہ سیرابی ، ان خلیات کو قوتِ مدافعت بخشنے کا اہم سبب بنتی ہے۔ سجدے پھیپھڑوں کے خلیوں کو قوتِ مدافعت دیتے ہیں اور انھیں بیماریاں لگنے سے محفوظ بنا دیتے ہیں۔

ہارمونزکی مستعدی میں نماز کے اثرات

جاپان کی ہیروساکی یونی ورسٹی کے میڈیکل کالج کے ایک سائنس دان تکاہاشینوبیوشی نے پیشاب کے بارے میں اپنے تحقیقاتی مطالعات کے بعد بتایا ہے کہ زیادہ دیر تک کھڑے ہونے کی صورت میں جسم میں ضرررساں ہارمونز بننے میں اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ اس حالت میں نفع رساں ہار مونزکی پیدایش کم ہوجاتی ہے۔لیٹنے کی حالت میں مفید ہارمونز کی افزایش بڑھتی ہے اور نقصان دہ ہارمونز کی تعدادگھٹتی ہے۔ ان ہارمونزکی بناوٹ میں سجدے کی حالت بھی لیٹنے کی حالت سے ہی مشابہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ سجدوں کی حالت کو اس حالت کی مانند ہی سمجھا جاتا ہے جو جسم کوصحت کے فوائد عطا کرتی ہے اور پھر اس پرزیادہ وقت بھی صرف نہیں ہوتا۔سجدے قلب دماغ،گردوں،پھیپھڑوں اوردیگر تمام اعضا کوفائدہ پہنچاتے ہیں۔ ملحوظ رہے کہ بعض منفعت بخش ہارمونز کے بننے سے جسم کو کچھ فائدے ملتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان فجر کے وقت تازگی ونشاط محسوس کرتا ہے،کیونکہ اس کے جسم میں کورٹیسون کی مقدار زیادہ ہوتی ہے مگر شام کووہ جسم سے کورٹیسون کے جاتے رہنے سے تھکاوٹ، سُستی،اور اضمحلال محسوس کرتا ہے۔ کورٹیسون کی کمی سے انسان اپنی ہڈیوں میں بوجھ محسوس کرتا ہے، خون میں کیلشیم بڑھ جاتا ہے اور دانتوں اور ہڈیوں کو طاقت فراہم کرنے والے وٹامن کی تحلیل میں گڑبڑہو جاتی ہے۔کھڑے ہونے کی حالت میں خون کی رگوں میں سکڑنے اور سمٹنے کی بناپر کورٹیسون ہارمون کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ فشارِخون کی حفاظت ہو سکے۔ اگر یہ ہارمون حد سے زیادہ ہو جائے تو اس کا جسم پر منفی اثر پڑتا ہے۔انسان گھبراہٹ،بے آرامی،بے چینی اور غیظ وغضب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

تہجد کی فضیلت اور دائیں کروٹ سونے کا فائدہ

طبی تحقیقات و مطالعات نے ثابت کر دیا ہے کہ سونے کی جتنی بھی شکلیں ہیں ان میں سے سب سے بہتر دائیں کروٹ سونا ہے۔نبی رحمتؐ نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر آؤتو اس طرح وضو کر لوجیسے تم نماز کے لیے وضو کرتے ہو،پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ۔ انسان جب دائیں جانب لیٹ کر سوتا ہے تو دل کا شمالی حصہ تقریباً چار سنٹی میٹر بلند ہوتا ہے۔ دل سینے میں بالکل عمودی حالت میں واقع نہیں ہے،بلکہ وہ سینے کی نیچے جانب بائیں طرف کو جھکا ہوا ہے،جب کہ دل کی بلند جانب دائیں طرف ۱۰ درجے کی مقدارمیں ہے۔لہٰذا دائیں کروٹ سونا اس بات میں مدد کرتا ہے کہ بائیں حصے سے، یعنی دل کے اُونچے حصے سے خون جسم کی تمام اطراف میں شریان کبیر (aorta)کے ذریعے جاری رہے۔
دائیں طرف سونے کی حالت میں___ بائیں ہاتھ کے ماسوا___تمام اعضاے بدن یا تو دل کی سطح کے برابر ہوتے ہیں یا دل سے نیچے ہوتے ہیں،لہٰذا خون جسم کے زیادہ تر اجزا میں تیزی اور آسانی کے ساتھ___کشش ثقل کے قانون کی رُو سے___ جاری ہوتا ہے جس سے جسم کو بہت راحت وسکون ملتا ہے۔دل کو یہ راحت کھڑے ہونے،بیٹھنے یا چلنے کی حالتوں میں نہیں ملتی کیونکہ ان حالتوں میں دل اس پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ ان اعضا تک خون پہنچائے جو ۹۰درجے کے زاویے کی مقدار میں اس سے اونچے ہوتے ہیں۔ جب ہم نیندسے بیدارہونے کے بعدنمازِتہجد ادا کرتے ہیں تو خون دائیں اور بائیں دونوں جانب برابر چلتا ہے۔سجدوں کی حالت میں دل کا عمل ہلکا ہو جاتا ہے،کیونکہ دل آسانی کے ساتھ خون کو سر تک پہنچاتا ہے، یوں دل کو آرام کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔مزیدبرآں یہ کہ دماغ،پھیپھڑے اور دل سے مربوط رگیں اور سینے سے اُوپر تک واقع تمام اعضا،سجدے کی حالت میں دل کی سطح سے نیچے ہوتے ہیں، لہٰذا خون آسانی اور تیزی کے ساتھ ان اعضا تک پہنچتا ہے۔ یوں نمازِتہجد نماز گزار کی تندرستی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نمازِ تہجد کے وقت ہر طرف خاموشی ہوتی ہے۔ تہجدگزار کو نماز کے کلمات و اذکار، خصوصاً قرآنِ مجید کی آیات میں تدبر، غوروفکر اور تامل کا موقع ملتا ہے۔ سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ غوروفکر سے نفسیاتی دباؤ کم ہوجاتا ہے۔ دل کی دھڑکنیں پُرسکون ہوتی ہیں۔ غوروفکر سے شریانوں پر حملے کا احتمال کم ہوجاتا ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ رات کے تین بجے سے لے کر صبح کے چھے بجے کے مابین جسمِ انسانی میں، خون میں کورٹیزون کے بلند ہونے سے، اس وقت دل کی دھڑکنوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ فضا میں اوزون کی موجودگی سے اس کا اثر جسم پر پڑتا ہے۔ لہٰذا اس وقت اگر ہم نمازِ تہجد، نمازِ فجر اور تلاوتِ قرآن کریم میں مشغول ہوجائیں تو ان اعمال کی برکت سے ہم اس دورانیے کے مضر اثرات اور ان سے جنم لینے والے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

نماز اور ذہنی صحت

مسلمان ہمیشہ پر امن رہے ہیں۔ ان کا دین اسلام ہے جس کے معنی ہی سلامتی ہیں۔مسلمان جب بھی کسی انسان سے ملتا ہے تو اسے السلام علیکم کہہ کر، سلامتی ورحمت کا تحفہ دیتا ہے۔جدید تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ نماز تشدد،سختی اور جرائم سے باز رکھتی ہے۔مسلمان جب سجدہ کرتا ہے تو اس کے دماغ تک وافر مقدار میں خون پہنچتا ہے۔چنانچہ مغز میں برپا ہونے والے برقی وکیمیاوی عمل میں سجدے سے مدد ملتی ہے۔ اس سے نمازی کو بردباری اور سمجھ ملتی ہے،جب کہ سجدہ نہ کرنے والوں کے دماغ اس تروتازگی اور تراوٹ سے خالی اور محروم رہتے ہیں۔ ان کے دل نرمی سے دُور رہتے ہیں۔نماز انسان کو نہ صرف سختی اورتشدد سے باز رکھتی ہے بلکہ بے حیائی اوربرائی سے بھی روکتی ہے۔اگر ہم امتِ مسلمہ اور غیر مسلموں دونوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں اوران میں جرائم کی شرح کا موازنہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ اُمتِ مسلمہ میں مظالم و منکرات کم ہیں، جیسے سودخوری، بدکاری،شراب نوشی،منشیات کا استعمال، استعماریت، لوٹ کھسوٹ اور جنسی بے راہ روی، ایڈز وغیرہ۔ یہ تمام مہلک امراض مسلمانوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان میں بھی وہی نام نہاد مسلمان مبتلا ہوتے ہیں جو اسلام سے قطعی دور اور غیر اسلامی طرزِزندگی کے قریب تر ہوتے ہیں۔اُمتِ مسلمہ تو اپنے پروردگار کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے۔اس لیے مسلمانوں میں رافت،نرم دلی،رحمت،عدل اور احسان کی صفاتِ حسنہ پائی جاتی ہیں۔یہ نتیجہ ہے ایمان اور عبادات کی ادایگی کا۔ سختی، تشدد، خیانت اور دھوکا یہ سب شرک و کفر کے کڑوے پھل ہیں۔ یہ انھی دلوں میں اُگتے ہیں جن پر اللہ نے ان کے کفر وتکبر کی وجہ سے لعنت کی ہے۔

مچھر ۔ اللہ کی قدرت کی نشانی ۔ جدید سائنس کی روشنی میں


 قرآن میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو باربار اس طرف متوجہ کیا ہے کہ مظاہر فطرت پر غوروفکر کریں اوران میں اس کی " نشانیاں" تلاش کریں ۔ دنیا کی تمام جاندار اور بے جان چیزیں اپنے اندر ان نشانیوں کو لئے ہوئے ہیں ۔ وہ اس بات کو منعکس کرتی ہیں کہ انہیں "بنایا" گیا ہے ۔ وہ اپنے  "بنانےوالے " یا تخلیق کارکی قوت ،علم اور فن کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔ یہ انسان کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے کہ وہ اپنی عقل کو کام میں لاتے ہوئے ان نشانیوں کی شناخت کرے اور اللہ کی تعظیم بجا لائے ۔
تمام جانداروں میں یہ نشانیاں موجود ہیں لیکن چند ایک خاص طور پر وہ ہیں جن کا ذکر اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے ۔ ان جانداروں میں سے ایک مچھر ہے ۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 26 میں مچھر کا ذکر یوں آیا ہے :
إِنَّ اللَّـهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِ‌بَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَ‌ادَ اللَّـهُ  بِهَـٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرً‌ا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرً‌ا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں، وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کرتا ہے، جو فاسق ہیں
مچھر بے شک ایک معمولی اور غیر اہم سا جاندار ہے  مگراس پر بھی غوروفکر کیا جانا چاہیے کیونکہ ا س میں بھی اللہ کی نشانیاں ہیں ۔ اسی لئے " اللہ ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے "۔
مچھروں کی غیرمعمولی مہم
مچھروں کے بارے میں عام طور پر یہ مشہور ہے کہ یہ خون چوستے اور اسی خون پر زندہ رہتے ہیں مگر یہ بالکل سچ نہیں ہے اس لئے کہ تمام مچھر خون نہیں چوستے ،صرف مادہ مچھر خون چوستے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ

قرآنی آیات کے دم کرنے سے پانی میں حیرت انگیز تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں ۔جاپانی سائنسدان کا دعوٰی


معروف جاپانی تحقیق کار اور پروفیسر’’مسارو ایموتو‘‘کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام لینے اور پانی پردم کرنے سے اس کی خاصیت تبدیل ہوجاتی ہے۔ جبکہ اس پانی کی اثر پذیری میں بھی انتہائی  اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی کلام میں استعمال کئے جانے والے بدترین اور بہترین کلمات سے بھی یہی اثر رونما ہوتا ہے۔اس حوالے سے جاپانی پروفیسرکا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے پانی پرکی جانے والی تحقیق کے بعد یہ راز آشکار ہوا۔ پانی پر قرآن کی آیات اور خاص طور پر’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘پڑھ کر دم کرنے کے بعد اس قطرے کا انتہائی طاقت ور دور بین سے معائنہ کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ پانی کے قطرے نے اپنی شکل پھول کی طرح بنالی اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ پانی کے قطرے نے کلام الٰہی کا اثر قبول کیا ہے
اور شگفتہ انداز میں دکھائی دے رہا ہے، جبکہ یہ بھی ریکارڈ کیا گیا کہ جب پانی کے ایک قطرے پر شیطانی کلمات پڑھے گئے اور برے الفاظ ادا کرکے اس پر دم کیا گیا تو دور بین کی مدد سے یہ دکھائی دینے لگا کہ پانی کے اس قطرے نے اپنی شکل تبدیل کرلی اور اس کی ہیئت انتہائی خراب دکھائی دینے لگی، جس سے ایسا محسوس ہوا کہ پانی کے اس قطرے نے خراب کلمات کا بھی اثر لیا ہے۔
 جاپانی پروفیسر نے حال ہی میں آب زم زم پر بھی سیر حاصل تحقیق کی ہے اور جرمن تحقیق کاروں کی جانب سے کئے جانے والے اس دعوے کو رد کردیا ہے کہ انہوں نے آب زم زم کی خاصیت اور ہیئت ترکیبی کا پتا چلایا ہے، پروفیسر’’مسارو ایموتو‘‘کا استدلال ہے کہ ان کی جانب سے آب زم زم کی بعض خصوصیات کا پتا ضرور لگایا گیا ہے لیکن ابھی تک آب زم زم کی مکمل خاصیت اور بالخصوص ہیئت ترکیبی کا پتا چلانا انتہائی مشکل کام دکھائی دیا ہے اور یہ ابھی تک تحقیق کے مراحل میں ہے۔ واضح رہے کہ ’’ہیڈو یونیورسٹی‘‘کے بانی،جاپانی تحقیق کار اور پروفیسر’’مسارو ایموتو‘‘  سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کے دورے پربھی آئے تھے اور یہاں انہوں نے کئی لیکچر بھی دئیے تھے۔